گلگت ایجنسی لیز بمقابلہ کراچی ایگریمنٹ

گلگت ایجنسی لیز ایگریمنٹ   چھبیس مارچ 1935 کو ریاست جموں کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ اور بھارت میں برطانوی وائسرائے کے درمیان طے پایا۔  اس ایگریمنٹ کے تحت ساٹھ سال کے لیے  گلگت صوبہ واضح شرائط کے ساتھ  برطانیہ نے پٹے پر لے لیا تھا ۔ 

گلگت صوبہ کے انتظامی اور فوجی معاملات بے شک   برطانیہ کے پاس چلے گئے تھے،  جس کی وجہ  برطانیہ کے لیے سوویت یونین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا خطرہ بتایا جاتا  تھا۔ لیکن مہاراجہ جموں کشمیر  بھی اپنے حقوق واختیارات سے مکمل دستبردار نہ ہوا ۔  مہاراجہ نے یہ معاہدہ انتہائی باریک بینی سے کیا۔ یہ واضح کیا گیا کہ گلگت صوبہ ریاست جموں کشمیر کا حصہ رہے گا اور ساٹھ سال کی مدت پوری ہونے پر معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ ان ساٹھ سالوں کے دوران مہاراجہ کے یوم پیدائش اور ریاست جموں کشمیر کے تمام قومی تہواروں پر مہاراجہ کو سلامی پیش کی جائے گی اور سال بھر قومی پرچم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پر لہراتا رہے گا۔ عام حالات میں برٹش انڈین فوج کو اپنی جگہ سے ادھر ادھر کرنے کی اجازت بھی نہ تھی۔ 

یہ معاہدہ ریاست جموں کشمیر کے حکمران نے دنیا کی اس وقت کی ایک بڑی مضبوط و مستحکم بادشاہت کے ساتھ کیا جس سے مہاراجہ کی سیاسی بصیرت اور خود اعتمادی کا ٹھوس ثبوت ملتا ہے۔ برطانیہ بر صغیر میں طاقت کے بل بوتے پر تھا لیکن پھر بھی جموں کشمیر جیسی بہ نسبت بہت چھوٹی ریاست کے حکمران نے برطانیہ سے ضروری شرائط منوالیں۔ اس کے  برعکس پاکستان جسے آزاد کشمیر کا بڑا بھائی کہا جاتاہے، وہ آزاد کشمیر کے ساتھ  کراچی معاہدہ کے تحت گلگت میں داخل ہوتا ہے۔ مگر معاہدے کے خد و خال اور شرائط واضح نہیں۔

گلگت لیز ایگریمنٹ میں دونوں فریقوں کے درمیان سیاسی فوجی اور اقتصادی قوت کا فرق نظر نہیں آتا لیکن کراچی ایگریمنٹ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ ایک کمزور اور طاقت ور فریق کے درمیان ہوا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ پاکستان وہاں کتنی مدت کے لیے گیا اور کن شرائط کے تحت گیا۔ پاکستان نے گلگت میں داخل ہو کر آزاد کشمیر کے سیاستدانوں پر  گلگت میں داخلے پرعملی پابندی عائد کی اور آزاد کشمیر حکومت کو بولنے کی جرات تک نہ ہوئی۔ گلگت بلتستان میں آزاد کشمیر کا عمل دخل ختم کرکے پاکستان نے غاصبانہ رویہ اپنایا۔ بڑے بھائی کے دعویدار نے گلگت و بلتستان میں تعمیر و ترقی پر توجہ دینے کے بجائے وہاں جنگل کا قانون قائم رکھا۔ پہلے ریاستی باشندہ کا قانون ختم کیا اور پھر گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی سازش کا آغاز کر دیا۔ اب آزاد کشمیر کو بھی صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس پر آزاد کشمیر میں سخت رد عمل سامنے آیا ۔ اصل مقصد ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی کی تحریک کو ناکام بنا کر مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ہے۔ 

مسئلہ کشمیر کو لٹکانے اور بگاڑنے میں سب سے بڑا مجرمانہ  کردار دونوں طرف کی کشمیری قیادت کا ہے۔ شیخ عبداللہ اور سردار ابراہیم نے ریاستی بیانیہ کے بجائے اپنے اپنے آقاؤں کے گیت گائے مگر دونوں تاریخ میں زلیل و خوار ہوئے۔  بھارت نے  مقبوضہ کشمیر میں 1953 میں شیخ عبداللہ کو گرفتار کرکے اسی کے ڈپٹی غلام محمد بخشی کو وزیراعظم بنا دیا جس سے بالاآخر ریاست جموں کشمیر کی جدا گانہ حیثیت ختم کروا کر بھارت کا صوبہ بنا دیا ۔ ادھر پاکستان نے بھی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو مضبوط کرکے بھارت کے خلاف تحریک کو موثر بنانے کا موقع دینے کے بجائے ان دونوں خطوں کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش کی۔

دہلی اور اسلام آباد نے نوٹوں کی بوریوں کے منہ کھول دیے۔ دونوں نے  کرپشن کو پروان چڑھایا۔ جن ریاستی لیڈروں نے اقتدار کی خاطر عوامی و قومی مفادات کا سودا کیا، وہ نشان عبرت بن گئے ۔ ہندوستان اور پاکستان نے آگے چل کر تاشقند اور شملہ معاہدے کیے۔ ادھر  اندرا عبداللہ گٹھ جوڑ ہوا  اور ادھر آزاد کشمیر میں بدنام زمانہ ایکٹ 74 نافذ ہوا اور یو این ٹیملیٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے الحاق کی شق مسلط کی۔ مگر ریاستی عوام کے دل بھارت جیت سکا نہ پاکستان۔

نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس تو ٹھکانے لگ گئیں اب بھارتی اور پاکستانی حکمرانوں کو بھی تاریخ سے سبق سیکھنا چاہئے۔ قوموں کے درمیان اتحاد وقتی  طاقت کے بل بوتے پر من پسند کالے قوانین کے ذریعے نہیں، باہمی اعتماد اور احترام کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ دل نہیں جڑیں گے تو کچھ نہیں ہوگا۔   جب تک ریاست جموں کشمیر کے عوام کو ان کا  بنیادی حق، حق خوداردیت نہیں ملتا تب تک کوئی مسلط کردہ معاہدے سود مند ثابت نہیں ہوگا۔ برطانیہ نے 1935 میں اپنے مفادات کی خاطر مہاراجہ کشمیر سے گللگت لیز ایگریمنٹ کیا مگر ٹھیک سات سال بعد 1947 میں عالمی حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ بڑش ایمپائر خود صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ یہی حشر سوویت یونین کا ہوا جس کے نتیجے میں سینٹرل ایشیا ئی ریاستیں بھی آزاد ہو گئیں۔ ان تاریخی حالات و واقعات  سےغاصبوں اور ان کے ایجنٹوں کو سبق حاصل سیکھنا چاہیے ۔