گلو بادشاہ اور ڈیانا کے بھائی کی موٹرسائیکل

گلو بادشاہ کو محلے والے بادشاہ کیوں کہتے تھے یہ تو کسی کوسمجھ میںنہیں آیا لیکن مورخین کاکہنا ہے کہ اسے بادشاہ سب سے پہلے ان کی والدہ نے قراردیاتھا۔ اور ہرماں کی طرح گلو کی ماں بھی اسے بادشاہ ہی دیکھنا چاہتی تھی۔

گلو بادشاہ تھا یا نہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ گلو نے خود کو بادشاہ سمجھنا بہرحال شروع کردیاتھا۔ شکل اس کی اگرچہ واجبی سی تھی لیکن اس کاکہنا تھا کہ بادشاہ اگربدشکل ہوں توان کاخوف اوردبدبہ رعایا پر زیادہ ہوتا ہے۔ وہ اس حو الے سے کچھ بدشکل پاکستانی حکمرانوں کے نام بھی لینا چاہتا تھا لیکن ہم نے اسے یہ کہہ کے روک دیا کہ پاکستان میں کون سا بادشاہی نظام ہے جو ہم یہاں کے حکمرانوں کی شکلیں زیربحث لا کر کسی مشکل کاشکارہوں۔ ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں اس لیے بدصورتیوں کو ہی معاشرے کاحسن سمجھتے ہیں۔
گلو بادشاہ نے پہلے پہل تو خود کو گلو شاہ کہلوانا شروع کیاتھا اوراس نے اپنے قریبی دوستوں کی باقاعدہ ڈیوٹی لگائی تھی کہ وہ اسے بادشاہ کی بجائے شاہ جی یا شاہ صاحب کہا کریں۔ اس کا خیال تھا کہ اگر یہ جعل سازی کارگر ٹھہری تو وہ مستقبل میں موٹرسائیکل مکینکی چھوڑ کر تعویز دھاگے کا کام شروع کردے گا۔ تھا تووہ مکینک لیکن اس کی بادشاہی پورے محلے میں مشہور تھی۔ خود کوبادشاہ سمجھ لینے کے بعد اس نے اپنی گھروالی کوبھی ملکہ عالیہ کہنا شروع کردیا تھا اورملکہ عالیہ کہنے میں وہ اس لیے بھی حق بجانب تھا کہ اس کی زوجہ کا پورے محلے پر اس سے زیادہ رعب ودبدبہ تھا۔

بعض لوگوں کاخیال ہے کہ گلو بادشاہ نے اپنی بیوی کوملکہ عالیہ کالقب اپنی غلامی کوچھپانے کے لیے دیاتھا۔ اگرکوئی رن مریدی کا طعنہ بھی دیتا تو گلو بادشاہ برجستہ جواب دیتا کہ بادشاہو، جورو کے غلام تو سبھی ہوتے ہیں لیکن اس بات کو تسلیم کوئی کوئی کرتا ہے اوراسے تسلیم کرنے کے لیے مجھ جیسا سچا، وفاداراور محب وطن شوہرہونا بہت ضروری ہے۔ میں چونکہ اپنے گھر کا واحد محب وطن فرد ہوں اس لیے مجھے ملکہ عالیہ کی غلامی پربھی کوئی اعتراض نہیں۔ اگرہمارے آبا واجداد نے سیکڑوں برس انگریز کی غلامی انتہائی خلوص اوررغبت کے ساتھ سرجھکا کر قبول کیے رکھی تو ہمیں بھی اپنے غلام ہونے پر فخر ہونا چاہیے۔ اوراگر شاعرمشرق حضرت علامہ اقبال مغرب والوں کی ملکہ وکٹوریہ کا مرثیہ لکھ کر آزادی کا خواب دیکھ سکتے ہیں اور مرثیہ لکھنے کے دوسال بعد سر کالقب بھی حاصل کرسکتے ہیں تو ہمیں بھی اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں بھی کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی ملکہ عالیہ کاقصیدہ لکھ کر کم ازکم اس سے ڈیئرسر کاخطاب ہی حاصل کرلیں۔
گلو بادشاہ کی بادشاہی اپنے گھر پہنچتے ہی ختم ہوجاتی تھی۔ باہر وہ جس طرح لوگو ں پرحکمرانی کرتا تھا اور جس طرح اس کا رعب ودبدبہ تھااور وہ ذرا ذرا سی بات پر لوگوں کے گلے پڑجاتاتھا ، گھرپہنچتے ہی ملکہ عالیہ اس کواس کی اوقات میں لے آتی تھیں۔ ملکہ عالیہ کوان کی کسی سہیلی نے بتادیا تھا کہ گلو بادشاہ نے محلے کی ایک لڑکی کو ڈیانا بنا رکھا ہے اور اسی تناظر میں وہ خود کو کبھی شہزادہ اورکبھی بادشاہ سلامت سمجھتاتھا۔ ملکہ عالیہ اگرچہ گلو کی ڈیانا کو ڈائن کے لقب سے پکارتی تھیں لیکن گلو کواس سے کیا فرق پڑتاتھا۔ وہ ملکہ کے اس رویے کو ان کا حسد ہی سمجھتا تھا اور کہتا تھا کہ میری مہربانی ہے کہ میں ڈیانا کواب تک بیاہ کر گھرنہیں لایا ورنہ ملکہ کی ساری چودھراہٹ بلکہ ملکاہٹ ختم ہوجاتی۔
دوسری جانب ڈیانا بے چاری کو تومعلوم ہی نہیں تھا کہ اس پر کوئی بدشکل بادشاہ دل وجان سے فریفتہ ہوچکاہے۔ ڈیانا کے ساتھ گلو کی پہلی ملاقات اس روز ہوئی جب ڈیانا کے بھائی کی موٹرسائیکل عین گلو کی دکان کے قریب خراب ہوگئی تھی۔ اس کا بھائی شاید اسے کالج سے واپس لارہا تھا کہ موٹرسائیکل کے پلگ میں کچرا آگیا۔ شدید گرمی کاموسم تھا ۔ گلو اپنی دکان پربنیان پہن کربیٹھاتھا۔ جیسے ہی ڈیانا اپنے بھائی کے ہمراہ اس کی دکان پرپہنچی تو وہ اس کے حسن کودیکھ کر مبہوت ہوگیا اورعجلت میں قیمض پہننے کی کوشش میں بنیان بھی اتاربیٹھا۔ ہوش وحواس درست ہوئے تواسے خیال آیا کہ اس شدید گرمی میں وی آئی پی گاہکوں کی آؤبھگت ہونا چاہیے سوموٹرسائیکل کی مرمت چھوٹے کے حوالے کرکے خود سامنے والی ریڑھی سے گنے کارس لینے چلاگیا۔ رس لے کر واپس آرہا تھا تو اسے یاد آگیا کہ اس نے تو جلدی میں رس کا ایک ہی گلاس بنوایا ہے اور ڈیانا کے بھائی کے لیے تو وہ رس لینا بھول ہی گیا۔ دوسرا گلاس لینے کے لیے واپس گیا اورکچھ دیر بعدوہ رس کے دوگلاس لے کر اپنی دکان پرپہنچا توچھوٹا ڈیانا کے بھائی کی موٹرسائیکل مرمت کرکے انہیں روانہ کرچکا تھا۔
بس پھرکیا تھا گلو جلال میں آگیا۔ چھوٹے کی اس حرکت کو وہ عالمی امریکی سازش سمجھ رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ چھوٹا عام حالات میں کبھی بھی اتنی تیزی کے ساتھ کام نہیں کرتا جتنی پھرتی اس نے ڈیانا اوراس کے بھائی کوروانہ کرنے میں لگائی ۔ غصے میں گنے کے دونوں گلاس خود پی رہاتھا کہ اسے چھینک آگئی اورپھر کھانسی ایسی شروع ہوئی کہ وہ چھوٹے کی ہی نہیں موٹرسائیکل کی مرمت بھی بھول گیا۔ طبعیت کچھ بہتر ہوئی تو اسے پھرڈیانا یاد آگئی۔ گلو بادشاہ نے تین چار ماہ کے جتن کے بعد بالآخر ڈیانا کا دوبارہ سراغ لگالیا۔ ڈیانا اسے محلے کی ایک دکان پرسبزی خریدتی دکھائی دی۔ جتنی دیر میں وہ قریبی موڑ سے اس کے لیے گلاب کے پھول لے کر آیا ڈیانا گوبھی کا پھول لے کر جاچکی تھی۔ کسی نہ کسی طرح اس نے اس کے گھر کابھی پتا لگالیا۔ اب گلو بادشاہ کے روز وشب تبدیل ہوچکے تھے۔ وہ موٹر سائیکل  مکینکی بھول کر ڈیانا کے عشق میں غرق ہوگیا۔
گھر میں ملکہ عالیہ کی ڈیانا کے ساتھ نفرت عروج پرتھی ۔ وہ اٹھتی بیٹھتی اسے کوسنے دیتی تھیں۔ گلو بادشاہ کی آہیں بھی ملکہ عالیہ کے غم وغصے میں اضافہ کرتی تھیں۔ ایک روز گلو بادشاہ ڈیانا کے ہجرمیں خواب آور گولیاں کھا کر سویا اور آدھی رات کو چیخیں مارتا ہوا اٹھ بیٹھا۔ ملکہ عالیہ نے دیکھا بادشاہ سلامت زمین پرگرے ہوئے ہیں ۔ نہیں ، نہیں وہ کہیں نہیں جاسکتی۔ معلوم نہیں اس نے کون سا خواب دیکھا تھا لیکن اس دن کے بعد ملکہ عالیہ جب بھی ڈوئی کے ساتھ اس پر حملہ آورہوتیں اور ڈیانا کو صلواتیں سناتیں تو وہ ڈوئی کو ڈوڈی الفائد کہتا ہوا ہاتھ جوڑ دیتا۔

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)