مقبولیت کا سیلاب

پاکستان کا کم و بیش ایک تہائی حصہ ابھی تک پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ساڑھے تین کروڑ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ سینکڑوں اللہ کو پیارے ہو چکے، اور ان سے کئی گنا زخمی ہو گئے۔لاکھوں گھر مسمار ہو چکے۔

 سڑکیں تباہ ہو چکیں، رابطے ٹوٹ چکے، بحالی اور آباد کاری تو دور کی بات ہے ابھی تک ریلیف کا سامان بھی تمام متاثرین تک نہیں پہنچ چکا۔ اقوام متحدہ کے70سالہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس ہزاروں میل کا سفر طے کر کے بنفس نفیس پاکستان پہنچے، تو جو کچھ ان کی آنکھوں نے دیکھا، اور کانوں نے سنا،اس پر بے ساختہ پکارے، گلوبل وارمنگ میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد بھی نہیں ہے لیکن عالمی طاقتوں کے کیے کی سزا اِسے مل رہی ہے۔دنیا کو اِس کی حمایت کے لیے کھڑا ہو جانا چاہیے،ان کے لہجے اور الفاظ نے اہل ِ پاکستان کا حوصلہ بڑھایا ہے۔اور مصائب کا سامنا کرنے کے لیے انہیں نئی توانائی بخشی ہے۔ہر ہر پاکستانی اُن کا شکر گزار ہے۔

وہ پرتگالی سیاست دان ہیں،  پیشے کے اعتبار سے انجینئر، پرتگال کے وزیراعظم کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ان کی عمر نفرتوں اور کدورتوں کو ختم کرتے،اور محبت کا پیغام عام کرتے گزری ہے۔اس پرتگیزی سیاست دان کا دِل پاکستان کے بارش اور سیلاب زدگان کے درد سے بھر گیا۔لیکن پاکستانی سیاست کو داد دیجیے کہ یہ بار بار اعلان کر رہی ہے، میرے سینے میں دِل کی جگہ پتھر ہے۔جلسے جاری ہیں، عمران خان اپنے حریفوں کے لتّے لینے میں مصروف ہیں،ان کے مخالف بھی پیچھے نہیں رہ رہے۔ایک دوسرے کی نہیں سنتے تو اہل ِ سیاست اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ہی کی سن لیں،ان کے دِل میں اٹھنے والے درد ہی کو آپس میں بانٹ لیں۔

عمران خان کے حلقہ بگوش دن رات ان کی مقبولیت کا ڈھنڈورا پیٹنے میں لگے ہیں۔اٹھتے بیٹھتے گردان  ہوتی ہے کہ ان جیسا مقبول کوئی دوسرا نہیں ہے۔وہ آئندہ انتخابات میں دوتہائی اکثریت حاصل کر کے رہیں گے۔ان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری ہوا ہے تو بھی ان کی مقبولیت کی قوالی کی جا رہی ہے۔یہ تک کہا گیا ہے کہ کس کی جرأت ہے، ان کے خلاف فیصلہ صادر کرے۔ عمران خان کے مخالف ان کے خلاف جو جال بچھا رہے تھے وہ نظروں سے اوجھل ہیں۔ اپنے نادان دوستوں کے جذبات میں دھنستے جا رہے ہیں۔انہوں نے ایک خاتون جج کے بارے میں جو دھمکی آمیز الفاظ استعمال کئے،وہ ان کے پاؤں کی زنجیر بن گئے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے ان کی زبان پر ”معذرت“ کا لفظ ابھی تک نہیں آ پایا، عدالت نے انہیں غور و خوض کی مہلت دی۔لیکن اس سے کما حقہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ اظہارِ افسوس سے وہ آگے نہیں بڑھے، عدالتی نظام کو اپنا حریف سمجھ بیٹھے ہیں،اور ان کا رویہ عدالت کو فردِ جرم عائد کرنے پر مجبور کر چکا ہے۔عدالت سے غیر مشروط معافی طلب کرنے سے کسی کی بے توقیری نہیں ہوتی۔عدالت ان کے ساتھ فیاضانہ برتاؤ کر رہی ہے،لیکن وہ اپنے آپ میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔

وہ وہاں کھڑے ہو گئے ہیں جہاں نواز شریف1997میں کھڑے تھے۔اُس وقت مقبولیت ان کے ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی تھی، ملک بھر میں ان کا طوطی بولتا تھا۔ پارلیمینٹ میں دوتہائی اکثریت حاصل تھی، وہ آئین میں ترمیم کر سکتے تھے اور جس بھی عہدیدار کو چاہتے تبدیل کر سکتے تھے۔انہوں نے ایک آئینی ترمیم کے ذریعے فلور کراسنگ کو مشکل بنا دیا تاکہ ارکانِ اسمبلی اپنی وفاداریاں تبدیل کر کے حکومت کو غیر مستحکم نہ کر سکیں۔اُس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے اپنے بنچ کے ذریعے یہ آئینی ترمیم معطل کر ڈالی۔ کچی پیشی میں آئینی ترمیم کا تعطل ایک ایسی جسارت تھی جس کا کسی بھی مہذب ملک میں تصور نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہاں چیف جسٹس نے یہ کر دکھایا تھا۔ اس پر نواز شریف کو غصہ آیا اور انہوں نے اس حرکت کو لوٹا کریسی کی حوصلہ افزائی کا نام دے دیا۔

چیف جسٹس تو پہلے ہی ادھار کھائے بیٹھے تھے،انہوں نے توہین کا نوٹس جاری کر کے،انہیں عدالت میں طلب کر لیا۔جناب ایس ایم ظفر کی ذہانت اور فقاہت کو وکالت کا فریضہ سونپا گیااور جناب وزیراعظم عدالت میں پیش ہو گئے۔نواز شریف بہت مقبول تھے،اس لیے انہوں نے بھی اظہارِ افسوس پر اکتفا کیا۔اس بیان کا متن مجھے اپنے کاغذات میں مل نہ پایا، تو برادر عزیز ڈاکٹر وقار ملک سے استفسار کیا، وہ ایس ایم ظفر صاحب کے پاس حاضر ہو گئے۔ ان کی فائلوں سے اس کا متن دستیاب ہو گیا،جو انہوں نے عنایت فرمایا،ملاحظہ ہو: ”میں عدلیہ کا اور عدلیہ کے تمام ججوں کا احترام کرتا ہوں،البتہ عدلیہ کے کسی فیصلے سے جو نتائج نکلتے ہیں،ان پر مختلف آرا کی روشنی میں اظہارِ خیال کرنے کا پابند ہوں۔ اگر ان دو تقاضوں اور ضرورتوں کی ادائیگی میں میرے الفاظ میں عدلیہ کے کسی محترم جج کو توہین کا گمان ہوا ہے تو مجھے اس پر افسوس ہے۔مجھے اجازت دیں کہ یہ دوہرانے کے علاوہ کہ میں نے سپریم کورٹ میں پیش ہو کر عدلیہ کا احترام قائم کیا ہے۔  میں نے پارلیمینٹ سے عدلیہ کے ججوں کی تعداد پہلی بار متعین کرا کر آئینی فرض پورا کیا اور جس طرح محترم چیف جسٹس صاحب نے پانچ ججوں کی تعیناتی کی سفارش فرمائی اس پر اس کے مطابق احکامات جاری کر دیے۔مندرجہ بالا حالات اور واقعات کی روشنی میں میری گزارشات ہیں کہ میں عدلیہ اور بالخصوص سپریم کورٹ آف پاکستان کا احترام کرتا ہوں کہ عدلیہ کی توہین کا مجھے کبھی تصور بھی نہیں ہوا، نہ میں نے عدلیہ کی توہین کی،اور نہ ایسا کرنے کا کبھی میرا ارادہ یا نیت تھی، نہ ہے۔ آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ملک خاصے اہم اور نازک دور سے گذر رہا ہے اور ہمیں اپنی تمام تر صلاحیتیں قومی کاموں میں صرف کرنی  ہیں۔ میری  کوشش ہو گی کہ ملکی معاملات باہمی اعتماد اور تعاون سے طے ہوں تاکہ ملک کے غریب عوام کی بہتری اور خوشحالی کے لیے بھرپور کام کیا جا سکے۔(محمد نواز شریف،وزیراعظم پاکستان)

نواز شریف اور عمران خان کے معاملے میں ایک فرق تو یہ ہے کہ وہ اُس وقت وزیراعظم تھے، جبکہ خان صاحب سابق ہو چکے۔ نواز شریف اگر چاہتے تو اس آئینی استحقاق کا سہارا لے سکتے تھے، جو ان کے خلاف عدالتی کارروائی کو روکتا تھا، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا،اور عدالت میں پیش ہو گئے۔دوسرا یہ کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد اور ان کی تقرری کے حوالے سے ان کا چیف جسٹس سے اختلاف چل رہا تھا۔ اس وقت سپریم کورٹ کی رائے فیصلہ کن نہیں سمجھی جاتی تھی۔ لیکن نواز شریف نے چیف جسٹس کی خواہش کے مطابق یہ معاملہ بھی طے کر دیا تھا، اپنے بیان میں وہ اسی کا حوالہ دے رہے ہیں۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سماعت کرنے والے بنچ نے یہ ”اظہارِ افسوس“ قبول کر کے قضیہ نبٹانے کے بجائے کارروائی کو ملتوی کر دیا۔ اور اگلی تاریخ سماعت کے موقع پر وزیراعظم کی ریکارڈ شدہ گفتگو مقننہ حکام سے طلب کر لی۔ تاکہ معاملے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ آئندہ تاریخ سماعت پر کمرہ عدالت میں ہجوم داخل ہو گیا،کارروائی جاری نہ رہ سکی۔ بعدازاں چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو ان کے برادر ججوں کی بھاری اکثریت نے اس کے منصب سے یوں سبکدوش کر دیا کہ ان کی تقرری جب ہوئی تھی تو وہ سینئر موسٹ نہیں تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جسٹس سجاد علی شاہ کی سرکردگی ہی میں سپریم کورٹ کا فل بنچ سپریم کورٹ میں تقرری کے لیے سینارٹی کا اصول طے کر کے داد پا چکا تھا۔اس فیصلے کا اطلاق برادر ججوں نے شاہ صاحب پر بھی کر دیا، ان کی چلائی ہوئی گولی ان ہی کو لگ گئی  یوں سپریم کوٹ اور نواز شریف دونوں کو چیف جسٹس سے نجات مل گئی۔ بعدازاں نئے چیف جسٹس اجمل میاں نے توہین عدالت کا مقدمہ نبٹا دیا۔

عمران خان ”اظہارِ افسوس“ پر انحصار کرنا چاہتے ہیں،لیکن ان کے لیے صائب مشورہ یہی ہو گا کہ وہ ”اظہارِ معذرت“ میں دیر نہ کریں۔اگر انہیں مجرم قرار دے دیا گیا تو وہ پانچ سال کے لیے سیاست میں حصہ لینے کے اہل نہیں رہیں گے۔مقبولیت کی پیدا کردہ مشکلات سے نبٹنا دِل گردے کا کام ہے،اعصاب پر قابو نہ پانے والے اس سیلاب میں ڈوبتے پائے گئے ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)