دادو، بھان سید آباد کو سیلاب سے بچانے کیلئے حکام کی سر توڑ کوششیں جاری

  • منگل 13 / ستمبر / 2022

سیلاب کے سبب سندھ کے کئی علاقے تاحال پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ حکام نے بھان سید آباد اور دادو کو ممکنہ سیلاب سے بچانے کی سرتوڑ کوششیں مسلسل جاری رکھی ہوئی ہیں۔

ڈپٹی کمشنر دادو سید مرتضیٰ علی شاہ نے بتایا کہ دادو شہر کے تحفظ کے لیے رنگ بند پر کام آج صبح بھی جاری رہا۔ بند کی دیوار اونچی کرنے کے لیے بھاری مشینری استعمال کی جارہی ہے۔ صبح کے وقت اندازے کے مطابق سیلاب دادو شہر سے 6 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ مین نارا ویلی ڈرین کے حفاظتی بند کو مضبوط کرنے کے لیے بھی کام جاری ہے۔

سیہون تحصیل کے بڑے شہر بھان سیدآباد کو بچانے کی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ رنگ بند پر رات کو تیز ہواؤں اور لہروں کی وجہ سے صورتحال خراب تھی لیکن اب یہ معمول پر آگئی ہے۔ بھان سید آباد کے رنگ بند پر کام مکمل کرنے کے لیے مشینری کا استعمال کیا جارہا ہے۔

منچھر جھیل کے پانی سے تحصیل کی 7 یونین کونسلوں کے 450 دیہات زیر آب آچکے ہیں۔ علاقے میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔

آج صبح منچھر جھیل میں پانی کی سطح 122.6 فٹ آر ایل ریکارڈ کی گئی۔ دادو مورو پل کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی سطح 127.4 فٹ آر ایل پر تھی جبکہ امری پل پر دریا کی سطح 109.5 فٹ آر ایل ریکارڈ کی گئی۔

غیر معمولی بارشیں اور سیلاب سے اب تک ملک بھر میں لگ بھگ 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو متاثر ہوچکے ہیں۔ معاشی نقصان کا تخمینہ 30 ارب ڈالر تک جاپہنچا ہے اور تقریباً 1400 افراد کی اموات کے ساتھ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے جان لیوا سیلاب ثابت ہوا ہے۔