سیہون، بھان سید آباد کو سیلاب کی مزید تباہ کاریوں سے بچانے کی کوششیں

  • بدھ 14 / ستمبر / 2022

سیلاب کے سبب منچھر جھیل میں پانی کی بلند سطح میں کسی حد تک کمی آئی ہے جبکہ سیہون اور بھان سید آباد کو سیلاب کی مزید تباہ کاریوں سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

منچھر جھیل میں پانی کی سطح 122.5 فٹ سے کم ہو کر 122.2 فٹ رہ گئی ہے جو کہ اب لاڑکانہ سیہون بند کے ذریعے دریائے سندھ میں براہ راست بہہ رہی ہے۔ دادو مورو پُل پر بھی پانی کی سطح میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔

بھان سید آباد اور آس پاس کے علاقوں میں انڈس کینال میں پانی کی سطح میں ایک فٹ کی کمی دیکھی گئی ہے، تاہم مہر کے رنگ بند میں 10 فٹ گہرا پانی اب بھی جمع ہے۔ گزشتہ شب تیز ہواؤں اور لہروں کی وجہ سے خراب ہو رہی تھی لیکن آج صبح تک یہ معمول پر آگئی۔ بھان سید آباد اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سیلاب سے کم از کم 150 دیہات زیر آب آگئے ہیں۔

سیہون تحصیل میں شہر کی حفاظت کے لیے کوششیں جاری ہیں کیونکہ علاقے میں سیلاب کی سطح مزید کم ہونے کی ضرورت ہے۔ سید آباد میں مشینری کی مدد سے کام جاری ہے اور بھان سید آباد کو سیلاب کی مزید تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

سیہون میں کم از کم 7 یونین کونسلز سیلاب میں ڈوبی ہوئی ہیں جب کہ امدادی کارروائی بھی جاری ہے۔ دیہات میں سیلاب کی وجہ سے مقامی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔

دریں اثنا دادو کی یونین کونسل مراد آباد، خدا آباد اور یار محمد کلہوڑو کے کم از کم 315 دیہات سیلاب کے سبب زیر آب آچکے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر دادو سید مرتضیٰ علی شاہ نے بتایا کہ سٹی ڈسٹرکٹ کے کئی علاقے تاحال زیر آب ہیں۔ پانی کو مرکزی شہر میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ حفاظتی پشتے مضبوط کرنے کے لیے حکام مین نارا ویلی ڈرین پر کام کر رہے ہیں۔

 دادو، میہڑ، خیرپور ناتھن شاہ اور جوہی سے مختلف مقامات پر پانی کی سطح ایک فٹ نیچے آگئی ہے تاہم خطرہ اب بھی برقرار ہے۔ مون سون کی ریکارڈ بارشوں اور گلیشیئرز پگھلنے کے سبب آنے والے سیلاب نے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو متاثر کیا ہے۔ تقریباً 1400 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ گھر، سڑکیں، ریلوے ٹریک، مویشی اور فصلیں بہہ چکی ہیں جس کے سبب ملک کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 30 ارب ڈالر لگایا جارہا ہے۔