آئی ایم ایف نے ہمیں آڑے ہاتھوں لیا اور ناک سے لکیریں نکلوائیں: وزیراعظم
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سابق حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں کیں جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑا اور آئی ایم ایف نے ہم سے ناک رگڑوائی۔
وکلا کنونش سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کی پاسداری کرنے کے بجائے بری طرح دھجیاں بکھیریں جس کے باعث ہمیں معاہدے کے اعادے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے نے آڑے ہاتھوں لیا اور ناک سے لکیریں نکلوائیں۔
آئی ایم ایف معاہدے کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایٹمی قوت ہونے کے باوجود ہم آج بھی کشکول لے کر پھر رہے ہیں۔ جس بھی دوست ملک کو فون کرو تو وہ یہی سمجھتے ہیں کہ شاید قرضہ لینے کے لیے فون کیا ہے۔ خطے میں جو لوگ ہم سے پیچھے تھے وہ اب کافی آگے نکل گئے۔
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا اعتراف کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاشی صورتحال گھمبیر ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ مخلوط حکومت نے بڑی محنت سے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچالیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے شرکا کو سیلاب کی صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں سیلاب نے تباہی مچائی ہے موسمیاتی تبدیلی سے شاید ہی ایسی تباہی کسی نے دیکھی ہو۔ اب بھی لاکھوں لوگ کھلےآسمان تلے زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اگر سیلاب نہ بھی آتا تو پاکستان کی معاشی صورت حال بہت چیلنجنگ تھی اور سیلاب نے اسے مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ سیلاب اور بارشوں نے پاکستان میں جو تباہی مچائی ہے وہ کبھی نہیں دیکھی اور ایسی موسمیاتی تباہی شاید ہی دنیا میں کہیں آئی ہو۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تقریباً معاشی دیوالیہ ہوچکا تھا مگر مخلوط حکومت نے اپنی محنت سے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا جس کے بعد معاشی عدم استحکام کسی حد تک کنٹرول میں آیا۔