کرم فرماؤں کا زیادہ چاپلوس کون ؟

ان دنوں ہماری ایک لاڈلی پاپولر ہستی اپنے عوامی جلسوں میں گڈ گورننس کی سابقہ شہرت رکھنے والی شخصیت کا کلپ باقاعدگی سے دکھا رہی ہے جسے وہ اپنا اصل حریف خیال کرتے ہوئے ’چیری بلاسم‘ جیسے القابات سے نوازتی رہتی ہے۔

جس میں بلند پروازی کی شہرت رکھنے والا کہہ رہا ہے کہ میں نے اپنے تین دوست ممالک کی قیادتوں کو کہا ہے کہ آپ ہمارے محسن ہیں آپ نے ہمیشہ ہم پر کرم فرمایا ہے۔ میں نہ تو بھکاری ہوں نہ آپ سےکچھ مانگنے آیا ہوں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے حالات پتلے ہو گئے ہیں اس لئے اگر آپ دست تعاون بڑھا دیں یا امداد فرما دیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم محنت کرکے خون پسینہ بہا کر بہتری لے آئیں گے۔ اس پر یہ اعتراض تو کیا جا سکتا ہے کہ یہ ہمارا پاپولر سونامی اس محنتی وزیر اعظم کے کشکول کا یوں مذاق کیوں اڑا رہا ہے۔ جبکہ وہ خود زندگی بھر یہی کام اس سے بھی بڑھ چڑھ کر کرنے کا تجربہ رکھتا ہے۔ لیکن جس طرح محاورہ ہے کہ دو ملاؤں میں مرغی حرام۔ ایک ہی ڈھب یا پروفیشن کے لوگوں میں حسد زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے میڈیا کے کئی لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ حسد و بغض دراصل بوٹوں کی محبت و الفت میں مسابقت کا ہے۔

 اس لئے ہر دو لیڈران آگے کی دوڑ میں دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے اسے چیری بلاسم قرار دیتے ہیں۔ ایک کی بلند پروازی کا یہ حال ہے کہ جب دیکھو اپنے محسن طاقتوروں کی شان میں قصیدوں کی پوٹلی اٹھائے دربدر بھاگے پھرتے ہیں۔ بڑوں کے طوطے کو زکام بھی ہو جائے تو یہ اپنی کمر درد بھول کر دوائیوں کی دکان بڑھائے دور دراز حاضر و موجود ہوتے ہیں۔ جبکہ پاپولر سونامی کے کیا کہنے، میر صاحب تو بے وجہ بدنام ہیں کہ وہ جس ظالم کی وجہ سے بیمار پڑے تھے اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے پہنچ جاتے تھے۔ جبکہ ہمارے سونامی نے جہاں سے دھکا کھا کر اپنے اقتدار کی ہڈیاں تڑوائی تھیں، اسی پریم نگری میں بیٹھ کر یہ پکا راگ گا رہے ہیں کہ کھلاڑی یا اناڑی جان کر ہم کو نہ بھلا دینا تمہی نے، درد دیا ہے تمہی دوا دینا ۔

آج ہمارے میڈیا کے دوست اظہار حیرت کرتے پائے جا رہے ہیں کہ یا الٰہی یہ کیا ماجرا ہے یہ تو خط اچھال اچھال کر دوہائیاں دیتا تھا کہ میرے خلاف گہری سازش ہوئی ہے۔ امریکہ نے پوٹن کے ساتھ ملنے پر میری پاپولر ترین حکومت کو چلتا کیا۔ اور آج ایک امریکی با اثر سفارتکار خاتون رابن رافیل کو ملتے ہی اس نے امریکی محبت کی نظمیں گنگنانی شروع کر دیں۔ اس کا ملازم بضد ہے کہ ایسی کوئی ملاقات ہی نہیں ہوئی اور یہ فرما رہے ہیں کہ دوسرے اپوزیشن والے ملیں تو جرم بنتا ہے، میری تو بات ہی اور ہے اور امریکا سے ہماری اپنائیت اتنی گہری ہے کہ اسے مزید بڑھانے کیلئے اپنی لابنگ پر اتنی بڑی رقم خرچ کر رہے ہیں ۔

یہ تو ہیں بیرونی طاقتور۔ رہ گئے اندرونی طاقتور ان کیلئے ہمارے سینے میں جہاں پہلے جلن ہوتی تھی اس ظاہری کٹی کے باوجود وہیں آج بھی کسک محسوس ہوتی ہے ۔ بیچارہ ملازم اپنی وقعت بڑھانے کیلئے کہے جا رہا ہے کہ اگر یہ نئے چیف کو لگائیں گے تو تنازع تین سال رہے گا اور یہ کہ نئے کی تعیناتی مؤخر کرنے کی بات موجودہ کی توسیع کہلائے گی۔ دوسری طرف ششماہی پروپیگنڈے کے غبارے سے ہوا نکلتی دیکھ کر توجیہ پیش کی جا رہی ہے کہ میں نے تو تقرری انتخابات تک موخر کرنے کی بات کی تھی یہ تو نہیں کہا تھا کہ موجودہ کو توسیع دی جائے۔ اب کوئی سیانا پوچھے کہ اے یوٹرن کے بادشاہ! جب تم نئی تقرری مؤخر کرنے کا مطالبہ کرو گے تو اس کا بدیہی تقاضا کیا یہی نہیں ہوگا کہ موجودہ کو وسط مدتی ایکسٹینشن دی جائے۔ اب جب وہ ایکسٹینشن دیں گے تو تم اس کی مخالفت کس منہ سے کرو گے؟

ویسے بڑے لیڈروں کیلئے اپنی بات سے پھرنا کون سا مشکل ہوتا ہے۔ کہہ دیں گے کہ آقا آپ کو جو توسیع ملی ہے اس میں ہماری کاوشیں شامل ہیں۔ لہٰذا ہمیں جتوانے کا اٹھارہ جیسا اہتمام کرو۔ اہل نظر لاکھ کہیں کہ کیوں بے وقت کی غیر جمہوری راگنی الاپ رہے ہو، جس ایشو پر آئین قطعی واضح ہے اس پر تنازع کھڑا کرنے کا تمہیں کیا حق ہے؟ لیکن ہماری اتنی بڑی پاپولیریٹی کے سامنے آئین و قانون کی کیا حیثیت ہے؟ جسے شک ہے وہ بے شک ہماری جوڈیشری یا پاسداران  عدل و انصاف سے پوچھ لے۔ آج ارادہ تھا سابقہ حکمرانی یا سونامی کی بجائے موجودہ حکمرانی کی بلند پروازی پر نظر التفات ڈالنے کا مگر کیا کریں کہ ہر غیر آئینی کی آن ہیں آپ ، ہر بے اصولی کی جان ہیں آپ۔ رہ گیا آپ کا اصل حریف تو وہ بیچارہ ان دنوں سیلاب زدگان کی مدد میں ڈوبا ہوا ہے اور یو این کے سیکرٹری سے لے کر امارات کے سفارتکار تک سب کو یقین دہانیاں کروانے میں مصروف ہے کہ آپ کی بھجوائی ہوئی امداد میں خردبرد ہوگی، نہ دبئی و لندن میں پراپرٹی کی قیمتیں بڑھیں گی۔

بحیثیت وزیر اعلیٰ ان کی اچھی خاصی ریپو بنی ہوئی تھی۔ چائنہ والے پنجاب سپیڈ کی مثالیں دیتے تھے مگر اپنی اس ساری بنی بنائی ساکھ کو آج وہ محض وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہو کر سندھو ساغر کے فلڈ میں ڈبوئے بیٹھے ہیں۔ ہر بندہ پوچھ رہا ہے کہ عوام کوسوائے مہنگائی کے تندور میں پھینکنے کے اپنی کارکردگی کا کوئی اور حوالہ موجود ہے تو دکھا دو۔ چھ مہینوں میں تمہاری لنگڑی لولی حکمرانی میں اتنی جان نہیں آ سکی کہ تین صوبوں کے گورنر ہی لگا سکو۔ اس سے بڑی نااہلی کیا ہو گی کہ آئی ایم ایف کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے باوجود ڈالر تم سے کنٹرول ہوسکا ہے، نہ سٹاک مارکیٹ ۔ بڑے بھائی کو لانے کے قابل ہو سکے ہو نہ سونامی خاں کی تباہ کاریوں کو کسی عدالت میں ثابت کرتے ہوئے شتر بے مہار کو نکیل ڈال سکے ہو ۔ ممنوعہ فارن فنڈنگ ، توشہ خانے کی لوٹ مار یا خیرات و صدقات کھانے والوں کا احتساب کیا کرتے، الٹے اپنے اتحادیوں کو بھی مایوس کرتے ن لیگ کی پاپولیریٹی کو برباد کر رہے ہو۔ ایک طرف معاشی بدحالی کا رونا روتے ہو دوسری طرف 70 رکنی کابینہ کا پیٹ اور بڑھاتے جا رہے ہو۔ ٹینکوں توپوں کی خرید کیلئے وافر پیسہ ہے مگر بجلی کے کرنٹ سے بھسم ہونے والوں کیلئے افلاس و بدحالی ہے ۔

عوام کو بڑی امیدیں تھیں کہ تبدیلی والوں کو ہٹا کر جو حکومت آئے گی وہ محض بوٹ چاٹنے کی بجائے بہترین قومی مفاد میں حقیقت پسندی پر مبنی پالیسیاں بناتے ہوئے انڈیا سے تجارتی تعلقات بلندیوں پر لے جائے گی۔ خود آپ کے محسن اعظم یہ کہہ چکے ہیں کہ اس وقت انڈیا سے تجارتی تعلقات پاکستان کے حق میں ہیں۔ لیکن آپ شاید شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہیں۔ مشرقی پنجاب کا پیاز امرتسر سے نہیں منگوایا جا سکتا، وہ عرب شریف جائے گا ایمانی دولت کا کرایہ بڑھا کر یہاں پہنچے گا تو پوتر ہو جائے گا۔ اب میری آنیاں جانیاں دیکھیں۔ سنٹرل ایشیا کے شنگھائی تعاون اجلاس میں میں اپنے لا ابالی وزیر خارجہ کی طرح روایتی حریف کی طرف ہاتھ بھی نہیں بڑھاؤں گا ۔ مبادا محسنین کو برا نہ لگ جائے۔ ملکہ اور بھائی کو سلام کرتے ہوئے نیو یارک جاؤں گا اور وہ سب فرماؤں گا جو ’انہیں‘ اچھا لگے ۔

جو ’’جسم و جاں کا حصہ ‘‘ ہیں، ان کیلئے اسی طرح آواز اٹھاؤں گا جس طرح بعد نماز جمعہ آدھا گھنٹہ ایک پاؤں پر کھڑے ہونے والا اٹھاتا تھا تاکہ چاپلوسی میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ یا پھر سیلاب زدگان کیلئے بھیک مانگوں گا تاکہ عالمی بھکاری کے ٹائٹل میں کوئی کسر نہ رہ جائے ۔