سپریم کورٹ کے دو ججز کا چیف جسٹس کی حالیہ تقریر پر اظہار مایوسی

  • جمعہ 16 / ستمبر / 2022

سپریم کورٹ  کے دو سینئر ججز نے چیف جسٹس آف پاکستان کے سالانہ خطاب کو مایوس کن قرار دیا گیا ہے۔ قانونی ماہرین اس خط کو انصاف کی فراہمی کے سب سے بڑے ادارے کے لیے افسوس ناک قرار دے رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کی جانب سے لکھے گئے اس خط کی کاپی جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کے اراکین کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس اکیلے سپریم کورٹ نہیں، بلکہ باقی ججز بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کا حصہ ہیں۔

قانونی ماہرین اس صورتِ حال کو پاکستانی عدلیہ اور سائلین کے لیے افسوس ناک قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتِ حال کا واحد حل یہ ہے کہ ججز کو ترقی دینے کے فورم جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے لیے باقاعدہ رولز بنائے جائیں تاکہ ججز کی تعیناتی میں پسند اور ناپسند کے تاثر کو ذائل کیا جا سکے۔

سینئر قانون دان خالد رانجھا کہتے ہیں کہ اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ججز کی تعیناتی کو سنیارٹی سے منسلک کرنا ہے۔ خالد رانجھا کا کہنا تھا کہ اس خط سے سپریم کورٹ کے ججز میں تقسیم واضح ہو رہی ہے جو نظامِ انصاف کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔
سینئر وکیل شاہ خاور ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں ججز کی ایک تہائی آسامیاں خالی پڑی ہیں، ایسے میں ججز میں تقسیم کا تاثر پاکستانی عدلیہ کے لیے بہت افسوس ناک ہے۔

دونوں ججز نے نئے عدالتی سال کے آغاز پر چیف جسٹس کے خطاب کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ سپریم کورٹ تنہا چیف جسٹس نہیں بلکہ تمام ججوں پر مشتمل ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں سپریم کورٹ کے فیصلوں اور ان پر تنقید کا جواب دیا اور یکطرفہ بات کی ۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس نے پیر کو اپنے خطاب میں کہا تھا کہ 26 جولائی کو وزیرِ اعلٰی پنجاب کے انتخاب کے مقدمہ کا فیصلہ میرٹ پر دیا تھا اور اس حوالے سے فل کورٹ بنانے کا مطالبہ قانون کے مطابق نہیں تھا۔ اس مقدمے میں سپریم کورٹ بار کا کردار بھی جانبدارانہ تھا۔

نئے ججز کی تعیناتی کے معاملے پر دونوں ججز نے خط میں لکھا کہ جوڈیشل کمیشن کے چار ارکان نے چیف جسٹس کے امیدواروں کی حمایت نہیں کی، أئین لازم کرتا ہے کہ جوڈیشل کمیشن ارکان کی اکثریت سے ججز تعینات کرے، ایک تہائی سے زیادہ سپریم کورٹ کے عہدے خالی پڑے ہیں۔ نئے عدالتی سال کی تقریب میں اس پر اپنا موؐقف نہ دینے کے حوالے سے دونوں ججز نے کہا کہ تقریب کے وقار کے تحفظ کی خاطر ہم خطاب کے دوران خاموش رہے۔ لیکن ہماری خاموشی کو رضامندی سے تعبیر نہ کیا جائے۔

چیف جسٹس أف پاکستان یا رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے تا حال اس خط پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ البتہ پیر کو اپنے خطاب میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ ہر صورت میں أئین کا تحفظ یقینی بنائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور ماتحت عدلیہ کے تحفظ کےلئے پر عزم ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے 9 ارکان میں شامل ہیں۔ انہوں نے کمیشن کے 28 جولائی کے اجلاس کے فوراً بعد بھی خطوط لکھے تھے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اجلاس نے ججوں کو ترقی دینے کے لیے نامزدگیوں کو مسترد کردیا تھا۔

جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود نے کہا کہ چیف جسٹس نے مبینہ طور پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور اس کے موجودہ اور ماضی کے متعدد عہدیداروں کے بارے میں 'غیر ضروری اور توہین آمیز' ریمارکس دیے۔ ان پر سیاسی جانبداری کا الزام لگایا کیونکہ انہوں نے درخواست کی تھی کہ مذکورہ کیس کی سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے جو کچھ کیا، چیف جسٹس نے اس کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی اور غیر ضروری طور پر کہا کہ اس درخواست کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا۔ تقریر میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے کام اور فیصلوں کا ذکر کرنا نامانسب تھا جو کہ آئین کے تحت ایک علیحدہ اور خود مختار ادارہ ہے۔

خط کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن چیئرمین کے تجویز کردہ امیدواروں کو منظور نہیں کیا گیا اور اس کے لیے وفاقی حکومت کے نمائندوں، یعنی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل فار پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا۔ ساتھ ہی اپنی ناراضی کا اظہار بھی کیا۔ خط میں حیرت کا اظہار کیا گیا کہ 'کسی بھی حالت میں جے سی پی کے چیئرمین کو وہ نہیں کہنا چاہیے جو کہا گیا تھا'۔ کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے چیف جسٹس کو اپنے فیصلوں کی پابندی کرنی چاہیے۔ نہ کہ کمیشن کے اراکین کی جانب سے ان کے تجویز کردہ امیدواروں کی حمایت نہ کرنے پر سرِ عام ان پر حملے کریں۔

خط میں کہا گیا کہ جوڈیشل کمیشن کے تمام ممبران، بشمول اس کے چیئرمین، برابر ہیں۔ چیف جسٹس کی واحد اضافی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے چیئرمین کے طور پر کام کریں۔ آئین میں کہا گیا ہے کہ کمیشن اپنی کل رکنیت کی اکثریت سے ججوں کو نامزد کرے گا۔