موسمیاتی تبدیلی کے خلاف منصوبہ بنانا ہوگا: وزیراعظم

  • جمعہ 16 / ستمبر / 2022

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خطے کے امن اور ترقی کے لیے افغانستان میں امن ضروری ہے اور اس وقت افغانستان کو نظر انداز کرنا بہت بڑی غلطی ہوگی۔

وزیر اعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ آپ سب کے علم میں ہے پاکستان، افغانستان کا پڑوسی ملک ہے اور افغانستان میں امن دراصل پاکستان میں امن کا ضامن ہے۔ افغانستان میں امن ہوگا تو خطے کے دیگر ممالک بھی امن سے رہ سکیں گے اور ترقی کریں گے۔ اگر ہم خطے میں پائیدار امن چاہتے ہیں تو ہمیں افغانستان کے عوام کی بہتری کے لیے وہاں تعلیم، صحت، کاروبار، زراعت سمیت تمام شعبوں میں ہونے والے تمام مثبت اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ اگر اس وقت ہم نے افغانستان کو نظرانداز کیا تو یہ بڑی غلطی ہوگی، ہمارے رائے میں افغانستان میں سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے افغانستان کو مضبوط بنانے کے لیے ان کی مدد کریں۔ انسانی امداد کے علاوہ عالمی برادری کو پائیدار افغان معیشت کے لیے بھی سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں افغانستان کے منجمد اثاثوں کی بحالی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے افغان حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد کو حکومت کا حصہ بناتے ہوئے تمام شہریوں اور معاشرے کے تمام طبقات بالخصوص خواتین کے انسانی حقوق کا احترام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار رہا ہے۔ ہم نے اس دہشت گردی کی عفریت کو شکست دینے کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔

وزیر اعظم نے سیلاب سے ہونے والی تباہی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سیلاب نے عام آدمی زندگی کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ کروڑوں لوگ اپنے گھر بار سے محروم ہوچکے ہیں، 400 سے زائد بچوں سمیت 1400 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ لاکھوں گھر مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔ میں نے ایسی تباہی کبھی نہیں دیکھی۔ سیلاب کے پانی سے آبی بیماریوں کا خطرہ ہے، بچے ملیریا اور ڈائریا کا شکار ہو رہے ہیں اور ان سیلاب زدہ علاقوں میں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصل تباہی ہوگئی ہے اور لائیو اسٹاک کا بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہے۔ اس سیلاب سے ہونے والا نقصان اربوں ڈالر پر محیط ہے لیکن اللہ کی مدد اور آپ کے تعاون سے ہم اس مشکل سے جلد نکلنے میں کامیاب رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آنے والا یہ سیلاب موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ غیرمعمولی بارشوں اور پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے پانی کے سبب پاکستان کا ہر کونا کسی سمندر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ آخری موقع ہے کہ دنیا کا کوئی ملک موسمیاتی تبدیلی کی اس تباہی سے دوچار ہوا ہے یا خدانخواستہ دیگر ممالک بھی اس کا شکار ہوں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ شنگھائی تعاون تنظیم اس لعنت کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہوجائے لیکن یہ سب انتہائی سوچ بچار کے بعد تشکیل دیے گئے منصوبے کی بدولت ہی ممکن ہے۔ ایک ایسا منصوبہ جو پائیدار ہو کیونکہ آج یہ ناانصافی ہم سے ہوئی ہے، ہمارا کاربن کا اخراج ایک فیصد سے بھی کم ہے لہٰذا میں اس فورم سے درخواست کرتا ہوں کہ ہم اپنی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے ایک منصوبہ بنائیں۔