پنجاب میں حکومتی تبدیلی کے امکانات
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 16 / ستمبر / 2022
پاکستان کی سیاست کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ماضی کے تجربات اور غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے تواتر کے ساتھ ان ہی غلطیوں کو یا ان میں اور زیادہ شدت پیدا کرکے آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے۔
یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں قو می سیاست میں سیاسی و جمہوری استحکام پر کئی اہم سوالات اٹھتے ہیں۔کیونکہ اگر ہم نے سیاسی استحکام کے مقابلے میں عدم سیاسی و معاشی استحکام کی بنیاد پر ہی آگے بڑھنا ہے تو سیاسی و ریاستی بحرا ن سے کیسے نمٹا جاسکے گا۔ہماری قومی سیاست کا ایک بڑا خاصہ سیاسی ایڈونچرز یا سیاسی مہم جوئی رہی ہے۔ سیاست دان ہوں یا پس پردہ کی قوتیں ہمارا محبوب مشغلہ اپنی مرضی اور خواہشات کی بنا پر حکومتوں کو بنانا او رگرانا ہوتا ہے۔اس کھیل میں اگر ہمیں منفی سیاسی یا قانونی طرز عمل بھی اختیار کرنا پڑے تو ہم اس سے گریز نہیں کرتے۔یعنی سیاست، جمہوریت اور حکومتوں کے خلاف سازش کا کھیل سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں کے درمیان آنکھ مچولی کے طور پر جاری رہتا ہے اور اس کھیل کی بھاری قیمت ملک کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
حالیہ دنوں میں کچھ ایسی خبریں منظر عام پر آرہی ہیں کہ پنجاب میں ایک بار پھر تبدیلی کا کھیل یا اس کا سیاسی دربار سجایا جارہا ہے۔ اس کھیل کی خاص بات پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ او رمسلم لیگ ن کی حکومت کی بحالی سے جڑا ہوا ہے۔پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت واقعی اس وقت تیرہ جماعتی حکمران اتحاد او ربالخصوص مسلم لیگ ن یا شریف خاندان کے لیے ایک بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔ پنجاب جسے ہم عمومی طو رپر مسلم لیگ ن کی سیاست کا گڑھ سمجھتے ہیں وہاں ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کی نئی سیاسی قوت بشمول اقتدار واقعی شریف خاندان یا مسلم لیگ ن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اسلام آباد تک محدود مسلم لیگ ن کی حکومت او رپنجاب کے اقتدار سے محرومی واقعی مسلم لیگ ن کو سیاسی طور پر تنہا کردیا ہے۔اس وقت تحریک انصاف کی پنجاب میں حکومت چوہدری پرویز الہی جو وزیر اعلی پنجاب کی حیثیت سے کام کررہے ہیں کہ مرہون منت ہے۔مسلم لیگ ن او رپیپلزپارٹی کو یہ گلہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب تحریک انصاف کو دیوار سے لگادیا گیا تھا تو چوہدری پرویز الہی نے مسلم لیگ ن کے مقابلے میں تحریک انصاف کی کیونکر حمایت کی او رکیوں مسلم لیگ ن کی وزرات عالی کی پیش کش کو ٹھکرایا۔
مسلم لیگ ن کی سیاسی پریشانی یہ ہے کہ ایک طرف پنجاب میں ان کے اقتدار کا خاتمہ او ردوسری طرف پنجاب میں نئے انتخابات کے تناظر میں ”پانی پت کی نئی جنگ“ میں تحریک انصاف کی مقبولیت کا سیاسی مقابلہ کیسے کیا جاسکے گا۔ کیونکہ دونوں جماعتوں مسلم لیگ ن او رتحریک انصاف کی سیاست کا ایک بڑھ گڑھ پنجاب ہے او ریہ ہی پنجاب کا سیاسی میدان اگلے عام انتخابات کے نتائج کی صورت میں طے کرے گا کہ پنجاب کے حقیقی حکمرانی کس کے پاس ہوگی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن چاہتی ہے کہ فوری طور پر تحریک انصاف کا پنجاب میں اقتدار کا خاتمہ ہو اور یہاں دوبارہ مسلم لیگ ن کی حکومت بنے۔کیونکہ عام انتخابات سے پہلے مسلم لیگ ن پنجاب میں دوبارہ اپنا اقتدار بحال کرنے کو ترجیح دے گی۔یہ ہی وجہ ہے کہ پنجاب میں حکومت کی سیاسی تبدیلی کی افواہیں ایک بار پھر زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آرہی ہیں۔ اس کھیل میں ایک بار پھر پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کو اہمیت دی جارہی ہے او روہی پنجاب میں سیاسی ڈیرے لگا کر عمران خان کی حکومت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے پاس تو اکثریت نہیں لیکن کیونکہ مسلم لیگ ن کا بڑا انحصار آصف زرداری پر ہے اور آصف زرداری یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اس عمل میں ان کو اسٹیبلیشمنٹ کی بھی حمایت حاصل ہے۔سوال یہ ہے کہ پنجاب میں حکومتی تبدیلی کا عملی طور پر اسکرپٹ کس نے لکھا ہے۔کیونکہ پہلے بھی آصف زرداری او رمسلم لیگ ن نے یہ ہی تاثر دیا تھا کہ ہمیں اس کھیل میں پس پردہ قوتوں کی حمایت حاصل ہے، مگر عملی طور پر وہ اپنی حکومت نہیں بچاسکے تھے۔
مسلم لیگ ن او رپیپلزپارٹی پس پردہ قوتوں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ عمران خان کو کمزور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پنجاب میں ان کی حکومت کو ختم کیا جائے او ریہاں مسلم لیگ ن کی حکومت ہو۔کیونکہ حکمران جماعت کا بڑا چیلنج عمران خان کی سیاسی مقبولیت ہے اور ان کو لگتا ہے کہ فی الحال ان کی سیاسی مقبولیت کا مقابلہ سیاسی میدان میں ممکن نہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان کو اقتدا ر کی سیاست سے باہر نکالا جائے تاکہ ان کی سیاسی طاقت کو کمزور کیا جاسکے۔ایک منطق چوہدری شجاعت حسین کی دی جارہی ہے کہ وہ اپنے دس ارکان پر نااہلی کا خوف ڈال کر ان سے پی ٹی آئی کی حمایت واپس لینا چاہتے ہیں۔ منطق یہ بھی دی جارہی ہے کہ دس ارکان کے چوہدری شجاعت اور مسلم لیگ ن سے رابطے ہیں او روہ اہم موقع پر چوہدری پرویز الہی کی حمایت چھوڑ سکتے ہیں۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ خود تحریک انصاف میں سے کچھ لوگوں کو مختلف نوعیت کے لالچ دے کر اپنے قریب لانے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ اسی کھیل میں گنتی پوری ہونے پر گورنر پنجاب چوہدری پرویز الہی کو اسمبلی سے ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔جب ان کی عددی تعداد پوری نہیں ہوگی تو تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ ہوگا۔ آصف زرداری کی یہ تجویز بھی گردش کررہی ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کو یہ آفر بھی دی گئی ہے کہ وہ تحریک انصاف کو چھوڑ کر مسلم لیگ ن کی حمایت کریں تو وہ ہی وزیر اعلی پنجاب ہونگے۔ان ہی خدشات کی بنیاد پر خود عمران خان کہہ چکے ہیں کہ پنجاب میں ان کی حکومت کو ختم کرنے کے کھیل کا آغاز کردیا گیا ہے۔اسی طرح کچھ سیاسی پنڈت بھی یہ خبریں دے رہے ہیں کہ پنجاب میں تبدیلی کے کھیل کا سیاسی دربار سج گیا ہے اور ایک بار پھر مسلم لیگ ن کی حکومت کے آنے کے امکانات موجود ہیں۔
چوہدری پرویز الہی کے دو مسئلہ ہیں۔ اول وہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کے مقابلے میں مسلم لیگ ن یا شریف خاندان پر بہت زیادہ بھروسہ نہیں کیا جاسکتا او راس کے پیچھے ماضی کے تجربات اور واقعات ہیں۔ دوئم پرویز الہی ک مقابلے میں ان کے بیٹے یا سیاسی جانشین چوہدری مونس الہی بضد ہیں کہ ہم نے مستقبل کی سیاست عمران خان کی حمایت کے ساتھ ہی کرنی ہے اور اس کا اعتراف خود چوہدری پرویز الہی بھی کرچکے ہیں کہ ان کی پی ٹی آئی کی حمایت میں ان کے بیٹے کا اہم کردار ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ خود چوہدری پرویز الہی کے اپنے بھی اسٹیبلیشمنٹ سے اچھے تعلقات ہیں توو ہ ان کی حکومت کو کیوں ختم کرنا چاہے گی۔ چوہدری پرویز الہی اس وقت تحریک انصاف اور عمران خان کی حمایت سے کافی بہتر پوزیشن میں ہیں او ریہ پوزیشن ان کو مسلم لیگ ن میں نہیں مل سکے گی۔ اس لیے یہ جو بھی منطق دی جارہی ہے کہ وہ تحریک انصاف کی حمایت چھوڑ کر مسلم لیگ ن کا حصہ بن سکتے ہیں درست تجزیہ نہیں ہوگا۔اسٹیبلیشمنٹ کو تو پرویز الہی حکومت اس لیے بھی سوٹ کرتی ہے کہ اس میں براہ راست پی ٹی آئی او رمسلم لیگ ن نہیں اور دونوں جماعتوں کا بڑا انحصار چوہدری پرویز الہی پر ہی ہے۔ یہ کہنا کہ مسلم لیگ ق میں چوہدری پرویز الہی کی سیاسی گرفت کمزور ہے ممکن نہیں پارٹی پر عملی کنٹرول چوہدری پرویز الہی کا ہی ہے اور دوسری طرف چوہدری شجاعت، طارق بشیر چیمہ اور سالک حسین ہی ہیں۔ اس لیے پارٹی کی سطح پر بھی بڑی تنہائی کا سامنا چوہدری شجاعت حسین کو ہی ہے۔اگر واقعی پنجاب میں کوئی تبدیلی آنی ہے تو یہ یقینی طو رپر یہ اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی ہم نے رجیم چینج کے نام پر جو بھی سیاسی دربار سجایا او رجو کھیل کھیلا گیا اس کے نتائج بھی قومی سیاست میں منفی طور پر سامنے آئے ہیں۔ اس سیاسی مہم جوئی کا نتیجہ ہے کہ اس وقت قومی سیاست انتشار اور خلفشار کا شکار ہے او رہمارا بحران حل ہونے کی بجائے مسلسل خراب ہورہا ہے۔لیکن اگر کوئی سمجھتا ہے کہ پنجاب میں تبدیلی کی صورت میں کوئی حالات بہتر ہونگے وہ غلطی پر ہیں۔ یہ مہم جوئی ملک کے سیاسی حالات کو اور زیادہ بگاڑ کی طرف لے کر جائے گی او راس کے نتیجہ میں صوبہ مزید محاز آرائی کی شکار ہوگااور اس کا براہ راست اثر سیاست کے ساتھ ساتھ معیشت بھی بدحال ہوگی۔