جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی

آج موجودہ اتحادی حکومت کی بڑھائی ہوئی مہنگائی اور روپے کی ناقدری کا رونا ہر کوئی رو رہا ہے۔ عوام سچے ہیں کہ یہ لوگ سابقہ اناڑی حکومت کو جس نوع کے طعنے دیتے نہیں تھکتے تھے، آج وہ سبھی کچھ ان کے کہنہ مشق ہاتھوں سے ہو رہا ہے۔

عوام پونے چار سالوں سے معاشی تباہی کےنتیجے میں غربت و مہنگائی کی جس چکی میں پس رہے تھے ان سیانوں یا تجربہ کاروں نے انہیں کسی نوع کا کوئی ریلیف دینے کی بجائے آتے ہی ان پر پٹرول بم پھینکتے ہوئے بجلی کے جھٹکے لگانے شروع کردیے۔ توجیہات بہت ہیں کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے لئے اس کی یہ شدید شرائط ماننا ضروری تھیں ورنہ ملک ڈیفالٹ کرجاتا۔ اس نوع کی حجتیں سابق اناڑی حکومت کے پاس بھی ڈھیروں تھیں، عام آدمی کو ان سے کیا لینا دینا ہے۔ اسے تو دو وقت کی روٹی اور زندگی کا سکون چاہیے جو اگر پہلے والوں نے برباد کیا تھا تو کسر آپ لوگوں نے بھی اٹھا نہیں رکھی۔ طفل تسلیاں دی جارہی تھیں کہ بس ایک دفعہ آئی ایم ایف کی قسط جاری ہو جائے اس کے بعد دوست ممالک سے بھی بڑی گرانٹس پہنچ جائیں گی۔ یوں ہماری معیشت وینٹی لیٹر سے اتر آئے گی۔ روپے اور سٹاک مارکیٹ کو استحکام ملے گا، قیمتیں نیچے آ جائیں گی اور ہم عوام کو بھرپور ریلیف دیں گے۔

کیا واقعتاً ایسا کچھ ہوا یا ہونے جا رہا ہے؟ اب سیلاب کی صورت میں بھی ایک نیا جواز مل گیا ہے اور یہ لوگ جب تک ہٹا نہیں دیے جائیں گے اس کا ڈھنڈورا بھی خوب پیٹتے رہیں گے۔ واحد امید بیرونی امداد کی دلائی جاتی ہے جو آتی ہوئی تو دکھائی دیتی ہے، بٹتی ہوئی کم ہی نظر آتی ہے۔ ہزاروں لوگ ان کی جان کو رو رہے ہیں اور یہ روایتی توجیہات پیش کرنے میں پیش پیش ہیں۔ دوسری طرف اقتدار کا حریص سونامی جعلی واویلا کرتے الگ چلا رہا ہے کہ کسی بھی صورت حکومت مجھے سونپ دی جائے قوم مرتی ہے تو مرے، دوبتی ہے تو ڈوبے، بس تم لوگ الیکشن کرواؤ اور چلتے بنو۔ اس شخص نے خواہ مخواہ اپنی مقبولیت کے نام نہاد غبارے میں جعلی ہوا بھر رکھی ہے۔ جلدی کرو کہیں میرا یہ غبارہ پھٹ نہ جائے۔ معاشی کشتی جتنے بھی ہچکولے کھا رہی ہے یہ شخص کنارے بیٹھا اپنی بڑائی کے ڈھول پیٹ رہا ہے۔ اسے ذرا شرم یا ندامت محسوس نہیں ہو رہی کہ یہ ساری معاشی بربادی درحقیقت تو اسی کا کیا دھرا ہے۔

اداروں اور محکموں کی تباہ کاریاں اپنی جگہ، اگر سچائی سے کام لیں تو اس ساری خرابی بسیار کا اصل کریڈٹ تو انہی کو جاتا ہے جنہوں نے اپنے مذموم مفاد پرستانہ مقاصد کے تحت آئین و جمہوریت کو کبھی اصول و ضوابط کے مطابق چلنے دیا ہی نہیں ہے۔ چودھری وقار صاحب اگر بظاہر نیوٹرل ہوتے دکھائی دینے کی کوشش کرتےہیں تو عظمیٰ و عالیہ بی بی اپنے ایکٹوازم پر مصر ہو جاتی ہیں۔ دنیا میں یہ انصاف کی کونسی انوکھی قسم ایجاد ہوگئی ہے کہ چہرے اور پاپولیریٹی کے بہانے گھڑتے ہوئے صوابدیدی پھلجڑیاں چھوڑی جائیں، تضاد بیانیاں کی جائیں، کھوکھلی لفاظی کے ذریعے حقائق کو مسخ دیا جائے۔

پوری دنیا میں دہشت کی جڑ خوف اور دھمکی ہے۔ عطاء اللہ نے موہن لال کو دھمکی دی ، محمد دین نے اپنے محبوب لیڈر کی دھمکی پر عمل کر دکھایا۔ سچائی کیا ہے؟ اس کی بلا سے، جو چاقو مارتے ہیں یا بم پھوڑتے ہیں کیا حقیقت کی پرکھ کے لئے ان کی کھوپڑی میں بھیجا ہوتا ہے؟ اگر عقل مت ہو تو پھر رونا کس بات کا ہے؟ اپنے اردگرد کی حالیہ تاریخ پر نظر ڈال لو جتنے لوگ دہشت کا ٹارگٹ یا نشانہ بنے ہیں کیا ثبوتوں کے ساتھ انہیں مجرم ثابت کیا گیا تھا؟ کیا ایسا شخص لیڈر کہلانے کا حقدار ہے جو اپنے فینز کو کھلے بندوں اکسائے کہ یہ جو میرے خلاف ہیں یا میری مطابقت میں نہیں چل رہے، ان کا گھیراؤ کرو۔ ایسی صورت میں کیا کسی بے گناہ کی جان نہیں جاسکتی ہے؟ کیا اسی اسلام آباد میں سیاسی مخالفین پر حملے نہیں ہو چکے ہیں؟ کیا قانون کو ایسی دہشت اور کمینگی کا سدباب کرنے کے لئے سختی برتنی چاہیے یا حجت بازیوں سے کام لیتے ہوئے نظر انداز کرنا چاہیے؟  تاوقتیکہ کوئی بڑا سانحہ وقوع پذیر نہ ہو جائے۔

بڑے بھائی جان صاحب جہاں بھی کھڑے ہیں کیا انہیں بھی اب کٹھ پتلیوں کے کھیل سے دستکش نہیں ہو جانا چاہیے۔ اس قوم کا اصل دکھ ان کی معاشی تنگدستی و بدحالی ہے ۔ مہنگائی و بے روزگاری نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، ان بے چاروں کی بلا سے کہ تمہارا کون سا حصہ جسم و جان ہے اور کونسا ’’شہ رگ‘‘ ہے۔ شہ رگ کو اگر کسی دشمن نے دبوچ رکھا ہو تو کوئی پچھتر سال کیا پانچ منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ آج ایک ایک باشعور پاکستانی کو یہ سمجھ آ چکی ہے کہ پچھلی سات دہائیوں سے اس کے ساتھ ڈرامہ کیا جارہا ہے، ہمارے مسائل وہ نہیں ہیں جو مطالعہ پاکستان نامی سلیبس میں ہمیں رٹائے جاتے ہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ روٹی کپڑا، مکان، علاج، انصاف اور تعلیم ہے ۔ اگرچہ کئی مداریوں نے ان مسائل کو بھی حصول اقتدار کے لئے محض نعرے بازی کے طور پر استعمال کیا، یوں عوام اور عام آدمی کا استحصال کیا۔ موجودہ بلند پرواز کی خدمت میں بھی گزارش ہے کہ وہ محض اپنی آنیاں جانیاں دکھانے کی بجائے اس قوم کے اصل دکھ کی طرف توجہ مبذول فرمائے، ہمارا اصل ایشو ہماری ’’برباد معیشت‘‘ ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اپنا ٹارگٹ معاشی خوشحالی بناتے ہوئے تعلقات اسی حوالے سے استوار کریں۔ ہمارا دنیا میں کوئی دشمن نہیں ہے دراصل ہم خود اپنے آپ کے دشمن ہیں۔ ’’ہمارا جسم و جان‘‘ ہماری ’’شہ رگ‘‘ ہماری معیشت ہے صرف معیشت۔ یو این کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اپنے عوام کے اس کور ایشو کو نظر انداز نہ کریں لاحاصل کہانیاں گھڑنے سے باز آ جائیں، کٹھ پتلی بننے اور چاپلوسی کرنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ آپ لوگوں نے پون صدی ایک لاحاصل و بے معنی نان ایشو پر دہائیاں دے کر اور لڑ بھڑ کر دیکھ لیا۔ اپنی پوری قوم کو کنگال بنا دیا۔ اب پوری دنیا کے سامنے خود کو عالمی بھکاری کے روپ میں پیش مت کرو۔ کہاں ہے ہمارا وہ اقبال جو خودی کی باتیں کرتا نہیں تھکتا تھا: جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی۔