پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس نامعلوم وجوہات پر مزید ایک ماہ کیلئے ملتوی
اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف 22 ستمبر کو ہونے والا مشترکہ اجلاس تیسری بار مزید ایک ماہ کے لیے کوئی وجہ بتائے بغیر ملتوی کر دیا ہے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے باضابطہ اعلان میں بتایا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس اب 20 اکتوبر کو ہوگا۔ باضابطہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر نے پارلیمنٹ (جوائنٹ سٹِنگز) رولز 1973 کے قاعدہ نمبر 4 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مشترکہ اجلاس مؤخر کیا۔
پارلیمنٹ کا آخری مشترکہ اجلاس 9 جون کو ہوا تھا جس میں حکومت نے متنازع انتخابی اصلاحات اور احتسابی قوانین کامیابی سے منظور کروائے تھے جنہیں اس سے قبل صدر عارف علوی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے باوجود منظوری دینے سے انکار کر دیا تھا۔
ایوان بالا اور ایوان زیریں سے منظوری کے بعد بل صدر کی منظوری کے لیے بھیجے گئے تھے تاہم صدر عارف علوی نے انہیں دوبارہ غور کے لیے پارلیمنٹ کو بھیج دیا تھا۔ یہ بل دوبارہ صدر کو پیش کیے گئے لیکن انہوں نے ان پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد یہ بل آئین کے آرٹیکل 75 کے مطابق 10 روز بعد پارلیمنٹ کا ایکٹ بن گئے۔
بعدازاں اسپیکر نے مشترکہ اجلاس 20 جولائی تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا کیونکہ حکومت مشترکہ اجلاس میں کچھ مزید بل منظور کروانے کا ارادہ رکھتی تھی۔ تاہم 18 جولائی کو اسپیکر نے کوئی وجہ بتائے بغیر مشترکہ اجلاس 22 اگست تک ملتوی کردیا۔
25 جولائی 2018 کے عام انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی موجودہ قومی اسمبلی اپنی 4 سالہ مدت پوری کرکے اپنے آخری پارلیمانی سال میں داخل ہو چکی ہے۔ صدر کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب لازمی ہے جوکہ 14 اگست کو قومی اسمبلی کا آخری پارلیمانی سال شروع ہونے کے ساتھ ہی لازم ہو چکا ہے اور تاحال تعطل کا شکار ہے۔