وزیر اعظم نومبر میں نیا آرمی چیف مقرر کریں گے: خواجہ آصف

  • ہفتہ 17 / ستمبر / 2022

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ روس نے گیس کے علاوہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے غذائی اجناس کی ممکنہ قلت کے پیش نظر پاکستان کو گندم فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ روس نے کہا ہے کہ وہ ہمیں گندم فراہم کر سکتا ہے کیونکہ آنے والے دنوں میں ملک میں گندم کی قلت ہو سکتی ہے۔ واضح رہے وزیر اعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیمن کے اجلاس کے دوران سمر قند مین روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی تھی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ وہ ہمیں گیس دے سکتے ہیں۔ روس نے کہا کہ ان کے پاس وسط ایشیائی ممالک میں گیس پائپ لائنیں ہیں اور ان پائپ لائنوں کو افغانستان کے راستے پاکستان تک وسعت دی جا سکتی ہے۔ صدر پیوٹن نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی سطح پر روس یوکرین جنگ پر پاکستان کے موقف کو بھی سراہا۔

چینی صدر کے ساتھ ملاقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ شی جن پنگ نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو اسی کارکردگی اور جذبے کے ساتھ جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ پاکستان اور چین ہر موسم کے دوست ہیں اور چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری سے متعلق پالیسی آئین میں واضح ہے۔ نواز شریف یہ سیاسی ذمہ داری چار بار نبھا چکے ہیں اور شہباز شریف نومبر میں یہ ذمہ داری نبھائیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمران خان صرف آرمی چیف کی تقرری کو متنازع بنانا چاہتے ہیں۔ فوج کے سربراہ کی آئین اور اداروں سے وفاداری پر کسی کو کوئی شک نہیں ہے۔ سیاست الگ بات ہے لیکن اداروں کو متنازع نہ بنایا جائے۔

حالیہ دنوں میں عمران خان کے بیانات کو ملک کی قومی سلامتی کے خلاف تھے اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین تحریک انصاف اپنے ذاتی فائدے کے لیے پاکستان کو سبوتاژ کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ وزیر دفاع نے موجودہ صورتحال میں سیاست کو ایک طرف رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔ پاکستان کی خاطر انا یا سیاست کبھی آڑے نہیں آتی، آج معیشت پر بھی دباؤ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کبھی سیلاب کے بارے میں بات نہیں کرتے بلکہ اس کے برعکس وہ صرف اپنی حکومت واپس چاہتے ہیں۔ جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ اس کے باوجود متاثرین کی مدد کے لیے پی ٹی آئی کی طرف سے کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔