سیلاب، امداد اور چاک گریباں اپنا

سیلاب کی تباہ کاریاں اس قدر وسیع اور شدید ہیں کہ عام آدمی ان کا تصور کرکے ہی گھبرا اٹھتا ہے۔ ٹی وی اسکرینوں پر ایک کے بعد ایک ہولناک منظر دل دہلا دینے کو کافی ہیں۔

 مخیر حضرات اور عام لوگوں نے  اپنی اپنی بساط کے مطابق بڑھ چڑھ کر ریلیف کے کاموں میں حصہ ڈالنے کی کوششیں کیں۔ انفرادی طور پر  بھی  اور   چند بڑی تنظیموں کے بارے میں  بہت کچھ اچھا سنا، جان کر خوشی ہوئی کہ ابھی کچھ مٹی نم بھی ہے اور زرخیز بھی۔ تاہم مختلف سطحوں  اور طبقات میں معاملہ فرق  بھی دیکھا گیا۔ 

دنیا کے مشہور سرمایہ کار جارج سورو نے ایک بار کہا تھا کہ  مارکیٹ میں افراتفری ہی تو منافع کمانے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ قدرتی آفات اور سیلاب کے  اس موقعے کو  پیسہ  کمانے کے لئے بے دریغ استعمال کرنے والوں کی   بھی کمی نہیں رہی۔ 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب کے دوران امدادی کاموں، امداد اور امدادی  سامان کو کئی لوگوں نے موقع غنیمت جان کر جو رویہ اختیار کیا اس نے اپنے پرایوں میں ہمارے بارے میں بد اعتمادی پیدا کی۔ اس بار بھی ایسے واقعات کا ظہور اس بات کا اشارہ ہے کہ موقع پرستی اور ہوس زر  ہم میں سے بہتوں کی گھٹی میں پڑ چکی ہے۔  اہل دل اور مخیر حضرات کی دل شکنی ہر گز مقصود نہیں لیکن تصویر کا دوسرا رخ دیکھنا بھی ضروری ہے۔  نمونے کے لئے دو  واقعات:  پاکستانی  نژاد معروف امریکی بزنس مین طاہر جاوید کا نوحہ اور  پندرہ سو  امدادی خیموں کی برآمدگی کا احوال۔  طاہر جاوید  معدودے چند  پاکستان نژاد  امریکی  بزنس ٹائیکونز میں سے  ہیں.   تارکین وطن پاکستانیوں  میں انتہائی فعال اور متحرک۔  حالیہ تباہ کن سیلاب  کا سن کر پاکستان پہنچے، سیلاب کی تباہ کاریوں کا  بہ چشم خود مشاہدہ کیا۔  ایک ٹی وی پروگرام میں  اپنے مشاہدات کا تذکرہ کچھ یوں کیا:  میرا اپنا ایک تجربہ ہوا، بڑے دکھ کے ساتھ کہتا ہوں ہزاروں میل کا سفر طے کرکے تین امریکی سیاست دان سیلاب کی تباہ کاریوں اور بحالی کے امکانات کا جائزہ لینے آئے۔ حیدر آباد،  دادو  اور سہیون میں کسی مقامی سیاست دان نے انہیں ویلکم  نہیں کیا۔ شام کو واپسی پر  میں نے چند ایک سے گلہ کیا تو انہوں نے کہا، آپ نے ہمیں  بتایا ہوتا۔  میں نے انہیں بتایا کہ کل صبح ایک امریکی کانگرس مین نے جانا ہے، آپ دیکھ لیں،  کوئی ساتھ نہیں آیا۔ بلکہ ان کے لئے ہیلی کاپٹر کا بندوبست کرنے  کے لئے مجھے  بہت کچھ کرنا پڑا۔دیکھیں بات یہ ہے کہ سیاسی لیڈرشپ میں بہت بڑی  ’لاتعلقی‘ ہے۔ میرا نہیں خیال کہ ٹاپ کی لیڈرشپ کوباتیں کرنے  کے سوا اندازہ  بھی ہے  کہ  سیلاب سے کتنا بڑا  نقصان ہوا ہے۔  اگر ہوتا تو ان کے رویے تبدیل  ہوں، ان کی آنکھوں میں آنسو ہوں اور یہ ٹیبل پر بیٹھ کر  سبھی سر جوڑ کر حل نکالیں کہ  آگے کیا ہو؟

آگے کیا ہوگا؟ زیادہ انتظار ہی نہیں کرنا پڑا۔  اگلے ہی روز سندھ کے ضلع نصیر آباد میں ایک  سیشن جج نے ایک  سابق کونسلر اور مقامی سیاست دان کی رائس  ملز  پر پولیس کے ہمرا گودام پر چھاپہ مارا تو  پندرہ سو  خیمے برآمد کئے جو سیلاب زدگان کی امداد کے لئے  تھے۔ کچھ پر غیر ملکی امداد دینے والے ملک اور تنظیموں کے نام بھی تھے۔ گزشتہ ہفتے  یو این او کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس دورے پر آئے تو وزیر اعظم  نے ان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں   بار بار انہیں یقین دلا یا کہ  امداد کی ایک ایک پائی شفاف طریقے سے خرچ ہوگی۔ اس یقین دہانی کی ضرورت یوں پڑی کہ ماضی میں ایسی ہی تباہ کاریوں کے  موقعے پر امداد کی تقسیم میں تاخیر،  عدم شفافیت اور کرپشن کے واقعات کے سبب   غیر ملکی اداروں اور  بیرونی ملکوں کا اعتماد متزلزل  ہوا۔

اسی سلسلے میں  یاد ماضی سے ایک جھلک: 2010  میں  تباہ کن سیلاب کا جائزہ لینے یو این او کے  سیکریٹری جنرل  بان کی مون آئے۔ دورے کے بعد بولے، میں نے زندگی بھر اس قدر بڑی تباہی اور اتنے زیادہ متاثرین نہیں دیکھے۔ دنیا سے 460 ملین ڈالرز کی امداد کی اپیل کی۔  تین ہفتے گزرنے کے بعد اعلانات کا  فقط 20 فیصد  وصول ہوا۔ اب دوبارہ  2022 میں واپس آتے ہیں۔  یو این او کے  سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس  کا بیان اور تاثر ہو بہو  ان کے پیشرو بان کی مون کا سا تھا۔ تاہم  انہوں نے دنیا سے  160  ملین ڈالرز امداد کی اپیل کی یعنی  تین سو ملین ڈالرز کم۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ اس اپیل کے جواب میں کب اور کتنی رقم موصول ہوتی ہے؟ اور جو ہوئی بھی، کیا وہ  ساری کی ساری  امداد حق داروں تک پہنچ پائے گی یا پھر خاصا بڑا حصہ   ٌراستے  ٌکی نذر ہو  جائے گا۔

اجتماعی مزاج کا کرشمہ ہے یا  پھر زوال  کی پھٹکار کہ سیلاب زدگان کے لئے لائی جانے والی امداد کو اپنی سلامتی کے لئے امداد کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ سندھ اور  جنوبی پنجاب  میں  راستوں کی  ٹوٹ پھوٹ اور تباہ کاریوں کے سبب  اندرون علاقہ امداد بہنچنے کے مواقع مشکلات سے اٹے ہوئے ہیں۔ ایسے میں  بیشتر  جگہوں  پر کئی سنگدل اور بے حس لوگ  امدادی سامان کے ٹرک لوٹنے میں مصروف ہیں، لٹنے والے دہائیاں دیتے رہ جاتے ہیں کہ تمہارے لئے ہی جمع کرکے لائے تھے مگر  کون سنتا ہے؟  ایک  اور  دقت  یہ بھی سامنے آ رہی ہے کہ کچھ متاثرین  آسان  رابطہ سڑکوں پر قابض ہیں اور ہر آنے  والی امدا د کو   حقدار جتلا کر  اینٹھ لیتے ہیں۔ ایسے گھرانوں نے  اس ترکیب  سے کئی  مہینوں کا راشن جمع کر لیا۔ کچھ نے  جمع شدہ راشن مارکیٹ میں بیچنے کا کام بھی چمکا ر رکھا ہے جبکہ اصل متاثرین  بدستوربے چارگی کے  سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔

طاہر جاوید کا دکھ اپنی جگہ مگر  موقع پرستوں کے لئے اس سے بہتر موقع کیا ہو گا جب  صوبائی حکومتیں اور سیاست دان اپنے اپنے داؤ پیچ آزمانے میں مگن ہیں۔ ساغر صدیقی یاد آئے:

جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی

اس عہد کے سلطاں سے کوئی بھول ہوئی ہے