سیلاب کے بعد بیماریوں کا پھیلاؤ نیا خطرہ بن رہا ہے
سندھ میں تباہ کن سیلاب سے متاثرہ لوگوں میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ ہے۔ خدشات کے باعث ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بیماری اور موت کی آنے والی دوسری تباہی سے خبردار کردیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے مخیر افراد پر زور دیا کہ وہ زندگیاں بچانے اور سیلاب زدگان کو مزید مصائب سے بچانے کے لیے کھلے دل سے امداد کرتے رہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سیلاب زدہ علاقوں میں پانی کی سپلائی معطل ہے جس کی وجہ سے لوگ غیر محفوظ پانی پینے پر مجبور ہیں جو ہیضہ اور دیگر بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔
گندا پانی مچھروں کی افزائش گاہ بن جاتا ہے اور ملیریا، ڈینگی جیسی ویکٹر سے پیدا ہونے والی بیماریاں پھیلاتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صحت مراکز سیلاب میں ڈوب چکے ہیں۔ ان میں فراہم کی جانی والی خدمات کو نقصان پہنچا ہے اور لوگ گھروں سے نقل مکانی کر گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے صحت کی معمول کی خدمات تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک کے شعبہ صحت میں کام کرنے والے افراد نے اس قدرتی آفت کے دوران خدمات کی فراہمی کے لیے وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتے تھے۔ سیلاب کے دوران تقریباً 2 ہزار مراکز صحت مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں یا انہیں جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے ڈائریا سے نمٹنے کے لیے پانی صاف کرنے والی کٹس اور اورل ری ہائیڈریشن سالٹس فراہم کیے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے فوری طور پر ڈبلیو ایچ او کنٹی جینسی فنڈ سے ایک کروڑ ڈالر جاری کیے جس سے ملک میں ہنگامی ضروری ادویات اور دیگر سامان پہنچانے میں مدد ملی۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سیلاب زدگان کی فوری امداد کے لیے جاری فلیش اپیل پر فوری ردعمل دینے پر عطیہ دہندگان کا بھی شکریہ ادا کیا۔ بحران کے دوران ہونے والے نقصان کا جائزہ لینے کا کام جاری ہے اور جلد ہی نظرثانی شدہ اپیل جاری ہوگی۔
دوسری جانب، محکمہ صحت سندھ نے کہا ہے کہ یکم جولائی سے اب تک صوبے بھر کے مختلف میڈیکل کیمپوں میں مجموعی طور پر 25 لاکھ مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔
ملک بھر میں ہونے والی مون سون کی غیر معمولی ریکارڈ بارشوں اور شمالی علاقوں میں گلیشیئر پگھلنے سے آنے والے سیلاب نے 14 جون سے اب تک سوا 3 کروڑ افراد کو متاثر کیا ہے جب کہ اس ہلاکت خیز سیلاب کے دوران ایک ہزار 540 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
ملکی تاریخ کے بدترین تباہ کن سیلاب سے گھر، سڑکیں، پٹریاں، مویشی اور فصلیں بہہ گئیں جس کے نقصان کا تخمینہ 30 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔