پنجاب اسمبلی: وزیراعظم کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی قرارداد منظور

  • منگل 20 / ستمبر / 2022

پنجاب اسمبلی میں وزیر اعظم شہباز شریف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی ہے۔  قرارداد میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر نواز شریف سے مشاورت پر آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

قرارداد صوبائی وزیر پارلیمانی امور راجا بشارت نے پیش کی۔ قرارداد میں میڈیا رپورٹس کا حوالے دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نواز شریف لندن میں مفرور زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان سے حساس قومی معاملات بشمول آرمی چیف کی تقرری پر مشاورت کی گئی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کے حلف نامے کے مطابق آئین حساس قومی معاملات پر وزیر اعظم کو غیر متعلقہ شخص سے مشاورت کرنے سے روکتا ہے۔

قرارداد میں بتایا گیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف خود کئی مقدمات میں ملزم ہیں۔ امپورٹڈ حکومت نے آئینی شق کی خلاف ورزی کی ہے، لہٰذا وزیر اعظم کے خلاف آرٹیکل 5 اور 6 کے تحت کارروائی کی جائے۔ صوبائی وزیر راجا بشارت نے اسمبلی میں وزیر اعظم کا آئینی حلف نامہ پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ قرارداد کے علاوہ شہباز شریف کے خلاف آرٹیکل 5 اور 6 کے تحت کارروائی شروع کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کی ملاقات لندن فلیٹ میں ایک مفرور شخص سے ہوئی جس کا ذکر پاناما اسکینڈل میں تھا اور جائیداد کیس میں ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔

ایوان نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف نفرت انگیز تقریر کرنے پر مسلم لیگ (ن) کے اراکین قومی اسمبلی جاوید لطیف اور مریم اورنگزیب کے خلاف ایک اور قرارداد بھی منظور کی۔ جب کہ سرکاری ٹی وی کے منیجنگ ڈائریکٹر پر تقریر نشر کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

 قرارداد پیش کرنے کے دوران ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے ایک دوسرے کے خلاف ’شرم کرو‘ کے نعرے لگائے۔