برطانیہ میں ہندو مسلم کشیدگی کے سبب 47 افراد گرفتار
برطانیہ میں پاکستانی اور بھارتی شہریوں میں شروع ہونے والی کشیدگی تاحال برقرار ہے۔ برطانوی پولیس کے مطابق لیسٹر میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے 47 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز لیسٹر میں کشیدگی اس وقت پھیل گئی جب مسلم اور ہندو برادری کے نوجوان سڑکوں پر آکر اشتعال انگیزی کرنے لگے۔ دونوں گروپوں نے الزام لگایا کہ ان کے اراکین کے ساتھ بدتمیزی کی گئی ہے۔ ابتدائی طور پر پولیس نے کہا تھا کہ انہوں نے تشدد بھڑکانے پر دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یہ 28 اگست کو ایشیا کپ کے دوران پاک بھارت میچ کے بعد پیش آئے واقعات کا ایک تسلسل ہے۔
اتوار کو شہر میں ایک اور احتجاج ہوا جس میں تقریباً 100 افراد شامل تھے۔ پیر کی صبح بی بی سی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس نے مزید انتشار کو روکنے کے لیے اتوار کو کم از کم 15 گرفتاریاں کیں۔ پولیس نے کہا کہ شہر کے مشرق میں بدامنی کے سلسلے میں مجموعی طور پر 47 افراد گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار افراد میں سے کچھ لیسٹر سے باہر کے تھے، جن میں برمنگھم کے کچھ لوگ بھی شامل تھے۔
دی گاڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں سے 8 کا تعلق لیسٹر شائر سے نہیں تھا بلکہ ان میں سے 5 برمنگھم سے آئے تھے اور 3 دیگر علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ لیسٹر کے گارڈین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑنے والے دوسرے لوگ ہیں جو لیسٹر آرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس کا برصغیر کی سیاست سے زیادہ تعلق ہے۔ دوسری جانب پولیس نے کہا کہ ایک 20 سالہ شخص کو اس واقعے کے سلسلے میں گرفتاری کے بعد 10 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
دوسری جانب برطانیہ کی مسلم کونسل نے ‘لیسٹر میں انتہائی دائیں بازو کے ہندوتوا گروپوں کی طرف سے مسلم کمیونٹیز کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں کونسل نے کہا کہ گزشتہ کچھ روز کے دوران لیسٹر کی متنوع کمیونٹیز کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ مقامی طور پر پرتشدد دائیں بازو کی ہندوتوا کی انتہا پسندی میں اضافہ ہورہا ہے۔
ہفتہ 17 ستمبر کو نقاب پوش مردوں کے گروپوں نے ہندوتوا قوم پرست بالادستی کے نعرے لگاتے ہوئے مسلم اور سکھ آبادی والے علاقے میں مارچ کیا۔ جس کے بعد اشتعال انگیزی کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ ان عناصر نے حالیہ مہینوں میں مساجد کے باہر نعرے لگانے، مسلمانوں پر حملوں اور گھروں اور کاروبار میں توڑ پھوڑ میں حصہ لیا ہے۔
کونسل نے کہا کہ مذہبی رہنماؤں نے یکجہتی کے بیانات شیئر کیے اور پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔ مقامی سطح پر قانون نافذ کرنے والے افسران کی بے عملی پر تنقید کی جا رہی ہے، جو دیرینہ خدشات کے باوجود بھیڑ کو منتشر کرنے میں ناکام رہے۔
ادھر ٹوئٹر پر ایک بیان میں لندن میں بھارت کے ہائی کمیشن نے لیسٹر میں بھارتی کمیونٹی کے خلاف ہونے والے تشدد اور ہندو مذہب کی عمارت اور علامتوں کی توڑ پھوڑ کی سختی سے مذمت کی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم نے اس معاملے کو برطانیہ کے حکام کے ساتھ اٹھایا ہے اور ان حملوں میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔