ایشیائی ترقیاتی بینک کا سیلاب متاثرین کیلئے بڑے امدای پیکج کا اعلان
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے بعد ریلیف اور بحالی کے لیے فوری طور بڑے امدادی پیکج دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایک بیان میں ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا کہ یہ پیکج متاثرین، معاشی صورتحال اور بنیادی انفرااسٹرکچر کی فوری اور پائیدار بحالی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے بیان میں کہا گیا کہ وہ مختصر اور درمیانی مدت کے لیے سڑکوں اور آبپاشی کے انفرااسٹرکچر سمیت تباہ شدہ بنیادی انفرااسٹرکچر کی مرمت کے لیے جاری منصوبوں کا استعمال کرے گا۔ غذائی تحفظ بڑھانے کے لیے زرعی شعبے کی ترقی اور مالی استحکام میں مدد فراہم کرے گا۔ خاص طور پر خواتین اور بچوں کی مدد فراہم کی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ ہم ایسے طویل مدتی منصوبوں کو ترجیح دیں گے جو سیلاب کے بعد تعمیر نو میں معاونت فراہم کریں گے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے انفرااسٹرکچر کو مضبوط کریں گے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے بتایا گیا کہ حتمی طور پر طے ہونے کے بعد ہم اپنے نئے امدادی پیکج کی مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔
بنک نے کہا ہےکہ ’ہم حکومت اور دیگر عالمی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد متاثرین کی زندگیوں اور ذریعہ معاش کی تعمیر نو میں مدد ملے۔ مشکل کی اس گھڑی میں ہم پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں‘۔
خیال رہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ چکے ہیں جہاں وہ پاکستان میں ماحولیاتی تباہی کے اثرات پر روشنی ڈالیں گے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ پاکستان کی کہانی دنیا کو سنانے چند گھنٹے قبل نیویارک پہنچا ہوں۔ یہ کہانی سیلاب کی وجہ سے ہونے والے ایک بڑے انسانی المیے سے پیدا ہونے والے گہرے دکھ اور درد پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب اور دوطرفہ ملاقاتوں میں ان مسائل کے حوالے سے پاکستان کا مقدمہ پیش کروں گا جن پر دنیا کی فوری توجہ کی ضرورت ہے‘۔
دریں اثنا نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب سے متعلقہ مختلف واقعات میں مزید 15 افراد کی موت کے بعد اموات کی کُل تعداد ایک ہزار 559 ہوگئی ہے۔
دریں اثنا گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے لگائے گئے میڈیکل کیمپوں میں 70 ہزار کے قریب مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کی گئی۔ سندھ ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ یکم جولائی سے اب تک 27 لاکھ مریضوں کا علاج کیا جاچکا ہے۔