ہم نے معاہدے کرکے اپنی معیشت کو آئی ایم ایف کے حوالے کیا: مولانا فضل الرحمٰن

  • بدھ 21 / ستمبر / 2022

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ملک میں مہنگائی میں اضافے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اپنے ملک کی معیشت کو معاہدے کرکے آئی ایم ایف کے حوالے کیا۔

سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا سیلاب کی صورتحال اور آزمائش کے ماحول میں کسی شخص یا جماعت پر تنقید یا پارٹی پالیسی کے حوالے سے بات کرنے سے اجتناب کر رہا ہوں، میں نے گزشتہ روز سندھ کے 6 اضلاع کا فضائی دورہ کیا جہاں مجھے ہر جگہ پانی ہی پانی نظر آیا۔ کوئی ایسا علاقہ نظر نہیں آیا جہاں پانی نہ ہو۔

اس وقت جو صورتحال درپیش ہے اس کو سنبھالنا ایک حکومت تو کیا کئی حکومتوں کے بھی بس کی بات نہیں ہے۔ ابھی صرف لوگوں کو ریسکیو کیا جا رہا ہے۔ بحال کرنے کے لیے قومی جذبے سے کام کرنا ہوگا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں سڑکوں سے متعلق انفرا اسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ تاحال پانی موجود ہے، جہاں رابطے منقطع ہیں ان کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ این ایچ اے اپنے وسائل کے ساتھ سڑکوں کی بحالی کے لیے کام کرے گی، سڑکوں کو اپنی حالت میں واپس لانے کے لیے منصوبہ بندی کے ساتھ فنڈز مختص کرنے ہوں گے، اس میں وقت لگے گا، یہ معمولی نہیں بہت بڑا کام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی کی صورتحال کا اندازہ ہے۔ جہاں تک مہنگائی پر تنقید کا سوال ہے، اس کا تعلق پالیسیوں کے ساتھ ہے۔ جن پالیسیوں کے ساتھ ہم نے اپنے ملک کی معیشت کو معاہدے کرکے آئی ایم ایف کے حوالے کیا، جن پالیسیوں کے تحت ہم نے اپنے اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے حوالے کیا، وہ پارٹی آج آزادی کی بات کرتی ہے۔ کس سے آزادی کی بات کرتے ہیں، آئی ایم ایف کے حوالے تو آپ نے کیا ہے۔ آپ کے اپنے لوگوں نے کہا کہ ہم سب کچھ ان کو لکھ کر دے دیا ہے۔

اصل میں پالیسیاں کسی چیز کی حمایت یا مذمت کی بنیاد ہوتی ہیں۔ ان پالیسیوں کے اثرات حکومت کی تبدیلی سے فوری طور پر ختم نہیں ہوتے۔ ایک حد تک ان کے انتہائی منفی اثرات بڑھتے ہیں۔ ساڑھے 3 برسوں کی وہ ناکام پالیسیاں جنہوں نے یہ معاشی بد حالی کی صورتحال پیدا کی، ان کو تین سے چار ماہ میں ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔