صدر پوٹن نے اضافی فوج طلب کرلی، یورپ کو محتاط رہنے کی تنبیہ

  • بدھ 21 / ستمبر / 2022

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے محاذ پر اضافی فوج  بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روسی افواج  کویوکرین میں پسپائی کا سامنا ہے۔

ٹیلی ویژن خطاب میں ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ اضافی فوج کو طلب کرنے کا مقصد روس اور اس کے علاقوں کا دفاع کرنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی ممالک روس کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور یوکرین میں امن کے خواہشمند نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں ملک اور اس کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے جنرل اسٹاف کی جانب سے اضافی فوج طلب کرنے کے فیصلے کی حمایت ضروری سمجھتا ہوں۔ روسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا مقصد یوکرین کے مشرقی صنعتی مرکز ڈونباس کو آزاد کرنا تھا، اس خطے کے زیادہ تر لوگ اس علاقے کو واپس یوکرین کے ساتھ نہیں دیکھنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک ’نیوکلیئر بلیک میلنگ‘ میں مصروف ہیں لیکن روس کے پاس جواب دینے کے لیے بہت سے ہتھیار موجود ہیں اور اس دعوے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔

اس دوران یوکرین میں روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں نے ماسکو سے الحاق کے لیے ریفرنڈم کا اعلان کیا ہے۔ کییف اور اس کے مغربی اتحادیوں نے ریفرنڈم کے منصوبے کی مذمت کی ہے۔ جبکہ امریکہ نے روس کو 'سنگین نتائج' کی دھمکی دی ہے۔

مشرقی اور جنوبی یوکرین میں روس کے زیر کنٹرول چار علاقوں۔ ڈوینٹسک، لوہانسک، خرسون کے حکام نے کہا ہے کہ وہ روس کا حصہ بننے کے لئے ریفرنڈم کروائیں گے۔  یوکرین اور اس کے اتحادیوں نے ریفرنڈم کے منصوبے کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نئی پیش رفت سے  کے سنگین ہوسکتا ہے۔

یوکرین نے ریفرنڈم کے منصوبے کوروس کا اسٹنٹ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام دراصل میدان جنگ میں ہونے والے نقصانا ت پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔