آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کی شرائط میں نرمی پر آمادہ ہے

  • جمعہ 23 / ستمبر / 2022

وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ  کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے پاکستان کی جانب سے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کی شرائط میں نرمی کی درخواست پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

نجی ٹی وی چینل ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض کی اگلی قسط میں ملنے والی رقم میں اضافے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ تاہم آئی ایم ایف کے ساتھ بہت سارے معاملات پر مزید بات چیت ہونا ابھی باقی ہے۔

’دنیا نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ انہوں نے آئی ایم ایف کو سیلاب کے بعد پاکستان کی معاشی صورتحال، کپاس کی فصلوں کی تباہی اور گندم کی مناسب فراہمی کو یقینی بنانے میں ملک کو درپیش مشکلات سے آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2 ہفتوں میں جب میں واشنگٹن جاؤں گا تو باضابطہ بات چیت ہوگی۔ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے شرائط میں نرمی کی جائے گی اور قرض کی قسط کی رقم میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔

مفتاح اسمٰعیل نے بتایا کہ انہوں نے عالمی بینک کے حکام سے بھی ملاقاتیں بھی کیں، ان کی جانب سے رواں سال ملک کو 2 ارب ڈالر ملیں گے۔ اگر سیلاب کے سبب سندھ میں کپاس کی مکمل فصل تباہ ہوئی تو ہمیں کپاس درآمد کرنی پڑے گی۔

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی تیزی سے گراوٹ سے متعلق سوال پر مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ حکومت، آئی ایم ایف کی شرائط اور ڈالر کی کمی کی وجہ سے مارکیٹ میں مداخلت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ڈالر تمام کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوط ہو رہا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا لیکن ہم بالکل دیوالیہ نہیں ہوں گے۔ ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا ہے لیکن آنے والے دنوں میں یہ کنٹرول میں آجائے گا۔

خیال رہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے گزشتہ ماہ پاکستان کے لیے قرض کی سہولت کے مشترکہ ساتویں اور آٹھویں جائزے مکمل کیے تھے جس سے پاکستان کے لیے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر قرض کے فوری اجرا کی اجازت دے دی گئی تھی۔ اس وقت میں آئی ایم ایف ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ ’مالی سال 2023 کے لیے حال ہی میں منظور کیے گئے بجٹ پر ثابت قدمی سے عمل درآمد کو جاری رکھنا، مارکیٹ سے طے شدہ شرح مبادلہ پر عمل پیرا ہونا اور ایک فعال اور محتاط مالیاتی پالیسی کی پیروی کرنا فوری ترجیحات میں شامل ہے‘۔