ایران میں مہسا امینی کی ہلاکت پر احتجاج کے دوران 23 افراد ہلاک

  • جمعہ 23 / ستمبر / 2022

ایران میں کرد خاتون مہسا امینی کی ملک کی ’اخلاقی پولیس‘ کے مبینہ تشدد سے ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے احتجاج کا سلسلہ ساتویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ مظاہروں میں سیوکرٹی فورسز کے تشدد سے 23 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کا دائرہ ایران کے 80 شہروں تک پھیل چکا ہے اور سرکاری اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں اب تک 23 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سینکڑوں سیاسی و سماجی کارکنوں کی گرفتاری کی اطلاعات ہیں۔ بی بی سی فارسی کے مطابق ایران میں حکام چاہتے ہیں کہ مظاہروں سے متعلقہ خبریں عوام تک نہ پہنچ پائیں اور اسی غرض سے بڑے علاقے میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔

ایران کے شمال مغربی شہر ساقیز سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ مہسا امینی گزشتہ جمعے کو تہران کے ایک ہسپتال میں تین دن تک کومے میں رہنے کے بعد وفات پا گئی تھیں۔ انہیں 13 ستمبر کو تہران میں ’گشتِ ارشاد‘ پولیس کے اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔ ’گشتِ ارشاد‘ ایرانی پولیس کے خصوصی یونٹ ہیں جنہیں اسلامی اخلاقیات کے احترام کو یقینی بنانے اور غیر مناسب لباس پہنے ہوئے افراد کو حراست میں لینے کا کام سونپا گیا ہے۔

اس واقعے کے عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ گرفتاری کے بعد مہسا کو پولیس وین میں مارا پیٹا گیا، تاہم پولیس ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مہسا کو اچانک دل کا دورہ پڑا تھا۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ پولیس کی حراست میں مہسا امینی کی ہلاکت کی تحقیقات ہونی چاہییں تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے پر خدشات کا اظہار مغربی ممالک کی منافقت کا عکاس ہے۔

ابراہیم رئیسی نے نیویارک میں گفتگو کے دوران طبی حکام کی اس رپورٹ کا حوالہ بھی دیا جس کے مطابق مہسا پر تشدد نہیں کیا گیا تھا تاہم کرد خاتون کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کرنے والے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ ان اطلاعات کا حوالہ دیتے ہیں جن کے مطابق پولیس اہلکاروں نے مہسا کے سر پر ڈنڈے مارے اور ان کا سر اپنی گاڑی سے بھی ٹکرایا تھا۔

نیویارک میں امریکی نیوز چینل سی این این کی اینکر کرسچیئن امان پور نے ایرانی صدر کا انٹرویو اس وقت منسوخ کر دیا جب صدر رئیسی کی طرف سے کہا گیا کہ انٹروہیو کے دوران امان پور سر ڈھانپ کر بات کریں۔

اس دوران پاسداران انقلاب اسلامی سے وابستہ خبر رساں ادارے تسنیم نے ایران کے مختلف شہروں میں نماز جمعہ کے بعد حکومت کے حق میں مظاہروں کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حکومتی مظاہرہ ’فسادیوں کے خلاف عوام کا غصہ‘ ہے اور ’ایرانی متفقہ طور پر فسادات کی مذمت کرتے ہیں‘۔

مہسا امینی کی موت کے بعد ایران میں متعدد سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے احتجاج کرنے کے لیے اجازت کا مطالبہ کیا تھا تاہم ایران کی وزارت داخلہ کی طرف سے ان تمام درخواستوں پر کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا۔