پاکستان نے ناقابل بیان تباہی کا سامنا کیا ہے: شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کوئی الفاظ پاکستان میں سیلاب کی تباہی کے صدمے کا اظہار نہیں کرسکتے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں یہاں پاکستان کی کہانی سنانے آیا ہوں لیکن میرا دل اور دماغ وطن میں ہی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں اب بھی یہی محسوس ہورہا ہے کہ میں سیلاب سے متاثرہ سندھ یا پنجاب کسی علاقے کا دورہ کررہا ہوں۔ کوئی الفاظ صدمے کا اظہار نہیں کرسکتے جس سے ہم دوچار ہیں۔ میں یہاں پر موسمیاتی آفات سے تباہ کاریوں کی شدت کا بتانے آیا ہوں، جس کی وجہ سے پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے۔ 40 دن اور 40 رات شدید سیلاب نے صدیوں کے موسمیاتی ریکارڈ توڑ دیے۔ آج بھی پاکستان کا بیشتر حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بچوں اور خواتین سمیت 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو صحت کے خطرات درپیش ہیں۔ حاملہ خواتین خیموں میں 650 بچوں کو جنم دیا، 1500 سے زیادہ لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں، جس میں 400 بچے بھی شامل ہیں۔ لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد آج بھی خیمہ لگانے کے لیے خشک جگہ کی تلاش میں ہیں۔ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو دل دکھا دینے والے نقصانات ہوئے ہیں، ان کا روزگار آنے والے لمبے عرصے کےلیے چھن گیا۔
ابتدائی تخمینے کے مطابق 13 ہزار کلومیٹر سڑکیں اور 10 لاکھ سے زائد گھر تباہ ہو ئے اور مزید 10 لاکھ کو جزوی نقصان پہنچا، جبکہ 370 پل بہہ گئے۔ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے 10 لاکھ مویشی ہلاک ہوئے، 40 لاکھ ایکٹر رقبے پر فصلیں تباہ ہوئیں، تباہی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے گلوبل وارمنگ کی تاریک اور تباہ کن اثرات کا سامان کیا ہے۔ پاکستان میں زندگی ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو چکی ہے، میں نے ہر تباہ کن علاقے کا دورہ کیا۔ پاکستان کے عوام پوچھتے ہیں کہ یہ تباہی کیوں ہوئی اور کیا جاسکتا ہے اور کیا ہونا چاہیے۔ ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ ہماری وجہ سے ہے۔
ہمارے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جنگلات جل رہے ہیں اور ہیٹ ویو 53 ڈگری سے بڑھ گئی ہے۔ اب ہم غیرمعمولی جان لیوا مون سون کا سامنا کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز نے کہا کہ جس طرح اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ایسے 10 سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ شکار ہوسکتے ہیں جبکہ ہم گرین ہاؤسز گیسز کا 1 فیصد سے بھی کم اخراج کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس لیے اس نقصان اور تباہی پر انصاف ملنے کی توقع کرنا بہت مناسب ہے۔ میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بے گھر ہونے والے بچوں اور خواتین کے ساتھ خیموں میں وقت گزار اورہمیں مدد کی یقین دہانی کروائی۔ میں تمام ممالک کا شکر گزار ہوں جنہوں نے پاکستان کو امداد بھجوائی، اور ان کے پاکستان میں نمائندوں کا ہمارے مشکل وقت میں اظہار یکجہتی کیا۔ میں اپنی قوم کی طرف سے ایک بار پھران سب کو سراہتا ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے نقصان کا تخمینہ اس وقت لگانا ہماری پہنچ سے باہر ہے۔ اصل پریشانی اس چیلنج کے اگلے مرحلے کے حوالے سے ہے، جب کیمرے چلے جائیں گے، اور اسٹوری یوکرین تنازع کی طرح رہ جائے گی۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسے بحران میں ہم اکیلے رہ جائیں گے جو ہم نے پیدا نہیں کیا۔
ریسکیو اور ریلیف کے بعد کہاں سے اور کیسے بحالی اور تعمیرنو کے مرحلے کا آغاز کریں گے؟ ریلیف اور ریسکیو کا آپریشن 12 ہفتوں سے مسلسل جاری ہے۔ ہم نے زندگیوں کو بچایا ہے، اس کی وجہ سے خوراک کے عدم تحفظ کی مستقل صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایک کروڑ 11 لاکھ مزید لوگ غربت کی لکیر کے نیچے چلے جائیں گے، ہم نے دستیاب تمام تر وسائل کو بروئے کار لا کر قومی ریلیف کی کوششوں کررہے ہیں۔ ہم نے ترقیاتی اخراجات سمیت بجٹ کی ترجیحات میں نظر ثانی کی ہے تاکہ ریسکیو اور بنیادی ضرورت کو ترجیح دی جاسکے۔
ہم نے 40 لاکھ متاثرہ خواتین کو کیش امداد دی ہے جو کئی ہفتوں قبل شروع کی جاچکی ہے، یہ امداد بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت دی جاری ہے۔ ہم اپنی جیب سے تقریباً 70 ارب روپے یا 30 کروڑ ڈالر کی رقم اس پروگرام کے ذریعے دے رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ اس وقت فوری ضرورت اور وسائل کے درمیان فاصلہ بڑھتا جارہا ہے۔ سوال بڑا سادہ ہے کہ کیوں میرے لوگ گلوبل وارمنگ کے اثرات کی قیمت ادا کریں ؟ ہمارا اس میں کوئی قصور نہیں ہے، ہمارا کاربن کے اخراج میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ موسمیاتی ناانصافی اور عالمی بے عملی سے دہرے نقصانات ہورہے ہیں، اس کے معذور کر دینے والے اثرات ہماری مالیات اور ہمارے عوام پر پڑ رہے ہیں۔