پاک بھارت تعلقات میں فوری بہتری کی امید نہیں

  • اتوار 25 / ستمبر / 2022

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا امکان بہت کم ہے لیکن پاک فوج کی قیادت میں تبدیلی اور دونوں پڑوسی ممالک میں ہونے والے عام انتخابات کے باعث کم از کم ایک سال سے دو برسوں کے دوران دوطرفہ تعلقات میں کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں ہے۔

یہ بات عالمی تھنک ٹینک انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے زیر اہتمام مسقط میں منعقدہ ایک تقریب میں موجودہ اور سابق سینئر پاکستانی اور بھارتی سفارت کاروں اور دونوں ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سیکیورٹی حکام اور سیاست دانوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں سامنے آئی۔

گزشتہ ہفتے کے آخر میں منعقدہ تقریب جو کہ ایک طرح کی ٹریک 1.5 کی طرح کی سرگرمی تھی۔ تقریب میں ہونے والی گفتگو اور تبادلہ خیال کے دوران ایسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا جو پاک بھارت تعلقات میں اتار چڑھاؤ کا باعث بنتے ہیں۔ کشمیر، دہشت گردی اور تجارت جیسے معمول کے موضوعات کے علاوہ دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد نے چین اور افغانستان سے متعلق پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

تقریب میں شریک ایک عہدیدار نے کہا کہ میٹنگ کا مقصد جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان کشیدگی کے ممکنہ خطرات اور تعلقات معمول کی سطح پر آنے کے امکانات کے بارے میں بات کرنا تھا۔ دونوں ممالک کے تقریباً 2 دہائیوں کے دورا ن بہت کم تعلقات رہے ہیں۔ ان تعلقات میں سرد مہری اس وقت سامنے آئی جب کہ اگست 2019 میں بھارت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے مقبوضہ کشمیر کا الحاق کیا۔

ڈائیلاگ میں شریک ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کا امکان نہیں ہے جب کہ بھارت اس بات پر مطمئن ہے کہ کوئی بحران نہیں ہے اور ایل او سی پر جنگ بندی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی بھارت کو ہندوتوا نظریے کے تحت ہندو قوم میں تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں اور مسلم مخالف جذبات اور پاکستان مخالف بیان بازی کو ہوا دے رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو تعلقات میں بہتری کی اس وقت امید ہوئی تھی کہ جب وزیر اعظم نریندر مودی نے اپریل میں نو منتخب وزیر اعظم شہباز شریف کو مبارکباد دی۔ اس امید کی بنیاد اس مفروضے پر رکھی گئی تھی کہ شریف خاندان اور ان کی اہم اتحادی پی پی پی روایتی طور پر بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں۔

مسقط میٹنگ کے دوران کچھ بھارتی شرکا نے کہا کہ بھارت میں پالیسی ساز سمجھتے ہیں کہ پاکستان تبدیلی کے مراحل میں ہے جب کہ نومبر کے آخر میں نیا آرمی چیف کمان سنبھالے گا اور 2023 میں انتخابات کا امکان ہے۔ بھارت میں 2024 میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس لیے ان کا خیال ہے کہ دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے یہ مناسب وقت نہیں ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے بھارت کے بارے میں نرم رویے کے عوامی تاثر کے برعکس بھارتی شرکا نے کہا کہ وہ موجودہ اور سابق وزیر اعظم کے تحت پاکستان کی بھارت پالیسی میں بہت کم فرق دیکھتے ہیں۔

تقریب میں شریک ایک پاکستانی عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت تعلقات کی بحالی میں سنجیدہ نہیں ہے۔ وہ دہشت گردی کے الزامات کو مذاکرات اور بات چیت سے فرار کے لیے استعمال کرتا ہے۔