عالمی بینک سیلاب متاثرین کیلئے 2 ارب ڈالر فراہم کرے گا
عالمی بینک کی جانب سے پاکستان میں کثیر شعبہ جاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز میں سے 2 ارب ڈالرز تباہ کن سیلاب کے پیش نظر خوراک، پناہ گاہ اور دیگر فوری ضروریات پر خرچ کیے جانے کا امکان ہے۔
جنوبی ایشیا کے لیے عالمی بینک کے نئے علاقائی نائب صدر مارٹن رائسر نے اعلان کیا ہےکہ پاکستان کو موسمیاتی خطرات سے نمٹنے میں مدد کے لیے تقریباً 2 ارب ڈالر کی مالی اعانت کا ارادہ رکھتا ہے۔ مارٹن رائسر نے اپنے دورہ پاکستان کے اختتام پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ’ہم صحت، خوراک، پناہ گاہ، بحالی اور نقد رقم کی منتقلی میں فوری ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ورلڈ بینک کی مالی اعانت سے چلنے والے موجودہ منصوبوں کے فنڈز استعمال کر رہے ہیں‘۔
اسلام آباد میں عالمی بینک کے ریذیڈنٹ مشن نے کہا ہے کہ ’فی الوقت ملک میں عالمی بینک کے 54 منصوبے ہیں اور مجموعی طور پر 13 ارب 10 کروڑ ڈالر کا مختص کیے گئے ہیں‘۔ ان منصوبوں کے تحت ورلڈ بینک خاص طور پر مالیاتی انتظام اور انسانی ترقی سمیت دیگر شعبوں کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات اور سرمایہ کاری میں معانت فراہم کر رہا ہے۔
سیلاب سے متاثرہ پاکستانیوں کی مدد کے لیے عالمی بینک کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں تباہ کن سیلاب کی وجہ سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر بہت دکھ ہوا ہے، سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں کو فوری امداد فراہم کرنے کے لیے ہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
قبل ازیں مارٹن رائسر نے وفاقی وزرا ایاز صادق، مفتاح اسمٰعیل، احسن اقبال، خرم دستگیر کے علاوہ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا سے ملاقات کی۔ انہوں نے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز کے علاوہ تھنک ٹینکس اور نجی شعبے کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔
دریں اثنا ’پاکستان میں حالیہ سیلاب سے ملنے والے اسباق‘ کے عنوان سے ایک پالیسی اور تکنیکی جائزے میں ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ ملک میں جلد ہی انتخابات متوقع ہیں۔ سیلاب کے اثرات اور اس پر ریاست کا ردعمل نہ صرف سیاسی منظرنامے کا رخ طے کرے گا بلکہ یہ امکان بھی موجود ہے کہ نئے اور زیادہ ووٹرز انتخابی عمل میں حصہ لے سکتے ہیں۔
اس میں کہا گیا کہ امدادی کوششوں کی منصوبہ بندی کسی طے شدہ مدت کے لیے نہیں بلکہ متاثرین کی ضروریات کے تخمینے اور بحالی کی رفتار کے مطابق ہونا چاہیے۔