تمام غیرملکی امداد کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے گا: وزیر اعظم

  • اتوار 25 / ستمبر / 2022

وزیر اعظم شہباز شریف نے عالمی عطیہ دہندگان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کے پاس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اور شفاف طریقہ کار موجود ہے کہ ملک کو فراہم کی جانے والی تمام امداد ضرورت مندوں تک پہنچائی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ملنے والی امدادی رقم کی تقسیم میں شفافیت کے لیے معروف عالمی کمپنیوں کے ذریعے تھرد پارٹی آڈٹ یقینی بنائیں گے۔

 وزیر اعظم جمعہ کی شام امریکا سے روانہ ہوئے تھے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے وزیراعظم کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے عالمی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک کے اعلیٰ حکام سے ملاقات میں قرضوں کی ادائیگی عارضی طور پر معطل کرنے اور سیلاب کی صورتحال بہتر ہونے تک دیگر شرائط کو مؤخر کرنے کی اپیل کی۔

ملاقات کے دوران عالمی قرض دہندگان کے حکام کا رویہ ہمدردانہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ادائیگیاں اور شرائط پر عمل درآمد میں تاخیر سے معیشت اور پاکستانی عوام دونوں کے لیے بڑے نتائج ہو سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ انٹرویو میں یہ بھی انکشاف کیا کہ سیلاب سے تباہ شدہ فصلوں اور بند فیکٹریوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے پاکستان کو تقریباً 10 لاکھ ٹن گندم اور بڑی مقدار میں کھاد درآمد کرنا ہوگی ۔

قبل ازیں وزیر اعظم کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کیے گئے خطاب سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی تلافی چاہتا ہے۔ اس تاثر کی وجہ سے پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی قیاس آرائیاں کی گئیں جو سب سے پہلے ’فنانشل ٹائمز‘ کی جمعہ کے روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں سامنے آئیں۔

ان قیاس آرائیوں کے باعث اقوام متحدہ میں پاکستانی ٹیم میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور اس کے بعد وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو دنیا کو یقین دلانا پڑا کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔ وزیر اعظم کے خطاب کے فوراً بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے وضاحت کی کہ پاکستان معاوضہ نہیں مانگ رہا ہے۔ کوئی ملک بھی آج تک معاوضہ لینے میں کامیاب نہیں ہوا۔

موسمیاتی انصاف کا مطلب یہ ہوگا کہ امیر ممالک جن کی صنعت کاری نے پاکستان کے مقابلے میں موسمیاتی تبدیلیوں میں بہت زیادہ حصہ ڈالا ہے، انہیں پاکستان کے ساتھ ہمدردی کے جذبات کا اظہار کرنا چاہیے۔