مزاحمت اور مفاہمت کی سیاست

مزاحمت کی سیاست کو انتشار ، ٹکراؤ اور محاذ آرائی کی سیاست کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں مزاحمتی سیاست کو منفی سیاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔

جب کہ مزاحمت سے مراد یہ ہوتی ہے کہ آپ اپنے بڑ ے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے جہاں ایک بڑی مضبوط بنیادوں پر سیاسی جدوجہد کرتے ہیں وہیں مزاحمت کو بنیاد بنا کر ریاست، حکومت اور معاشرے کے طاقتور طبقات پردباؤ  پیدا کرتے ہیں کیونکہ سیاسی جدوجہد کے بغیر بڑے مقاصد کا حصول بھی ممکن نہیں ہوتا۔ البتہ مزاحمتی سیاست کو ایک آئینی ، سیاسی دائرہ کار میں دیکھنے کے ساتھ ساتھ اسے پرامن بنانا اور بغیر کسی تشدد کے بغیر آگے بڑھنا ہوتا ہے ۔ پاکستان کئی طرح کے سیاسی ، معاشی اور ادارہ جاتی بحران  کا شکار ہے ۔ اس بحران سے نمٹنے کا راستہ جہاں مفاہمت کی حکمت عملی اختیار کرنا ہوتی ہے وہیں مزاحمت کو بھی ایک بڑی سیاسی حکمت عملی کے طور پر دیکھاجاتا ہے ۔

مزاحمتی سیاست کو بنیادی طور پر سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت، معاشرے کے دیگر طبقات کی بنیاد پر آگے بڑھاتی ہے ۔ اس کی کمانڈ سیاسی جماعتوں کے ہی ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ سیاسی جماعتیں نظام کی تبدیلی، اصلاحات اور معاشرے کی بہتری کے لئے سیاسی جد وجہد کرتی ہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں کسی مزاحمت کے لیے تیار ہوتی ہیں تو اس کی اہم کنجی سیاسی جماعتوں کا اپنا سیاسی داخلی نظام ہوتا ہے ۔ کیونکہ سیاسی جماعتوں کو کمزور کرکے یا ان کو عوام سے لاتعلق کرکے بڑی مزاحمت کا تصور ممکن نہیں ہوتا ۔ محض سیاسی نعروں ، جذباتی باتوں یا تقریروں ، خوشنما نعروں ، لوگوں کے جذبات کو بڑکھا کر ان میں اشتعال پیدا کرنا یا مزاحمت کے عمل کو اپنے ذاتی مفادات تک محدود کرنے سے اول تو ملک میں مزاحمتی سیاست شروع ہی نہیں ہوسکتی اور اگر ہوتی بھی ہے تو اس کے سیاسی نتائج کم ہوتے ہیں۔

لوگوں کو بہت جلد اندازہ ہو جاتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے مزاحمت کے نام پرہمارا استحصال کیا جارہا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ لوگ ابتدا میں مزاحمتی سیاست کا حصہ بنتے ہیں لیکن جلد ہی اس سے خود علیحدہ بھی کرلیتے ہیں ۔ پاکستان میں جو مزاحمت اور مفاہمت کا عمل ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے اس میں بھی کافی حد تک تضادات ہیں۔اگرچہ مزاحمت میں جمہوریت ، قانون کی بالادستی ، سیاسی نظام کو تقویت دینا ، قانون کی حکمرانی ، آئین کا تحفظ ، عوامی مفادات یا قومی سطح کے مفادات کو بنیاد بنا کر مزاحمت کا عمل پیش کیا جاتا ہے ۔ لیکن عملی طور پر سیاسی قیادتوں کی مزاحمت ان خوبصورت نعروں ، سوچ ، فکر یا فلسفہ کے بجائے ذاتی اقتدار کے حصول میں ہوتی ہے۔

وہ جائز یا ناجائز طور سے اقتدار چاہتے ہیں۔  کیونکہ اقتدار کا حصول ہی بنیادی ترجیح ہے اور یہ کس قیمت پر مل رہا ہے، اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ سیاسی جماعتیں گلہ کرتی ہیں کہ عوام مزاحمت کے تیار نہیں ۔ لیکن مسئلہ لوگوں کا نہیں۔ لوگ تو واقعی نظام سے نالاں ہیں اور اس نظام میں ایک بڑی تبدیلی چاہتے ہیں ۔ لیکن یہ سوال خود سیاسی جماعتوں کو سمجھنا چاہیے کہ ان کی مزاحمت کے پیچھے اصل طاقت عوا م ہوتے ہیں۔

جمہوری نظام بنیادی طور پر اصلاحات کے ساتھ ہی چلتا ہے اوراس میں کوئی بڑے انقلاب کی گنجائش کم ہوتی ہے ۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جمہوری سیاست میں مفاہمت اور مزاحمت دونوں پہلوؤں کو فوقیت حاصل ہوتی ہے ۔  مفاہمت اورمزاحمت میں توازن بھی پیدا کیا جاتا ہے ۔ اس تاثر کی نفی کی جاتی ہے کہ ہم مفاہمت کی سیاست کے قائل نہیں بلکہ سب کچھ ہی الٹنا چاہتے ہیں ۔ اس لیے مزاحمت کی سیاست میں ہمیں پس پردہ مفاہمت کا عمل بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ مفاہمت بھی اسی صورت میں ممکن ہوتی ہے جب آپ مزاحمت سے دباؤ کی سیاست کو قائم کرتے ہیں ۔ جو لوگ یہ منطق پیش کررہے ہیں کہ حال ہی میں عمران خان اوراسٹیبلیشمنٹ کے درمیان پس پردہ کچھ نہ کچھ مفاہمت کا کارڈ کھیلا جارہا ہے۔ تو اس مفاہمتی کارڈ کا تعلق عمران خان کی سخت مزاحمت سے بھی ہے ۔

مزاحمت کی سیاست میں سب سے اہم کارڈ خود کو پرامن سیاسی جدوجہد اور تشدد سے پاک کرنے سے جڑا ہوتا ہے ۔ مزاحمتی سیاست میں یہ ہی ایک ایسا کارڈ ہوتا ہے جو آپ کو یا تو جمہوری سیاستدان کے طور پر پیش کرتا ہے یا آپ کو پر تشدد۔ اس لیے مزاحمتی سیاست میں نہ صرف سیاسی جماعت، قیادت کو بلکہ اس کا کو اپنے حمایت یافتہ ووٹرز یا سیاسی کارکنوں کو بھی اس بیانیہ کے ساتھ جوڑنا ہوگا کہ ہماری سیاست میں مزاحمت کا پہلو ایک پرامن سیاسی جدوجہد سے ہے۔

مزاحمت کو ایک طرف سیاسی جماعتیں لیڈ کرتی ہیں وہیں عوام  کا سیاسی شعور بھی ان کو متحرک کرتا ہے کہ وہ بھی ریاستی و حکومتی نظام پر دباؤ ڈال کر اپنی بات منوانے کی کوشش کریں ۔ مزاحمت کے نام سے سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی عملی سیاست غالب نظر آتی ہے ۔ اداروں پر بھی دباؤ کی سیاست ہونی چاہیے لیکن اداروں کو متنازعہ بنانا یا ان کی سیاسی تضحیک کا پہلو بھی درست حکمت عملی نہیں ۔ سیاسی جماعتیں مزاحمت میں پہل تو کرتی ہیں لیکن اس پہل کے ساتھ ساتھ ان کے پاس محض حکومت گرانے یا کسی کی ٹانگیں کھینچنے کے علاوہ  روڈ میپ بھی ہونا چاہیے ۔ یہ واضح ہونا چاہیے کہ مزاحمت کے بنیادی محرکات اور مقاصد کیا ہیں اور ہم اس مزاحمت سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ بعض اوقات مزاحمت کا پہلو کامیاب بھی ہوجائے اور حکومت کا خاتمہ بھی ممکن ہوجائے لیکن اس کے بعد کیا ہونا ہے اس کا کسی کو کچھ معلوم نہیں ہوتا ۔

عمران خان جو اس حکومت کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں یا اسلام آباد میں بڑے لانگ مارچ کا عندیہ دیا جارہا ہے اگر وہ حکومت کی تبدیلی یا فوری نئے انتخابات میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں تو ان کی یہ تحریک قومی سیاست میں کیا مثبت نتائج دے سکے گی ؟

ہمیں مفاہمت اور مزاحمت کے درمیان ایک ایسی سیاست درکار ہے جو خالصتاً قومی مفادات کے دائرہ کار میں آتی ہو۔ اس کے پیچھے اصل مقصد عوام کو طاقت ور یا سیاسی او رمعاشی طور پر بااختیار کرنا ، اداروں کو مضبوط اور مربوط بنا کر حکمرانی کے نظام میں شفافیت اور عام آدمی کا سیاسی نظام میں ہونے والی فیصلہ سازی میں عمل دخل کو بڑھانا ہو۔ اس کے بغیر مزاحمت اور مفاہمت محض اپنے ذاتی سیاسی مفادات کی تکمیل ہوتا ہے۔