پاکستان، چین سے بھی قرضوں میں ریلیف لے: امریکی وزیر خارجہ

  • منگل 27 / ستمبر / 2022

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ملک میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے سبب قریبی دوست ملک چین سے قرضوں میں ریلیف حاصل کرے۔

امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کے لیے مضبوط امریکی مدد کا وعدہ کیا ہے جس کا ایک تہائی حصہ سیلاب سے زیر آب ہے جس کا رقبہ پورے برطانیہ کے برابر ہے۔ واشنگٹن میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ملاقات کے بعد انٹونی بلنکن نے کہا کہ ہم ایک سادہ پیغام بھیجتے ہیں کہ ہم پاکستان کے لیے اسی طرح ہیں جیسے ماضی کی قدرتی آفات کے دوران تھے اور دوبارہ تعمیر کے منتظر ہیں۔

انٹونی بلنکن نے  کہا کہ میں نے اپنے ساتھیوں پر قرضوں میں ریلیف اور تنظیم نو کے کچھ اہم معاملات پر چین کو شامل کرنے کے لیے زور دیا تاکہ پاکستان زیادہ تیزی سے سیلاب کی تباہ کاریوں سے نکل سکے۔ چین، پاکستان کا ایک اہم اقتصادی اور سیاسی پارٹنر ہے جو 54 ارب ڈالر کے اقتصادی راہداری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے جس میں انفرا اسٹرکچر تعمیر کرکے بیجنگ کو بحر ہند تک رسائی فراہم ہوگی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں تقریباً 1600 افراد ہلاک اور 70 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوچکے ہیں۔ خدشہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسی تباہ کن قدرت آفات عام ہو جائیں گی۔ امریکا نے پاکستان کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی انسانی امداد کا وعدہ کیا ہے اور طویل مدتی مدد کے وعدوں کے ساتھ ساتھ سامان سے بھرے 17 طیارے بھیجے ہیں۔

پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر کہا کہ گزشتہ ماہ ایک تاریخی مقامی موسمیاتی پیکج پر دستخط کرنے والے امریکی صدر جو بائیڈن کو بھی موسمیاتی انصاف کا معاملہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جو بائیڈن کے انتخابی نعرے کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف اہم نہیں ہے کہ آپ یہاں 'بہتر تعمیر' کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس بحران میں پاکستان کے لیے یہ موقع یہ ہے کہ ہمیں اپنے گھر کو بھی بہتر، سرسبز، زیادہ آب و ہوا کے لیے لچکدار، تعمیر کرنا چاہیے اور مجھے یقین ہے کہ مل کر کام کرنا ہے اور ہم یہ کر سکتے ہیں۔

پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہونے کے باوجود اپنی کی ترقی کی حالت کی وجہ سے گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں صرف 0.8 فیصد حصہ ڈالتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کا ذمہ دار ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کو مذہب اور اظہار رائے کی آزادی کا احترام کرنے کی بھی ترغیب دی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی 5 ماہ پرانی حکومت کو عمران خان کی جگہ لینے کے بعد سے میڈیا پر پابندیوں کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے۔

انٹونی بلنکن نے پاکستان سے بھارت کے ساتھ ذمہ دارانہ تعلقات کو آگے بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا کیوں کہ دونوں حریفوں کے درمیان مکالمہ تعطل کا شکار ہے۔