الیکشن کمیشن نے آڈیو لیکس کے حوالے سے الزامات مسترد کردیے

  • منگل 27 / ستمبر / 2022

الیکشن کمیشن آف پاکستان  نے آڈیو لیکس کے معاملے میں ’ایک سیاسی شخصیت‘ کی طرف سے عائد کیے گئے بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ الزامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے الزامات کی سختی سے تردید کردی ہے۔

ایس سی پی کے طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ای سی پی اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے قانون اور آئین کے تحت فیصلے کرے گا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مخلوط حکومت کے کچھ اہم رہنماؤں کی طرف سے مبینہ آڈیو لیک میں کی گئی گفتگو کے بعد ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

عمران خان نے گزشتہ روز ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آڈیو لیک نے اس بات کو واضح کردیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا ’شریف خاندان کا نوکر ہے‘۔ سابق وزیر اعظم نے کہا تھا کہ آڈیو لیک میں چیف الیکشن کمشنر کو کہا جارہا ہے کہ کس کو نااہل ہونا چاہیے اور انتخابات کب ہونے چاہئیں۔

عمران خان نے کہا تھا کہ آڈیو لیک ہونے کے بعد اگر چیف الیکشن کمشنر کو ذرا سی بھی شرم ہے تو ان کو عہدے سے مستعفی ہونا چاہیے مگر ان کو شرم نہیں ہے اس لیے ہم اس کو استعفیٰ دلوائیں گے۔

دوسری جانب ای سی پی نے آج اپنے بیان میں عمران خان کا نام لئے بغیر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کرانے پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے وضاحت کی کہ انتخابات صرف دو صورتوں میں ہو سکتے ہیں یا تو اسمبلیاں اپنی مدت مکمل کریں یا وزیر اعظم اسمبلیاں تحلیل کردیں۔ انتخابات کا اس وقت کوئی بھی امکان نظر نہیں آرہا۔

الیکشن کمیشن نے بیان میں کہا کہ انتخابات میں شفافیت کو یقینی بنانا اس کی ذمہ داری ہے اور جب بھی انتخابت ہوں گے ای سی پی اپنی یہ ذمہ داری یقینی بنائے گا۔

واضح رہے کہ دو روز قبل مسلم لیگ (ن) کے رہنما مریم نواز اور وزیر اعظم شہباز شریف سمیت متعدد حکومتی شخصیات کی کچھ آڈیو کلپس منظر عام پر آئے تھے جن میں ان کو حکومتی معاملات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے اور اس معاملے کے بعد وزیر اعظم ہاؤس کی سیکیورٹی پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔