آڈیو لیکس پر اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان

  • منگل 27 / ستمبر / 2022

وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس کی آڈیو لیکس کو بڑی کوتاہی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں جو تہہ تک پہنچے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے دیگر وزرا کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ آڈیو لیکس میں مریم نواز کی جانب سے سفارش سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے کسی سفارش کا نہیں کہا۔ نہ تو سفارش کی اور نہ فیور مانگی تاہم ڈاکٹر توقیر نے بات کی کہ ان کی شوگر مل کی آدھی مشینری بھارت سے درآمد ہوئی ہے اور اسی حوالے سے بات کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر توقیر نے کہا کہ چونکہ اس پر پابندی لگ چکی ہے، تو یہ اقتصادی رابط کمیٹی اور پھر کابینہ میں جائے گی تو پھر یہ معاملہ بھارت کے ساتھ تھا اور 5 اگست کو بھارت نے جوکیا اس کے نتیجے میں ظلم ہوا، جس کی وجہ سے یہ عمل نہیں کیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ اس کے مقابلے میں ہیرے اور جواہرات کی پیش کش ہوتی تھیں، آڈیو میں اس کی بات سنیں، پھر مراعات کے طور پر زمینیں دی گئیں۔ ہیرے اور جواہرات کی بات نہیں کرتے لیکن اس کو لے کر بیٹھے ہیں جس میں کوئی سفارش نہیں لی گئی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ساری ریاستی مشینری کا بے پناہ استعمال کرتے ہوئے نواز شریف، مریم نواز شریف، پیپلزپارٹی اور مجھ سمیت پوری اپوزیشن کے خلاف کتنے جھوٹے مقدمات بنائے۔عمران خان نے بشیر میمن کو اپنے دفتر میں بلایا اور کہا کہ ان کے خلاف مقدمے کرو تو اس نے جعلی مقدمات بنانے سے انکار کیا۔ اس کا کیا ہوا، اتنا شور میڈیا پر اٹھایا گیا ہے، اس پر انصاف کریں۔ غلطی کی تو پوری قوم سے ہاتھ جوڑ کر معاف کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں 5 قیراط ہیروں کی بات کی گئی، ملکی اثاثے بے دردی سے بیچے گئے، توشہ خانہ کو دیکھ لیں، اس کا ذکر نہیں ہوتا لیکن یہ تو ایک آڈیو ہے کیا اس میں کسی لین دین کی بات ہو رہی ہے یا دور دور تک کوئی شائبہ بھی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ یہاں اسلام آباد میں گھڑیاں بیچ دی گئیں، قانون کی دھجیاں اڑا دی گئیں، گھڑی بیچ کر پیسے جیب میں ڈال لئے اور بعد میں توشہ خانہ کی رقم دی گئی کیا ایسا ہوتا ہے۔ پہلے رقم جمع ہوتی ہے پھر لیا جاتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سمر قند میں شنگھائی کانفرنس میں حوصلہ افزا ملاقاتیں ہوئیں۔ وسطی ایشیا، چین اور روس کے صدور سے ملاقات ہوئی اور کانفرنس میں ہم نے پاکستان کے اندر سیلاب کےبارےمیں بتایا کہ اس میں ہمارا کردار قطعاً نہیں ہے اور ہمیں ناکردہ گناہ کی سزا نہ جانے کیسے ملی۔ کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد سے بھی کم ہے مگر یہ آفت آن پڑی اور وہ تباہی مچائی جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی اور یہی بات کانفرنس میں کی اور دنیا کو آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں دنیا کے زعما سے ہماری ملاقاتیں ہوئیں اور اسی پہلو کو اجاگر اور بتایا کہ سیلاب سے 1600 سے زائد لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے، فصلیں اور لاکھوں گھر تباہ ہوگئے اور لوگوں کی کمائی چلی گئی۔ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے 30 ارب ڈالر کے لگ بھگ نقصانات ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نہ صرف پاکستان کے سیلاب کے حوالے سے بات کی بلکہ کشمیر، فلسطین اور اسلاموفوبیا کے حوالے سے پاکستان کا بھرپور مؤقف پیش کیا۔

پچھلی حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوست اور برادر ممالک کو ناراض کیا گیا۔ میں اس کا عینی شاہد ہوں، دوست ممالک نے جو الفاظ کہے وہ نہیں دہرا سکتا۔ لیکن انہوں نے پچھلی حکومت اور اس کے سربراہ کے بارے جو بتایا وہ الفاظ میں یہاں بتاؤں تو سب کو پسینہ آئے گا کہ وہ کیا رائے رکھتے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کس طرح تحکمانہ انداز میں، کسی کی پرواہ نہ کرنے، عزت اور احترام سے بات نہ کرنا اور خود کو آئن اسٹائن سمجھنا، اس طرح کی صورت نے پاکستان کو نقصان پہنچایا لیکن موجودہ حکومت نے دن رات کوشش سے ہم دوبارہ تنہائی سے نکل کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ اور ممالک سے رابطے ہیں، عزت اور احترام سے بات ہوتی ہے۔

آڈیولیکس کے حوالے سے صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتےہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ ایک بہت اہم معاملہ ہے اور بہت بڑی کوتاہی ہے۔ بات صرف میری نہیں ہے بلکہ کوئی بھی وزیراعظم جس کو عوام نے منتخب کیا ہو اور وہاں اس طرح کی سیکیورٹی کی کوتاہیاں ہوں تو بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم سے وزیراعظم ہاؤس میں ملنے کون آئے گا اور بڑا سوچےگا کہ کوئی ایسی سنجیدہ بات کروں یا نہیں کیونکہ 100 باتیں ہوتی ہیں، یہ وزیراعظم ہاؤس کی نہیں بلکہ ریاست پاکستان کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس پر نوٹس لے رہا ہوں، اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی جائے گی جو اس سارے معاملے کی تحقیق کرکے تہہ تک پہنچے گی۔

امریکا میں ہوٹل کے اخراجات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں تین مرتبہ پنجاب کا وزیراعلیٰ منتخب ہوا اور اب مخلوط حکومت کا سربراہ ہوں تو وزیراعلیٰ سے لے کر آج تک میں نے جتنے بھی سرکاری بیرونی دورے کیے اس کے اخراجات ہمیشہ اپنے جیب سے ادا کیے۔ اکثر دیگر ساتھی بھی اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں، یہ نئی بات یا احسان نہیں ہے۔

جب آپ کے وسائل ہیں اور ملک کے وزیراعظم ہیں تو پھر قوم کے پیسے کیوں خرچ کریں اور 25 برسوں میں یہ میری پریکٹس ہے، کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ڈونرز کانفرنس کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں زعما نے ڈونر کانفرنس اور تعاون کی بات کی ہے اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔

مفتاح اسمٰعیل کے بطور وزیرخزانہ استعفے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مفتاح اسمٰعیل نے بڑی محنت سے کام کیا اور ہماری پارٹی کے معزز رکن ہے لیکن ردو بدل ہوتا رہتا ہے اور انہوں نے خود کہا استعفیٰ دینا چاہتا ہوں۔ اسحٰق ڈار تجربہ کار آدمی ہیں اور امید ہے عرق ریزی سے کام کریں گے اور حالات مزید بہتر کرنے میں ان کا پورا کردار ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ انتخابات وقت پر ہوں گے، ہم نے اپنا سیاسی سرمایہ اس ملک کی حالت ٹھیک کرنے، غربت ختم کرنے، مہنگائی کم کرنے کے لیے جھونک دیا ہے کیونکہ یہ ایک اژدھا بن چکا تھا اور ابھی ہے، اس کے لیے ہم دن رات کام کر رہیں۔ عمران خان کے ساتھ بیٹھنے کے تاثر پر پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ پونے چار سال اسمبلی میں بطور قائد حزب اختلاف ان کا جو رویہ تھا وہ سب کے سامنے ہے۔