چیلنجز درپیش ہیں، معیشت کی بہتری کے لیے وقت دیں: اسحٰق ڈار

  • بدھ 28 / ستمبر / 2022

وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ اس وقت ملک کو بہت بڑے اور مشکل چیلنجز کا سامنا ہے، معیشت کی بہتری کے لیے وقت دیں۔ ان شا اللہ ہم ان سے پوری طرح نمٹنے کی کوشش کریں گے۔

بطور وزیر خزانہ حلف اٹھانے کے بعد اسحٰق ڈار وزارت خزانہ میں اپنے دفتر پہنچے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے جب حکومت چھوڑی تو اس ملک کی معیشت کہاں کھڑی تھی۔ 3 دھرنوں کے باوجود پاکستان کی معیشت مضبوط تھی۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ گزشتہ برسوں میں جو کچھ ہوا میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، ہر چیز کو کھلا چھوڑ دیا گیا۔ روپے کی تباہی کے نتیجے میں مہنگائی ہوئی اور شرح سود 13 سے 14 فیصد تک پہنچ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پونے 4 سال کی اس تباہی کو پی ڈی ایم حکومت 5 ماہ میں ٹھیک نہیں کر سکتی۔ بےشک ہمیں اس وقت بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہم نے ماضی میں بھی بڑی کامیابی سے ان کا سامنا کیا۔

اس وقت بھی بہت بڑے اور مشکل چیلنجز ہیں لیکن ان شا اللہ ہم ان سے پوری طرح نمٹنے کی کوشش کریں گے، کامیابی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اسحٰق ڈار نے کہا کہ یہ بہت بڑا جھوٹ ہے کہ ماضی میں ہم نے مارکیٹ میں ڈالر پھینک کر روپے کی قدر کو کنٹرول کیا۔ ڈالر تھے کہاں جو ہم پھینکتے؟ اگر اس میں حقیقت ہوتی تو پچھلی حکومت عوام کو سارا کچھا چھٹا بیان نہ کرتی؟ یہ سب دراصل ہماری کامیاب معاشی پالیسیوں کا نتیجہ تھا، آپ ہمیں وقت دیں یہ سب چیزیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو پاکستان کی کرنسی سے کھیلنے کی اجازت نہیں ہوگی، قیاس آرائیاں کرنے والوں اور ہنڈی والوں کو یہ چیز سمجھ نہیں آتی کہ جب ڈالر ایک روپیہ بڑھتا ہے تو پاکستان پر 110 ارب روپے کا قرضہ بڑھ جاتا ہے

وزارت خزانہ میں اپنے دفتر آمد سے قبل اسحٰق ڈار، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کے ہمراہ سخت سیکیورٹی میں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر جج نے اسحٰق ڈار سے استفسار کیا کہ ’آپ کی درخواست آگئی تھی، کیا ایشو تھا؟ اسحٰق ڈار نے عدالت کو بتایا کہ میں طبیعت کی خرابی کے باوجود پاکستان آنا چاہتا تھا مگر عمران خان کی حکومت نے میرا پاسپورٹ منسوخ کردیا تھا۔

انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ دنیا بھر میں سفارت خانوں کو ہدایت تھی کہ پاسپورٹ نہ دیا جائے، اب پاسپورٹ ملا ہے تو حاضر ہوگیا ہوں۔ عدالت نے حاضری کے بعد اسحٰق ڈار کو جانے کی اجازت دے دی اور نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

بعد ازاں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ میں پرسوں رات پاکستان واپس پہنچا اور میں نے کوشش کی کہ کل صبح عدالت میں پیش ہو جاؤں لیکن کل جج صاحب چھٹی پر تھے۔ آج پھر ہم پیش ہوئے ہیں اور اپنی درخواست جمع کروا دی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ایک پاکستانی چینل نے بھی مجھ پر یہی اعتراضات لگائے۔ میں انہیں برطانیہ کی ہائی کورٹ لے کر گیا اور جہاں انہوں نے معافی مانگی۔ یہاں ان کا بھی مائیک موجود ہے لیکن میں نام نہیں لوں گا، انہوں نے مجھے 3 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کیا۔ میں نے وہ تمام پیسہ غریبوں کے علاج کے لیے خیرات کردیا۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان اس وقت بدترین صورتحال سے دوچار ہ۔، اس کی بنیادی وجہ پونے 4 برس کی بدانتظامی ہے، انہوں نے اس ملک کا وہ حال کیا جو پاکستان کا دشمن بھی نہ کرے۔ میں 3 بار وزیر خزانہ رہ چکا ہوں، جتنا میں شکر ادا کروں کم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چوتھی مرتبہ مجھے اپنے عوام کی خدمت کے لیے چنا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے مجھے یہ پیشکش کی کہ آپ آئیں اور یہ ذمہ داری سنبھالیں۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ ہماری کرنسی کا یہ مقام نہیں ہے جہاں یہ پہنچ چکی ہے، قیاس آرائیاں کرنے والوں کا کھیل اب بند ہو جانا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ یہ سلسلہ اب بند ہوچکا ہے، میں ان کا مشکور ہوں کہ اگر انہوں نے یہ واقعی بند کردیا ہے اور درست سمت اختیار کرلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری دوسری کوشش مہنگائی میں کمی لانا ہے، ہم شرح سود کو نیچے لائیں گے اور معیشت کو بحال کریں گے۔ میں صرف زبانی دعوے نہیں کر رہا ہوں، مسلم لیگ (ن) حکومت ماضی میں بھی ایسا کر چکی ہے۔ ہم کسی قسم کی ڈیل پر یقین نہیں رکھتے۔ جو ڈیل پر یقین رکھتے ہیں وہی بتائیں کہ آر ٹی ایس کیسے بند ہوا تھا، الیکشن کیسے چوری ہوا تھا۔ یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان کے تقریباً 5 قیمتی سال ضائع ہو چکے ہیں اور پاکستان تقریباً 30 برس پیچھے جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پونے 4 برس کا گند 6 ماہ میں صاف نہیں ہوسکتا، مفتاح اسمٰعیل نے اپنے تجربے کی بنیاد پر اپنی پوری کوشش کی۔ اس کی بدولت پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا۔ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جس کو ہم مزید آگے بڑھائیں گے، ان شا اللہ ہم اس میں کامیاب ہوں گے۔