سائفر اسکینڈل کے بارے میں عمران خان کی آڈیو گفتگو لیک ہوگئی

  • بدھ 28 / ستمبر / 2022

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے حکومت کو امریکی مراسلے کے تناظر میں نشر ہونے والی اپنی گفتگو افشا کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

شہباز شریف، مریم نواز اور وفاقی کابینہ کے ارکان کی آڈیوز کے بعد بدھ کو پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک نئی آڈیو سامنے آئی ہے جس میں عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو امریکی دھمکی سے متعلق مراسلے کے معاملے پر گفتگو کرتے سنا جا سکتا ہے۔ بدھ کو صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں اس آڈیو لیک کے بارے میں عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ انہوں نے ہی لیک کی ہے، شہباز شریف نے ہی لیک کی ہے۔ بہت اچھا ہوا کہ لیک کی ہے۔ پورا سائفر ہی لیک ہو جائے، سب کے سامنے آ جائے تاکہ سب کو پتا چلے کہ کتنی بڑی بیرونی سازش ہوئی ہے۔

اس آڈیو کا آغاز عمران خان کی آواز سے ہوتا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ’اچھا اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، نام نہیں لینا امریکہ کا۔۔۔ بس صرف کھیلنا ہے اس کے اُوپر کہ یہ تاریخ پہلے سے تھی‘۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ اس بیان کا دفاع کیسے کریں گے تو انہوں نے کہا کہ 'اس کے اوپر تو میں کھیلا ہی نہیں ابھی، اب یہ ایکسپوز کریں گے تو کھیلیں گے اس کے اوپر‘۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جیب سے ایک خط نکال کر لہراتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بیرونِ ملک سے ان کی حکومت گرانے کی سازش ہو رہی ہے اور انہیں ’لکھ کر دھمکی دی گئی ہے‘۔ پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کی ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ نئی لیکس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکی مراسلہ وزیر اعظم سے چھپانے کی کوشش کی گئی۔

عمران خان کی یہ مبینہ آڈیو سامنے آنے سے قبل 24 ستمبر کی شام وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزرا اور مریم نواز کی گفتگو کی آڈیوز بھی منظر عام پر آئی تھیں جس کے بعد سے ان کے بارے میں بھی بحث جاری ہے۔

گزشتہ روز وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس بارے میں کہا کہ ’یہ ایک اہم معاملہ ہے اور سکیورٹی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ وزیراعظم ہاؤس کی نہیں ریاست پاکستان کے وقار کی بات ہے۔ آئندہ پاکستان کے وزیراعظم سے ملنے آنے والے سوچیں گے کہ ہم پاکستان کے وزیر اعظم سے یہ بات کریں یا نہیں کیونکہ یہاں تو آواز ریکارڈ ہو رہی ہے۔‘

وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بنا رہا ہوں جو اس کی تحقیقات کرے گی۔ ان آڈیوز میں سے ایک میں شہباز شریف کے پرنسپل سیکریٹری توقیر شاہ کو انہیں مریم نواز کے داماد کے لیے مشینری کی انڈیا سے درآمد کے معاملے پر بات کرتے سنا جا سکتا ہے۔ توقیر شاہ اس آڈیو میں شہباز شریف کو اس بارے میں فیصلہ کرنے سے باز رہنے کا مشورہ دیتے سنے جا سکتے ہیں جس پر شہباز شریف انہیں مریم نواز کو معاملے کی نزاکت سے آگاہ کرنے کا حکم دیتے ہیں۔

منگل کو صحافیوں سے بات چیت میں آڈیو لیکس میں مریم نواز کے داماد کی مشینری انڈیا سے درآمد کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’مریم نے مجھ سے نہ کوئی سفارش کی، نہ فیور مانگی۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’مریم نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی بلکہ ڈاکٹر توقیر نے مجھ سے بات کی کہ مریم نواز کے داماد نے آدھی مشیینری جو پی ٹی آئی کے دور میں منگوا لی تھی، اس کی امپورٹ کا معاملہ ای سی سی میں جائے گا۔‘ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر توقیر سے 'میں نے کہا کہ میں مریم کو خود بتا دوں گا۔'

ادھر حکومت کی جانب سے آڈیو لیکس کے معاملے پر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم نے ایک درجن سے زیادہ سویلین خفیہ ادارے کے ایسے اہلکاروں کے بیانات کو قلمبند کیا ہے جو وزیراعظم ہاؤس میں تعینات تھے۔

سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بھی مبینہ آڈیو لیک میں عمران خان اپنے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ اب ہم نے صرف کھیلنا ہے امریکہ کا نام نہیں لینا جس پر اعظم خان سابق وزیرِ اعظم کو کہتے ہیں کہ سائفر پر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں۔