برطانیہ کا شاہی خاندان، ملکہ وکٹوریہ سے شاہ چارلس تک
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 28 / ستمبر / 2022
واضح رہے کہ پرنس فلپ ہمارے وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے بھانجے تھے۔ کوئین الزبتھ کی نسبت کوئین وکٹوریہ نے زیادہ دکھ یا محرومیاں دیکھیں۔ شاید اسی لئے وہ نسبتاً سخت جان یا طبع ہو گئی تھیں ۔
8ستمبر کو جب کوئین الزبتھ دوئم کے انتقال کی خبر سنی تو ناچیز نے فیس بک پر ان کی تصویر لگاتے ہوئے شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال کو بہت یاد کیا کہ اگر وہ آج زندہ ہوتےتو ضرور اس طرح کا طویل مرثیہ تحریر فرماتے جو انہوں نے 22جنوری 1901کو کوئین وکٹوریہ کی وفات پر لکھا، خاص مجلس میں پڑھا اور ایک ادبی میگزین میں چھپوایا۔ ہمارے سطح بین لوگوں کو اس حوالے سے بڑی حیرت ہوتی ہے کہ علامہ اقبال ایک طرف فرنگی کے خلاف قوم کو ابھارتے رہے اور دوسری طرف ان کے قصیدے یا مرثیے بھی لکھتے رہے۔ اگرچہ یہ بحث ایک الگ آرٹیکل کی متقاضی ہے پھر بھی یہ عرض ہے کہ ہماری اس معصوم قوم کے سامنے مطالعہ پاکستان گھڑنے والوں نے شدید زیادتی کر رکھی ہے۔ انہوں نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ قوم کے سامنے کبھی سچائی نہیں آنے دینی۔ ہر ہر چیز میں چاہے کوئی کارن نہ بھی ہو، جھوٹ ہی بولنا ہے، جھوٹ ہی لکھنا اور چھاپنا ہے۔ چاہے وہ سرسید ، جناح اور اقبال جیسے باصلاحیت لوگ ہی کیوں نہ ہوں۔ انگریز ہوں یا برٹش سرکار ہمارے یہ ہر سہ قائدین ہمیشہ ان کی خوبیوں کے قائل اور مداح رہے۔
1906 میں سرسید کے شاگردوں نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی تو اس کا خمیر برٹش سرکار کی خدمت و وفاداری پر استوار تھا۔ اس لئے اگر 1901 میں نوجوان اقبال نے کوئین وکٹوریہ کا مرثیہ لکھا تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ ہم اس تعزیتی ریفرنس پر بعد میں آتے ہیں۔ پہلے اس بات کا جائزہ کہ کوئین الزبتھ اور کوئین وکٹوریہ میں باہمی فرق یا تعلق کیا تھا؟ دلچسپ امر یہ ہے کہ برٹش ہسٹری میں سب سے بڑھ کر مضبوط، پاپولر اور طویل حکمرانی کرنے والی یہ دونوں کوئنز محض اتفاق سے اس منصب پر فائز ہوئیں۔ کوئین وکٹوریہ الیگزینڈریہ پرنس ایڈورڈ کی بیٹی ہیں جو کنگ جارج کا چوتھا بیٹا تھا۔ ان کی پیدائش 24 مئی 1819 کو ہوئی اور کوئین بنیں۔ 20جون 1837 کو محض 18 برس کی عمر میں۔ ان سے پہلے ان کے تایا ولیم (پیدائش 21 اگست 1765) 26 جون 1830 میں کنگ بنائے گئے لیکن محض 7 سال بعد 20 جون 1837 کو وفات پا گئے۔ جبکہ وکٹوریہ کے والد پرنس ایڈورڈ 23 جنوری 1820 کو باون برس کی عمر میں انتقال کرچکے تھے۔ ننھی وکٹوریہ اس وقت محض 8 ماہ کی بچی تھی۔ اب مسئلہ یہ ہوا کہ کنگ ولیم
کے دس میں سے آٹھ زندہ بچوں میں سے کوئی بھی جائز نہ ہونے کی وجہ سے تخت کا وارث نہیں بن سکتا تھا۔ یہ بھی دلچسپ کہانی ہے، سو مجبوری تھی۔
وکٹوریہ کی تعلیم و تربیت اس کی ماں نے کی۔ وکٹوریہ خود بھی بڑی لائق فائق تھی گھر میں اگرچہ انگلش بولتی تھی مگر ضرورت پڑنے پر یونانی، اٹالین، فرنچ اور جرمن کا خوب استعمال کرلیتی تھی۔ اپنے انڈین خدمت گار منشی عبدالکریم پر بے حد اعتماد کرتی تھی۔ اس سے کسی حد تک اردو، ہندی سیکھی تھی۔ انڈیا سے خصوصی لگاؤ کی وجہ سے برٹش پارلیمنٹ نے 1876 میں اسے ایمپرس آف انڈیا کا خطاب بھی دیا تھا۔ لاہور کے چیئرنگ کراس میں کوئین وکٹوریہ کا مجسمہ بھی ضیا دور تک قائم رہا۔ ایمپریس روڈ اور کوئین روڈ تو آج بھی موجود ہیں۔ انڈیا سے ان کے لگاؤ یا اپنائیت کے اور بھی دلچسپ واقعات موجود ہیں۔ کوئین وکٹوریہ نے 10 فروری 1840 کو اپنے کزن پرنس البرٹ سے اپنی پسند کی شادی کی اور محض سترہ برسوں میں پانچ بیٹیاں اور چار بیٹے پیدا کئے۔ مگر کوئین وکٹوریہ کی بدقسمتی کہ جس طرح اس کے سینے میں اپنے والد کا غم رہا اسی طرح اس کا مہربان اور گہری چاہت رکھنے والا شریک حیات شہزادہ بھی محض 42 برس کی عمر میں بیس سالہ رفاقت کے بعد دسمبر 1861 کو چل بسا۔ یوں وکٹوریہ نے بقیہ 40 سالہ طویل عمر ایک بیوہ کی حیثیت سے گزاردی۔
کوئین وکٹوریہ کی طرح کوئین الزبتھ کو بھی تخت نشینی محض اتفاق سے اس طرح ملی کہ اس کے دادا جارج کی 20 جنوری 1936 کو وفات ہوئی تو شاہی روایت کے مطابق اس کے بڑے بیٹے اور کوئین الزبتھ کے تایا پرنس ایڈورڈ کو کنگ بنایا گیا مگر کنگ ایڈورڈ شاید پیدائشی طور پر عاشق مزاج تھا۔ وہ ایک چالیس سالہ طلاق یافتہ امریکی خاتون ویلس سمپسن پر دل و جان سے فدا ہوگیا۔ حالانکہ وہ خاتون دوسری شادی کئے ہوئے تھی۔ کنگ ایڈورڈ کی چاہت اور جذبے کے سامنے بے بس ہوگئی کیونکہ کنگ ایڈورڈ نے اسے ایک خط کے جواب میں کہہ دیا تھا کہ اگر اس نے کنگ کے ساتھ شادی نہ کی تو وہ اپنا گلا کاٹ لے گا۔ پرائم منسٹر سٹینلے سے لے کر کس کس نے بادشاہ سلامت کو نہیں سمجھایا کہ آئینی ہی سہی اتنی بڑی سلطنت کا کنگ ہے تو اس حد تک نہ جائے۔ پھر وہ وقت آیا جب کنگ نے ریڈیو پر آ کر اعلان کردیا کہ میں جس خاتون سے شادی کرنا چاہتا ہوں ضرور کروں گا اس لئے میں تخت برطانیہ سے انصاف نہیں کرسکوں گا۔ یوں تخت سے دستبردار ہو کر اس نے اپنی محبوبہ کے ساتھ بقیہ زندگی فرانس میں گزار دی۔ نتیجتاً کنگ ایڈورڈ کے چھوٹے بھائی اور کوئین الزبتھ کے والد پرنس البرٹ جارج 11 دسمبر 1936 کو کنگ بنائے گئے اس وقت پرنس الزبتھ کی عمر محض دس سال تھی اور یہ دو بہنیں تھیں الزبتھ بڑی تھی اور مارگریٹ چھوٹی۔ ان کی تعلیم وغیرہ کا بندوبست مادر ملکہ کی نگرانی میں گھر پر ہی کر دیا گیا۔
یہاں یہ واضح رہے کہ کوئین وکٹوریہ کی 22 جنوری 1901 کو وفات کے بعد ان کے بڑے بیٹے ایڈورڈ تخت کے وارث بنے اور 6 مئی 1910 کو ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے، کوئین وکٹوریہ کے پوتے اور کوئین الزبتھ کے دادا جارج کنگ بنائے گئے جو جیسے کہ اوپر بیان کیاگیا ہے 20 جنوری 1936 اپنی وفات تک کنگ رہے۔ قریباً 66 کنگز یا کوئنز میں سے کوئین وکٹوریہ الیگزنڈریا کی 63 سالہ حکمرانی کا ریکارڈ تھا لیکن اب سب سے زیادہ طویل 70 سالہ حکمرانی کا اعزاز کوئین الزبتھ کو حاصل ہوگیا ہے اور ان کے بیٹے کنگ چارلس کی تخت نشینی اور ان کے بیٹے پرنس ولیم کی کراؤن پرنس کی حیثیت سب پر واضح ہے۔
کنگ چارلس کا نام آتے ہی ہر دلعزیز پرنسس ڈیانا کا نام ذہن میں آ جاتا ہے۔ جس کے بیٹے پرنس ولیم کو شاید بہت سے لوگ چارلس کی بجائے کنگ دیکھنا چاہتے تھے۔ پرنسس ڈیانا کی ہلاکت کو ربع صدی گزر چکی ہے لیکن شاید یہ ان کی دلفریب خوبصورتی کا سحر ہے، طبیعت کی سادگی ہے یا رفاہی و فلاحی کاموں میں دلچسپی و انہماک، لوگ آج تک انہیں نہیں بھولے۔ بلکہ کوئین الزبتھ کے مرنے پر دبے لفظوں میں احتجاج کیا کہ پرنسس ڈیانا کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا گیا تھا۔ یا ساس بہو کی روایتی چپقلش تھی کہ کوئین یا رائل فیملی ڈیانا کے سوگ میں اس وقت شامل ہوئی جب میڈیا کے ذریعے ان پر شدید دباؤ پڑا اور پرائم منسٹرٹونی بلیئر نے بھی انہیں اس طرف متوجہ کیا۔ تب کوئین نے میڈیا کے سامنے تعزیتی بیان دیتے ہوئے ڈیانا کی بے وقت موت کو اپنا دکھ یا سوگ قرار دیا۔
برٹش منارکی یا رائل فیملی جن بلند اخلاقی معیارات کی دعویدار ہے اکثر و بیشتر ان کے اپنے لوگ ان پر پورا اترنے سے قاصر رہے ہیں۔ اس لئے میڈیا بھی انہیں خوب اچھالتا رہا ہے اور پھر جمہوری الذہن لوگ بالعموم شاہی آداب یا رکھ رکھاؤ ہی نہیں اس طرز زندگی کے ٹھاٹھ باٹھ کو بھی عیاشی و فضول خرچی کے معنوں میں لیتے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ بھی ہے کہ گریٹ برٹن اور اس کے فلاسفر ایک طرف تو نسلیت یا نسل پرستی کو حقارت سے دیکھتے ہوئے ناک بھویں چڑھاتے ہیں دوسری طرف رائل فیملی کی نسلی پیورٹی پر اس قدر زور ہے اور پھر اکیسویں صدی کے تابناک جمہوری دور میں ایک خاندان کا کیا حق ہے کہ وہ ابدی و آئینی طور پر یوں مسلط رہے۔ چاہے اس کی ہزار سال سے بڑھی ہوئی تاریخ ہے چاہے ان کے آباء کی بڑی قربانیاں ہیں۔