افغانستان کو دوبارہ تنہا کرنے کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں: بلاول بھٹو زرداری

  • جمعرات 29 / ستمبر / 2022

پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دنیا کو طالبان کے ساتھ رابطے میں رہنا چاہیے۔  افغانستان کے حکمرانوں کو دوبارہ تنہا کرنے کی صورت میں خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں۔

واشنگٹن کے دورے کے موقع پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے  افغانستان کے منجمد اثاثوں کو سوئٹزرلینڈ کے  فنڈ میں ڈالنے اور متوازی حکومت قائم کرنے کے خدشے کے خلاف خبردار کیا۔ انہوں نےکہا کہ ہم نے ماضی سے سیکھا ہے کہ جب ہم ہاتھ جھاڑ کر الگ ہوجاتے ہیں اور پیٹھ پھیرلیتے ہیں، تو ہم اپنے لیے مزید مسائل پیدا کرتے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے افغانستان میں دو دہائیوں پر محیط جنگ کے خاتمے کے بعد طالبان گزشتہ سال اقتدار میں واپس آئےتھے۔ اس دوران واشنگٹن کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے جو پاکستان کی طاقتور فوج اور انٹیلی جنس ایجنسی کو مورد الزام ٹھہراتا تھا کہ وہ امریکی افواج کو لاجسٹک فراہم کرنے کے باوجود خاموشی سے اسلام پسند عسکریت پسندوں کی امداد کررہا ہے۔

تاہم کچھ سابق پاکستانی عہدہ داروں کے برعکس، وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے طالبان کے لیے گرمجوشی پر مبنی کوئی الفاظ نہیں کہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کو  خواتین کے حقوق جیسے خدشات پر سیاسی گنجائش کی ضرورت ہے۔ پوری تاریخ میں،معاشی بدحالی کے ادوار میں مذہبی، مطلق العنان حکومتوں میں حقوق کو وسعت دینے کا رجحان قطعی طور پر نظرنہیں آتا۔ وہ اپنےعوام کو مصروف رکھنے کے لیے ثقافتی اور دیگر مسائل کا سہارا لیتے ہیں۔

اگست میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا ایک سلسلہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا تھا۔ واشنگٹن کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں نے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کا خیر مقدم کرکےاپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ الظواہری کابل میں ایک گھر میں امریکی حملے میں مارے گئے تھے۔

واشنگٹن میں امریکی تھنک ٹینک یو ایس آئی پی میں منعقد ہونے والی تقریب کے دوران وائس آف امریکہ کی مونا کاظم شاہ نے پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے سوال کيا کہ اب جب پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں اور امريکہ کے چین اور ایران کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔ کيا پاکستان علاقائی اور بین الاقوامی استحکام کے لیے ان ممالک کے درميان ثالثی کا کردار ادا کرے گا؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ ہم يہ اميد کرتے ہيں کہ ايسا ہو۔

ماضی ميں تو ہم (پاکستان) نے يہی کردار ادا کيا ہے۔ چين اور امريکہ کے درميان سفارتی تعلقات ميں پاکستان کا خاص کردار تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نہيں چاہتا کہ ان ممالک کے درميان کسی قسم کی تقسیم يا کشیدگی پیدا ہو۔ جب بلاول سے ایران کے بارے میں خصوصی طور پر پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں تو ہم اسے بخوشی کریں گے۔