کسی کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت غداری کے مقدمہ کے حق میں نہیں: اسپیکر قومی اسمبلی

  • جمعرات 29 / ستمبر / 2022

قومی اسمبلی کے اسپیکر راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ وہ کسی کے خلاف آرٹیکل 6 (غداری کے الزامات) کے تحت مقدمہ چلانے کے حق میں نہیں ہیں۔

 لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دفتر کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کسی کے خلاف مقدمہ چلانے کے حق میں ہیں اور نہ ہی کسی فورم پر اس آئینی شق سے متعلق بات کریں گے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو قومی اسمبلی میں واپسی کی دی گئی تجویز سےمتعلق اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کی ایوان میں واپسی پر وہ ان کا خیرمقدم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹیرین کی جانب سے پیش کیے گئے استعفے کو قبول کرنے یا مسترد کرنے کا ایک آئینی طریقہ کار موجود ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کے دیے گئے استعفوں کے طریقہ کار اور اس وقت کے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی جانب سے انہیں قبول کیے جانے کو سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دیا۔

راجا پرویز اشرف نے کہا کہ استعفوں پر دستخط کی قانونی حیثیت نہیں تھی کیونکہ پی ٹی آئی کے ایک رکن اسمبلی نے ہائی کورٹ میں استعفیٰ منظور نہ کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف ’قائد کے ساتھ وفاداری ثابت کرنے‘ کے لیے دیے گئے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے ایک سوال پر کہا کہ عمران خان بطور وزیر اعظم صرف اس لیے برطرف ہوئے کیونکہ اس وقت کی حکومت کے اتحادیوں نے اسے چھوڑ دیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عام انتخابات قانون اور آئین کے مطابق ہوں گے۔ انتخابات کسی حکومت کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی ہمیشہ اسمبلیوں کی آئینی مدت پوری کرنے کی حامی رہی ہے۔