اسلام آباد ہائی کورٹ نے مریم نواز کو بری کردیا

  • جمعرات 29 / ستمبر / 2022

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کپٹن ریٹائرڈ صفدر کی بریت کی اپیلوں پر محفوظ فیصلہ جاری کردیا جس کے مطابق ان کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کومجموعی طور پر8 سال اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال کی سزا سنائی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں مریم نواز اور کپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر کو دلائل دینے کی ہدایت کی، مریم نواز کے وکیل امجد پرویز اور نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی روسٹرم پر آگئے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ تفتیشی افسر کی رائے کو شواہد کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ جے آئی ٹی نے کوئی حقائق بیان نہیں کیے، صرف اکٹھا کی گئی معلومات دیں۔

خیال رہے کہ 6 جولائی 2018 کو شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو(نیب) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈ اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ اس کے علاوہ عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے لندن میں قائم ایون پراپرٹی ضبط کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کو یہ سزائیں عام انتخابات سے صرف 19 دن قبل سنائی گئی تھیں۔

نواز شریف، مریم نواز اور محمد صفدر نے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور 19 ستمبر 2018 کو ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کی جانب سے سزا دینے کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔