یورپ کیلئے پی آئی اے پروازوں کی معطلی پر سینیٹ کمیٹی میں اظہار تشویش
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوابازی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی یورپی ممالک کے لیے پروازوں کی معطلی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے خلیجی ممالک کی ایئرلائنز کو فائدہ پہنچانے کا دانستہ اقدام قرار دیا۔
سینیٹر ہدایت اللہ کی سربراہی میں کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں پی آئی اے کی جانب سے فراہم کردہ خدمات کے معیار سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے وزارت ہوا بازی سے یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کی جانب سے عائد پابندیوں کو کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں استفسار کیا، جس نے جولائی 2020 میں پی آئی اے کی یورپی یونین کے لیے پروازیں چلانے کی اجازت معطل کر دی تھی۔
سینیٹر ہدایت اللہ نے وزارت ہوا بازی کو ہدایت کی کہ وہ یہ معاملہ وزارت خارجہ اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ساتھ اٹھائے اور پابندی ہٹانے کے لیے آگے بڑھنے کے طریقے پر بات کرے۔ سی اے اے کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ یورپی یونین کی ریاستوں کے لیے پروازیں چلانے کی پابندی آئندہ سال مارچ میں ختم ہونے کی امید ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ قومی ایئرلائن کو برطانیہ کے لیے پروازوں کی معطلی سے تقریباً 100 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔
کمیٹی نے سی اے اے حکام سے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیارے کے ہینگرز سے مہنگے اسپیئر پارٹس کی چوری ہونے کی میڈیا رپورٹس کے بارے میں بھی دریافت کیا۔ سی اے اے کے عہدیداروں نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ رپورٹس جھوٹی اور اتھارٹی اور ملک کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں۔ اسپیئر پارٹس والے تمام گوداموں کو صحیح طریقے سے لاک کیا گیا ہے اور مذکورہ ہینگر کے اندر موجود طیارہ ایک نجی ہوا بازی کمپنی کا تھا۔
کمیٹی کے رکن سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے پی آئی اے کے سی ای او سے ٹکٹ خریدنے کے بعد سیٹوں پر اضافی چارجز عائد کرنے کے بارے میں پوچھا۔ پی آئی اے کے سی ای او نے کہا کہ اس طرح کے کوئی اضافی چارجز کی اطلاع نہیں ہے اور کمیٹی کو یقین دلایا کہ اگر کسی مسافر سے یہ چارجز ادا کرنے کو کہا گیا ہے تو وہ اس کی انکوائری کریں گے۔