عمران خان معافی مانگنے خاتون جج کے پاس پہنچ گئے، ملاقات نہ ہوسکی

  • جمعہ 30 / ستمبر / 2022

چئیرمین تحریک انصاف  جج زیبا چوہدری سے معذرت کرنے کے لیے آج اچانک عدالت پہنچے تاہم جج کی عدم موجودگی کے باعث ملاقات نہ ہوسکی۔

پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان اپنے وکیل کے ہمراہ ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کی عدالت پہنچے تاہم  معزز جج عدالت میں موجود نہیں تھیں۔ عمران خان نے ریڈر سے کہا کہ  میڈم زیبا کو بتانا کہ عمران خان آیا تھا۔ ان  سے معذرت کرنا چاہتا تھا اگر میرے الفاظ سے ان کی دل آزاری ہوئی ہوتو۔

اس قبل عمران خان  ایڈیشنل  سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمے میں عمران خان کی ضمانت منظور کرلی۔ ضمانت منطوری کے بعد عمران خان اپنے وکیل کے ہمراہ جج زیبا چوہدری کے کمرے میں پہنچے۔

اس موقع پر پولیس نے زیبا چوہدری کے کمرہ عدالت کا دروازہ بند کر دیا جس کے بعد عمران خان نے وہاں موجود عملے سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا کہ جج زیبا چوہدری کہاں ہیں؟ اس پر انہیں بتایا گیا کہ وہ آج چھٹی پر ہیں۔ عمران خان نے عملے سے کہا کہ "آپ نے جج صاحبہ کو بتانا ہے کہ عمران خان معذرت کرنے کے لیے آئے تھے۔"

چیئرمین تحریکِ انصاف کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی بات سے جج زیبا چوہدری کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔ آپ گواہ رہنا کہ ان کی عدالت میں معذرت کی ہے۔ جس پر عدالتی عملے نے عمران خان کو کہا کہ آپ کا پیغام پہنچا دیں گے۔

عمران خان عدالتی عملے سے مختصر گفتگو کے بعد جج زیبا چوہدری کی عدالت سے روانہ ہو گئے۔ واضح رہے کہ خاتون جج زیبا چوہدری اور اسلام آباد پولیس کے افسران کو مبینہ دھمکیاں دینے پر عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت اور دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے گئے تھے۔

ہائی کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا تھا کہ عمران خان کا خاتون جج کے پاس معافی کے لیے جانا یا نہ جانا ان کا ذاتی فیصلہ ہو گا۔ البتہ اگر انہیں غلطی کا احساس ہو گیا ہے تو یہ کافی ہے۔ عمران خان نے عدالت سے استدعا کی تھی وہ جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری سے مل کر اُن سے معذرت کرنے اور اپنے بیان کی وضاحت کے لیے تیار ہیں۔