کابل کے امتحانی مرکز میں دھماکہ، کم از کم 19 افراد ہلاک
افغان دارالحکومت کے ایک تعلیمی ادارے میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بڑی تعداد طلبا کی ہے۔
یہ دھماکہ شہر کے مغرب میں دشت برچی کے علاقے میں واقع ’کاج‘ تعلیمی مرکز میں ہوا۔ تعلیمی مرکز کے عہدیداروں نے بتایا کہ طلبا یونیورسٹی کے پریکٹس امتحان میں شریک تھے جب یہ دھماکہ ہوا۔ یاد رہے کہ اس علاقے میں رہنے والی اکثریت کا تعلق اقلیتی ہزارہ برادری سے ہے جنہیں ماضی میں بھی متعدد بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
مقامی ٹی وی اور سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوٹیج میں قریبی ہسپتال کے مناظر دکھائے جا رہے ہیں جہاں فرش پر لاشوں کی قطاریں بچھی ہوئی ہیں۔ مقامی میڈیا پر اس کالج کے تباہ شدہ کلاس رومز میں ملبہ اور اُلٹی پڑی میزیں اور کرسیاں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
ایک ہسپتال میں اپنی بہن کو ڈھونڈنے کے لیے آنے والی ایک خاتون نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’وہ ہمیں یہاں نہیں ملی۔۔۔ وہ 19 سال کی تھی۔‘ یہ ایک پرائیویٹ کالج ہے جہاں مرد اور خواتین دونوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ گزشتہ سال اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک میں لڑکیوں کے زیادہ تر سکول بند ہیں لیکن کچھ نجی سکول کھلے ہیں۔
ابھی تک کسی گروپ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ ہزارہ برادری جن میں سے اکثریت شیعہ مسلمان ہیں، کو طویل عرصے سے نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور طالبان دونوں کی طرف سے ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دولت اسلامیہ اور طالبان، یہ دونوں گروہ سنی اسلام کے ماننے والے ہیں۔
طالبان کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے اس دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ ترجمان عبدالنافی ٹاکور کا کہنا ہے کہ معصوم افراد پر حملے دشمن کے غیر انسانی رویے اور اُن کے اخلاقی معیار کی پستی ظاہر کرتے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔