برطانوی بادشاہت اور جمہوری روایت

دوسری طرف یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ انگریز جنہیں ٹھہر کر کسی سے بات کرنے کی فرصت نہیں ہوتی، کوئین الزبتھ دوئم کی بڑھاپے میں یوں طبعی وفطری موت پر ہجوم کی صورت سارا سارا دن کیوں سڑکوں پر کھڑے رہے؟

ان کو تو کوئی سیاسی پارٹی لے کر بھی نہیں آئی تھی۔ آخر یہ لوگ اپنی کوئین یا رائل فیملی کی محبت میں یوں کیوں گرفتار ہیں؟ کیا یہ میڈیا کا اثرہے؟ میڈیا تو مخالفانہ طور پر بھی بہت کچھ دکھاتا رہتا ہے، شاید اس کی نفسیاتی وجہ یہ ہے کہ لوگ جس شخصیت کو اپنے جنم سے لے کر دیکھتے سنتے چلے آ رہے ہوں اس کے اٹھ جانے سے انہیں ایک نوع کی محرومی یا کرب محسوس ہوتا ہے۔ کوئین الزبتھ دوئم یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا ہر برٹش گھر کی ایک فرد تھیں۔ برٹش منارکی کو اس پہلو سے بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ان کی ہزار سالہ تاریخ کا حصہ ہے جس میں تاریکی کے علاوہ بیشتر درخشاں ادوار رہے ہیں۔ وہ اپنے کنگ یا کوئین کو جس طرح اپنے ملک و قوم کے لئے اتحاد و استحکام اور یکجہتی و ہم آہنگی کے سمبل یا علامت کے طور پر دیکھتے ہیں اسی طرح انہیں یہ دیکھتے ہوئے اپنے وقار کی خوشی ہوتی ہے کہ دنیا کی دیگر کم از کم پندرہ اقوام آج بھی برٹش کوئین کو اپنی آئینی و دستوری سربراہ یا ملکہ تسلیم کرتے ہوئے اسے وہی احترام دیتے ہیں جو برطانیہ والے

 دیتے ہیں۔

 اور پھر کامن ویلتھ سے جڑے تقریباً تمام ممالک میں بھی کوئین قربت و اپنائیت کی سب سے بڑی وجہ وعلامت ہے۔ کوئین یا کنگ پوری دنیا میں انگلینڈ کا مانوس دیرینہ چہرہ ہے اور بالفعل دنیا بھر میں اسے گریٹ یونائیٹڈ کنگڈم کا سب سے موثر و باوقار ایمبیسیڈر قرار دیا جاتا ہے۔ گریٹ برٹن لمبے چوڑے اخراجات کرکے بھی اپنی وہ سفارتی پہچان نہیں کروا سکتی جو رائل فیملی کی وجہ سے اسے میسر ہے ۔ کوئین امریکا و کینیڈا چھوڑ چائنہ میں بھی گئی تو اسے وہ آئیڈیل عالمی پروٹوکول دیا گیا جو شاید کسی وزیر اعظم کو نہ دیا گیا ہوگا۔ دنیا میں جہاں جہاں دستوری بادشاہتیں ہیں یا سعودی کنگڈم جہاں آج بھی حقیقی بادشاہت قائم و دائم ہے، وہاں بھی برٹش کوئین یا کنگ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے جس کا برٹش قوم خاتمہ نہیں چاہے گی۔ اس لئے کسی نے شاید درست ہی کہا تھا کہ دنیا میں بالآخر محض پانچ کنگ رہ جائیں گے چار تاش کے اور پانچواں برطانیہ کا۔

برٹش کراؤن کا ایک مذہبی حوالہ بھی دلچسپ ہے۔ یہاں کی میجارٹی کیتھولک کی بجائے پروٹسٹنٹ ہے جن کنگز نے پروٹسٹنٹ کی بجائے رومن کیتھولک سے تعلق جوڑتے ہوئے ان کے لئے کام کیا انہیں بالآخر منہ کی کھانی پڑی۔ بات طویل ہو جائے گی اگر رومن کیتھولک سے تعلق توڑتے ہوئے انڈیپنڈنٹ چرچ آف انگلینڈ کے قیام یا تشکیل کی کہانی شروع کر دی جائے اور اس میں کنگ ہنری  ہشتم کا کیا رول تھا اور پھرآرچ بشپ کے اختیارات کوکنٹرول کرتے ہوئے چرچ آف انگلینڈ ویسٹ منسٹر ھال کی سربراہی کوئین یا کنگ نے کیونکر سنبھالی جو کہ اب چرچ کا سپریم کمانڈر یا سپریم گورنر کہلاتا ہے جبکہ آرچ بشپ آف کنٹربری بڑا مذہبی عالم یا مولوی، اور یہاں کے جو بھی معاملات ہوتے ہیں ان کی منظوری بہرحال برٹش پارلیمینٹ دیتی ہے۔ غور کیا جائے تو جیسے ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں، برٹش سماج اپنی تمامتر ترقی پسندی کے باوجود جدت و قدامت کاحسین امتزاج ہے اسی طرح ان کا ریاستی نظام بھی ہر دو اعلیٰ اقدار کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے وہ اپنی قدیمی اعلیٰ روایات و اقدار کو شاید اپنا ورثہ، اثاثہ یا امانت سمجھتے ہیں۔

درویش جیسوں کی جمہوری لگن یا عوامی حاکمیت پسندی تو شاید یہ تقاضا کرتی ہے کہ جو طرز کہن تم کو نظر آئے مٹا دو، لیکن گوروں اور ان کے بڑوں نے یہ سبق پڑھا یا پڑھایا ہے کہ توازن و اعتدال کے ساتھ جس کا جو مقام یا حق ہے وہ اسے دے دو۔ سیدنا مسیحؑ کا مسیحؑ کو اور کنگ کا کنگ کو۔ اصل چیز یہ ہے کہ عوام کی اتھارٹی، حاکمیت یا اقتدار اعلیٰ کو بالادست ہونا چاہیے اس لحاظ سے برٹش پارلیمینٹ دنیا بھر میں جمہوریتوں یا پارلیمان کی ماں ہے اور یہاں قانون کی عملداری ہے انسانی عظمت و حرمت کے سامنے کنگز یا کوئنز سمیت سب سرنگوں ہیں۔ ایسی کنگڈم اگر زندہ رہے اور ایسا مذہبی عقیدہ جس کی حدود چرچ تک محدود ہو چکی ہیں وہیں سکون کرے تو ماضی کی ان باتوں اور ہسٹری کی خوبصورت یادوں کا احترام کیوں نہیں کیا جائے گا۔

THE KING IS DEAD, LONG LIVE KING