انٹرنیٹ کا نیا نظام

روایتی انٹرنیٹ انڈسٹری کا خاتمہ ہونے کو ہے؟ آج سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے اس دور میں آپ کسی سے بھی کچھ چھپا نہیں سکیں گے اور نہ کسی کو ابلاغ کرنے سے روک پائیں گے کیونکہ یہ اب کسی کے بس میں رہتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

کچھ دن پہلے آپ نے دیکھا ہو گا کہ آسمان میں روشنی ایک لکیر نظر آرہی تھی جیسے کوئی ٹرین چل رہی ہو۔ بظاہر یہی نظر آرہا تھا کہ فضا میں روشنیوں سے مزین ٹرین چل رہی ہے لیکن یہ ٹرین دنیا کو بہت آگے لے جانے کے لئے چل رہی ہے۔ وہ کیسے ؟ آئیے روشنی سے مزین اس ٹرین کی حقیقت اہمیت اور افادیت پر بات کرتے ہیں۔ آپ سب جانتے ہیں دنیا کا تو ہمیں پتہ نہیں لیکن پاکستان میں انٹر نیٹ سروس فراہم کرنے والی تمام کمپنیاں بشمول سرکاری کمپنی کے حوالے سے ہر خاص و عام میں یہ شکایات عام پائی جاتی ہے کہ ان کی سروس کا معیار دن بدن گر رہا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کیونکہ ان موبائل کمپنیوں نے صرف کنکشن فروخت کرنے پر زور دیا ہے لیکن اس کے معیار اور سروس پر توجہ نہیں دی۔

اس پر طرفہ تماشہ دیکھیے کہ ان کے خلاف شکایات کے باوجود کوئی کارروائی عمل میں کبھی نہیں آئی ۔ کیوں اس سوال کا جواب تقریباً ہر پاکستانی جانتا ہے۔ لیکن اب ان کمپنیوں کی اجارہ داری عنقریب ختم ہونے کو ہے کیونکہ سائنس و ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہر روز ہر منٹ سیکنڈ میں کچھ نہ کچھ نیا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہی تبدیلی ہے جو دنیا کا سب سے بڑا سچ ہے۔ جس روشنی کی ٹرین کی ہم نے با ت کی ہے ہے یہ ایلان مسک کی امریکی کمپنی سپیس ایکس

کے چھوٹے چھوٹے سیٹلائٹس ہیں جو زمین سے قریب پانچ سو پچاس کلومیٹر اوپر خلا میں زمین کے گرد چکر کاٹ رہے ہیں۔ اس پراجیکٹ کا نام سٹار لنک ہے اور اس کے تحت مستقبل قریب میں 42 ہزار سے زائد سیٹلائٹ چھوڑے جائیں گے۔ ان کا مقصد مستقبل میں زمین کے ہر خطے پر انٹرنیٹ کی سہولت میسر کرنا ہے۔

اسٹار لنک کا پہلا پروٹوٹائپ سیٹلائٹ 2018 میں مدار میں چھوڑا گیا۔ اور 2018 سے لے کر اب تک تقریباً 3000 چھوٹے سیٹلائٹس زمین کے مدار میں موجود ہیں اور ایک دوسرے کے آگے پیچھے ہاتھ باندھے ریل کے ڈبوں صورت چل رہے ہیں ۔ یہ سٹلائٹ اس لیے اتنا چمکتے ہیں کہ سورج کی روشنی ان کے لمبے لمبے سولر پینلز پر پڑتی ہے اور یہ زمین کے کافی قریب ہیں۔ یہ سٹلائٹ تقریباً 3 سے 7 میٹر لمبے اور 1.5 سے 3 میٹر چوڑے ہیں۔ مگر جب ان کے سولر پینل خلا میں جانے کے بعد کھلتے ہیں تو انکی لمبائی 20 سے 40 میٹر تک ہو جاتی ہے۔ سپیس ایکس ایک بڑے راکٹ سے ایک ہی وقت میں کئی سٹلائٹ ایک ہی قطار میں خلا میں بھیجتی ہے۔ عنقریب ان سیٹلائٹ کے ذریعے چھوٹے ڈش کی شکل کے آلات کے ذریعے آپ گھروں سے لے کر کہیں بھی انٹرنیٹ استعمال کر پائیں گے۔

یہ سہولت اس وقت محدود حالت میں یورپی ممالک اور امریکہ سمیت 40 ممالک میں موجود ہے اور اس کے صارفین کی تعداد اب تک 5 لاکھ کے قریب ہے۔ کچھ عرصے کے بعد جیسے جیسے ان سیٹلائٹس کی تعداد بڑھتی جاے گی رات کو آسمان میں یہ اتنا ہی زیادہ ستاروں کی صورت نظر آئیں گے۔ مصنوعی سیاروں کے ذریعے انٹر نیٹ سروس فراہم کرنے والی ’اسٹار لنک ‘ نے فائبر اور کھمبوں جیسے انفراسٹرکچر سے نجات دلاتے ہوئے اس نے ایک ڈش یا انٹینے کے ذریعے تیز رفتار نیٹ کی دنیا کے ساتوں براعظم کے کسی بھی کونے میں فراہمی کی دعوی کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا کہ مصنوعی سیاروں کے ذریعے انٹرنیٹ کی فراہمی دنیا کے دور دراز علاقوں، صحراؤں اور پہاڑوں پررسائی کی مشکلات حل کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر ، فائبر اور کھمبوں کی ضرورت بھی نہیں۔ اس کے سنگلز کو جام یا سروس کو بلاک نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ عام ریڈیو سگنلز کو کیا جا سکتا ہے۔

اور اسے سیٹ اپ کرنے کے لیے صرف 15 منٹ درکار ہوتے ہیں۔ اس کی حالیہ مثال روس کی یوکرین پر حملے کی ہے۔ حملے کے بعد روس نے یوکرین کی انٹرنیٹ سروسز بند کر کے ان کی سوشل میڈیا سائٹس کو بلاک کرنے کی کوشش کی۔ ایلون مسک نے حملے کے فوری بعد یوکرین کواسٹار لنک کی سروس فراہم کی۔ اور تقریباً 15 ہزارڈشز اور راوٹرز یوکرین بھجوائے۔ جنگ میں رابطے بحال رہے، انٹرنیٹ چلتا رہا۔ روسں کو اسے بند کرنے کا کوئی طریقہ نہیں مل سکا۔ اس کی دستیابی کیسے ہو ؟ اس حوالے سے کہا گیا ہے جب آپ اسٹار لنک کو سبسکرائب کرتے ہیں تو آپ کو ایک کٹ ملے گی جس میں سیٹلائٹ ڈش اور روٹر شامل ہوتا ہے۔ کنکشن بنانے کے لیے آپ کو صرف اپنے گھر میں سیٹلائٹ ڈش یا انٹینا لگانے کی ضرورت ہے۔ یہ سگنل وصول کرتا ہے اور بینڈوتھ کو آپ کے راوٹر پر منتقل کرتا ہے۔ کٹ کا اینٹینا ایسی جگہ پر رکھنا چاہیے جو اونچا ہو اور رکاوٹوں سے پاک ہو جیسا کہ درخت، چمنیاں، یا کھمبے وغیرہ۔

روایتی انٹرنیٹ سروسز کے مقابلے میں اسٹار لنک مہنگا ہو گا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کی قیمت کم ہوتی جائے گی ۔ اسٹار لنک کی انٹرنیٹ سروس کتنی تیز ہے؟ اس حوالے سےاسٹار لنک ویب سائٹ کے مطابق اگلے کئی مہینوں میں ڈیٹا کی رفتار 50 سے 150 میگا بائٹس فی سیکنڈ اور زیادہ سے زیادہ مقامات پر 20 سے 40 ملی سیکنڈ تک ہو سکتی ہے۔ آپ اندازہ لگائے جب انٹر نیٹ کی یہ سپیڈ بنا رکے ہر فرد کو ملے گی تو اس کے کام کرنے کی رفتار کیا ہو گی ۔

پاکستان میں انٹر نیٹ کی سپیڈ کے حوالے سے جو شکایات ہیں وہ بجا ہیں اور اس کا مشاہدہ ہر فرد کرتا ہے بلکہ اس اذیت سے گزرتا بھی ہے ، آپ بنک میں لمبی لائن میں لگے ہیں باری آنے پر آپ کو پتہ چلے لنک بیٹھ گیا ہے۔ آپ اے ٹی ایم مشین سے پیسے نکلوانے کے لئے کارڈ ڈالتے ہیں اور لنک بیٹھنے کی صورت آپ کا کارڈ پھنس جائے اسی طرح کسی دفتر یا ادارے میں جائیں تو اکثر ایسا ہی سننے کو ملتا ہے وقت کے ضیائع کے ساتھ ذہنی اذیت کا کیا ازالہ مکمن ہے ؟ لیکن دنیا میں انسانی ترقی ، کامیابی اور آسانی پیدا کرنے کے حوالے سے کام کرنے والے عظیم لوگ ہر مشکل اور پریشانی کا حل نکال رہے ہیں۔ اب اجارہ داریوں کا دور ختم ہونے کو ہے یہ موبائل کمپنیاں جلد اپنا بوریا بستر گول کرتی نظر آئیں گی۔

انٹر نیٹ کی بلا تعطل اور تیز رفتار دستیابی سے انسان کے کتنے مسائل حل ہوں گے یہ سٹار لنک نے بتا دیا ہے ابھی چالیس کے قریب ممالک کے پانچ لاکھ صارفین مستفید ہو رہے ہیں اگلے چند برسوں میں پوری دنیا اس سے مستفید ہو گی کچھ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہر ملک کے شہری کو یہ سہولت دستیاب ہو گی۔