یہ کھیل تماشا اور مذاق کب تک ؟

اگر کوئی انسان مہذب، با ضمیر یا بااصول ہو تو وہ انسانی و اخلاقی معیار سے گری ہوئی کوئی بات کرے گا نہ حرکت، اگر بھولے سے اس نوع کی کوئی لغزش ہو بھی جائے گی تو وہ شرمندگی سے معافی کا طلب گار ہو گا۔

اس کے برعکس بے ضمیر اور بے اصولے لوگ کبھی بھولے سے اچھائی بھی کر رہے ہوں گے تو اس کے اندر بھی کوئی نہ کوئی ہلکی چیز ضرور ہو گی۔ ایسے منفی لوگ ہمہ وقت اس تاک میں رہتے ہیں کہ کیسے اپنا مطلب نکالنا ہے اور کہاں کہاں ڈنگ مارنا ہے۔ پارسائی کی ملمع کاری کرتے ہوئے یہ لوگ ڈھٹائی کی اس سطح تک گر جاتے ہیں کہ چوری بھی کریں گے اور سینہ زوری بھی دکھائیں گے۔ بظاہر ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیں گے، اندر خانے تلوے بھی چاٹیں گے۔ جھوٹ ، فراڈ، چیٹنگ اور الزام تراشی گویا ان کی گھٹی وسرشت میں ہوتی ہے ۔

ایسے تیس مار خاں کرکٹ کے میدان میں ہوں یا سیاست کی اڑان میں، عدالت کے رحمتے و طرہ خاں ہوں یا میڈیا و صحافت میں براجماں، منفی ذہنیت حرکات سے ہی نہیں گفتار سے بھی پہچانی جا سکتی ہے۔ افسوس اپنے ایسے عوام کالا نعام پر ہے جو ان کی اصلیت پہچاننے میں ہمیشہ دیر کر دیتے ہیں یا پیہم دھوکہ کھاتے ہیں۔ بروقت گدھے، گھوڑے میں فرق یا پرکھ نہیں کر پاتے ۔ کسے معلوم نہیں ہے کہ اس ملک میں دہائیوں سے ایک ایسا ہائبرڈ سسٹم نافذالعمل ہے جو مصنوعی نظریے، جھوٹے پروپیگنڈے اور اول و آخر مفاد و فراڈپر چل رہا ہے۔ عوام جائیں جہنم میں انہیں تو اپنا الو سیدھا کرنا ہے ۔ یہاں تین مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہونے والے عوام کے ہمدرد، حقیقت شناس قومی قائد کے خلاف اپنی مطلب براری کیلئے وہ گھناؤنا پروپیگنڈہ کیا گیا اور وہ گند اچھالا گیا کہ جیسے سب سے بڑا قومی مجرم، چور اور ڈکیٹ وہی ہے۔

اس مقصد کیلئے کیسے کیسے زبان دراز لائے گئے جن کیلئے صداقت و امانت کے جعلی سرٹیفکیٹ بانٹے گئے۔ ایک کٹھ پتلی و نوسر باز کو اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچا کر ، مصنوعی چالوں سے عوام پر مسلط کر دیا گیا لیکن ایک مسخرے اور سیاست دان کا فرق کب تک چھپایا جا سکتا تھا؟ اصلیت ایک نہ ایک روز واضح ہوکر رہتی ہے۔ آج جیسے جیسے جھوٹے پروپیگنڈے کی دھول بیٹھ رہی ہے بہت سے حقائق واضح و آشکار ہو رہے ہیں ۔ آج اگر ہمارا عدالتی معیار ایک سو سولہ درجے نیچے تک گرا پڑا ہے تو اس کے ذمہ داران پر بھی ایک نظر ڈالی جانی چاہئے اس گراوٹ میں جن پردہ نشینوں کی برسوں پر محیط محنت تھی ان کا ادراک بھی ہونا چاہئے۔ آج وہ تماش بین کہاں ہیں جو سیسلین مافیا کے افسانے اور کرپشن کی جعلی کہانیاں گھڑنے میں ذرا شرم محسوس نہیں کرتے تھے۔ جنہیں کسی کی آنکھ کا بال بھی شہتیر دکھتا تھا، جنہیں ایک عدد پاناما تو کھٹک گیا دیگر تین صد ننانوے کی خبر نہ ہوئی اور پھر جب پاناما میں کچھ نہ نکلا تو اقاما کے اس الزام میں دھر لیا کہ آپ نے اپنے بیٹے سے وہ تنخواہ کیوں ظاہر نہیں کی جو لی ہی نہیں گئی تھی۔

آج نیب کی سیاسی انجینئرنگ اور بلیک میلنگ گھناؤنی صورت میں سب کے سامنے ہے جو کسر رہ گئی ہے وہ آنے والے فیصلوں میں واضح ہوتی چلی جائے گی ۔ وہ جو جعلی پارسائی کا سمبل بنا کر بٹھایا گیا تھا اس کے سیاہ کرتوت بھی وقت کے ساتھ سامنے آتے چلے جائیں گے۔ اپنے پرنسپل سیکرٹری کو کس راز داری سے کہہ رہا ہے کہ ہم نے کسی کا نام نہیں لینا صرف کھیلنا ہے کس کے ساتھ کھیلنا ہے تم نے بھائی ؟ سفارتکار کی طرف سے ارسال کردہ سائفر کے ساتھ ؟ وزیرخارجہ و سیکرٹری خارجہ کےساتھ میٹنگ کرتے ہوئے اپنی مرضی کے منٹس بنا کر مرضی سے ڈرافٹ کر لیں گے تاکہ ریکارڈ پر آ جائے سیکرٹری خارجہ سے پڑھوا لیں گے تاکہ سیاسی سے زیادہ سفارتی لگے ۔ کس پلاننگ کےساتھ جھوٹ گھڑا جا رہا ہے۔ کیا اس کا نام سفارتکاری ہے ؟ اور پھر اس کو بیرونی سازش کا نام دیا جا رہا ہے۔ مجھے ہٹانے کیلئے امریکہ نے سازش کی ہے اور یہ کہ امپورٹڈ حکومت نا منظور۔

وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجماں ہو جانے والا اپنے مفاد کیلئے اس قدر گر سکتا ہے کہ اسے مملکت کے خارجہ تعلقات میں زہر گھولتے ہوئے بھی ذرا شرم محسوس نہ ہو ۔ درویش نے اہم شخصیت سے شکایت کی کہ کیسا خطرناک ہے یہ شخص جو آپ کے سائفر سے کھیل رہا ہے ملک کی خارجہ پالیسی سے کھیل رہا ہے جواب ملا ’’بھائی کوئی ایسی چیز بتا دیں جس کے ساتھ موصوف نہیں کھیل رہا ہے ‘‘۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی، آج امریکی سفیر بھی یہ کہہ رہا ہے کہ سازشی نظریات بدقسمتی ہیں، ان میں کوئی صداقت نہیں۔ سفارتی تعلقات میں کبھی اتفاق ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا۔ سفارتی حساسیت کے اپنے تقاضے ہیں لیکن فرق تو پڑا تھا جنہیں نظر نہیں آیا وہ پچھلے سیلاب کی معاونت کا تقابل حالیہ سے کرلیں۔ اور پھر زیادہ بولنے پر یہ کہہ دیا گیا ہے کہ اپنی ہمسائیگی سے تعلقات و معاملات کو درست کریں یا ان کے پاس جائیں جن کی الفت کے دعویدار ہیں۔ اس تلخ نوائی کے باوجود اگر کچھ حاصل حصول ہے تو اسی بڑے برتن سے۔

ان حرکات کے باوجود بجائے شرمندگی کے ڈھٹائی قابل ملاحظہ ہے۔ چیری بلاسم نے سائفر لیک کرکے بہت اچھا کیا ہے۔ ابھی تو میں اس پر کھیلا ہی نہیں اب کھیلوں گا، یہ وہی ٹیون ہے جو تحریک عدم اعتماد پیش کئے جانے پر اختیار کی گئی تھی۔ یا اللہ تیرا شکر ہے جو میرے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی ہے مجھے اس پر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ کیونکہ اب میں ان کا وہ حشر کرنے جا رہا ہوں جو ان کے گمان میں بھی نہیں ہے۔ اس کے بعد آپ نے کس کس کا حشر کر دیا ہے؟  یہ چور ہیں ڈاکو ہیں یہ پاکستان کا پیسہ چرا کر باہر لے گئے ہیں، میں ان کو چھوڑوں گا نہیں پائی پائی وصول کروں گا ۔ مجھے نکالا گیا تو میں زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔ چیف الیکشن کمشنر نے اگر ممنوعہ فارن فنڈنگ یا توشہ خانہ کیس میں مجھے سزا دینی چاہی تو میں یہ برداشت نہیں کروں گا۔ وہ گھٹیا آدمی ہے میں نے اس سے برا شخص زندگی میں نہیں دیکھا یہ فوراً مستعفی ہو جائے۔ میں نے غلطی کی جو طاقتوروں کے کہنے پر اسے لگایا۔ طاقتور بھی سن لیں وہ نیوٹرل نہ بنیں نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے ۔سراج الدولہ کے ساتھ جو کچھ اس کے کمانڈر میر جعفر اور میر صادق نے کیا تھا وہ غدار تھے میرے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا ہے۔ میرے سٹاف کے چیف نے اگر کہہ دیا ہے کہ ماتحت اپنے بڑوں کی حکم عدولی کرتے ہوئے بغاوت کردیں تو اس ذرا سی بات پر گرفتار نہیں ہونا چاہئے تھا۔ نیشنل سیکورٹی کونسل نے بھی میری سازشی تھیوری کی تائید کی تھی۔ مسٹر ایکس وائی میرے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ میں عوامی سونامی لے کر اسلام آباد پر یلغار کروں گا۔ تو پچیس کلو میٹر کی حکومت والے کو کہیں پناہ نہیں ملے گی وغیرہ وغیرہ۔

کیا جی سی یو کے طلبا کو پوچھنا نہیں چاہئے کہ انکل آپ ہمارے سامنے جو اتنی بڑی بڑی چھوڑ کر گئے ہیں، جس امریکی سازشی بیانیے کی کہانیاں سناتے رہے ہیں، کیا یہ ہمارے ساتھ مذاق نہیں تھا ؟ ان معصوموں کو کون بتائے کہ یہ شخص تو اپنے تمام تر قومی اداروں کے ساتھ مذاق کر رہا ہے۔ اس بدنصیب ملک و قوم کے ساتھ سازشی کھیل کھیل رہا ہے۔ بائیس کروڑ عوام کےساتھ پچھلی ربع صدی سے اس نوع کے کھیل تماشے کر رہا ہے۔ جس طرح کہتے ہیں چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ اسی طرح کھلاڑی وزارت عظمیٰ سے جائے مگر کھیل تماشے سے نہ جائے۔ سرکار بہت ہو چکی سیاسی گیم، اب بس کر دیں سیاست چھوڑ کر کرکٹ کے کوچ بن جائیں ۔