انڈونیشیا میں فٹبال میچ کے دوران بھگدڑ، 174 افراد ہلاک
انڈونیشیا میں ایک فٹبال میچ کے دوران بھگدڑ مچنے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 174 تک جاپہنچی جبکہ 180 زخمی ہوگئے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے صحافیوں کو بتایا کہ مشرقی جاوا صوبے میں ملنگ شہر میں واقع کنجوروہان اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے فٹبال میچ میں ہارنے والی میزبان ٹیم کے حامیوں نے مایوسی کا اظہار کرنے کے لیے پچ پر دھاوا بول دیا تھا۔
پولیس افسران نے صورت حال پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس فائر کی، جس سے بھگدڑ مچ گئی اور دم گھٹنے کے واقعات رونما ہوئے۔ مشتعل تماشائیوں نے پولیس افسران پر حملہ کرنا شروع کردیا، انہوں نے کاروں کو نقصان پہنچایا، لوگ باہر نکلنے کے لیے دروازے کی جانب بھاگے اور اس دوران کئی افراد کچلے گئے۔
مقامی نیوز چینلز کی ویڈیو فوٹیج میں شائقین اسٹیڈیم میں پچ کی جانب اس وقت دوڑتے دکھائی دیے جب اریما ایف سی کی ٹیم پرسیبا سورابایا سے ہار گئی تھی۔ تصاویر میں جھڑپیں بھی دیکھی جاسکتی ہیں جبکہ ہوا میں آنسو گیس بھی واضح نظر آرہی ہے۔ تصاویر میں ایسے لوگ بھی دکھائی دیے جو بھگدڑ کے نتیجے میں بظاہر ہوش کھو چکے تھے اور دیگر شائقین انہیں اٹھا کر لے جارہے تھے۔
زخمیوں کا علاج کرنے والے ایک مقامی ہسپتال کے سربراہ نے بتایا کہ متاثرین میں سے کچھ کو دماغ پر چوٹیں آئی ہیں، مرنے والوں میں ایک 5 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔
فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی 'فیفا' نے اپنے حفاظتی ضوابط میں واضح کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے اسٹیڈیم میں کوئی آتشیں اسلحہ یا 'کراؤڈ کنٹرول گیس' نہیں لے جانا چاہیے اور نہ ہی استعمال کرنا چاہیے۔ مشرقی جاوا پولیس نے فوری طور پر اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا کہ وہ اس ان قواعد و ضوابط سے واقف تھے یا نہیں۔