مفتاح کا زوال اور اسحاق ڈار کی واپسی
- تحریر عاقل ندیم
- اتوار 02 / اکتوبر / 2022
پاکستانی معیشت اس وقت ایک مشکل وقت سے گزر رہی ہے اور سیلاب کی تاریخی تباہ کاریاں ان مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔ ہماری معاشی مشکلات میں اشرافیہ کی نا اہلیوں اور چیرہ دستیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور اب اس میں موسمی تبدیلی کی وجہ سے سے قدرت بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئی ہے۔
مخلوط حکومت کے اندرونی خلفشار اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کی بے رخی معیشت کو سنبھلنے کا موقع نہیں دے رہی۔ بڑھتا ہوا بین الاقوامی افراط زر، عالمی امن کو روس یوکرین جنگ سے خطرات اور اس کے نتیجے میں اجناس کی بین الاقوامی قیمتوں میں ناقابل یقین اضافہ، پاکستان کو تمام ممالک کی طرح بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ پاکستان میں قیامت خیز سیلاب نے اس صورت حال کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے تمام مطالبات، جن کی وجہ سے ہم تاریخی مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں، ماننے کے باوجود معاشی بحران میں بہتری نظر نہیں آ رہی۔
ان معاشی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی مالی پالیسیاں ہر طرف سے تنقید کا نشانہ بنی رہیں۔ ان کی معاشی سمت پر حکومت کے اندر بھی شدید بے چینی رہی اور ان کے اقدامات پر سخت تنقید بھی ہوتی رہی جس کی وجہ سے حکومتی جماعتوں کو عوام کے پاس جا کر اپنی معاشی پالیسیوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ اس عوامی غم و غصے کے پیش نظر اور مطلوبہ معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کی وجہ سے مفتاح اسماعیل کے تبدیل کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔
مفتاح اسماعیل ایک قابل اور پڑھے لکھے ماہر اقتصادیات ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہت کامیاب صنعت کار بھی ہیں۔ وہ معیشت کی بہتری چاہتے ہیں اور اس کے لیے لگاتار محنت کرتے رہے۔ مگر ان کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان مسائل کو صرف کتابوں میں موجود معاشی اصولوں پر چلتے ہوئے حل کرنا چاہتے تھے اور ان کے لیے ان اقدامات کا عوام پر بوجھ پڑنا ایک حکومتی مجبوری تھی۔ عوام کو مدد دینے کے لیے بہت سے ممکنہ اقدامات اٹھائے جا سکتے تھے مگر یا تو آئی ایم ایف کے دباؤ کی وجہ سے یا عوام کی مشکلات کی پروا کیے بغیر انہیں اپنا معاشی راستہ درست دکھائی دیا۔
چونکہ وہ خود صنعت کار ہیں تو ان کا اپنے ساتھی صنعت کاروں کے ساتھ بھی ہمدردانہ رویہ رہا اور وہ انہیں ٹیکسوں کی ادائیگی یا ملک میں اپنے وسائل کی سرمایہ کاری کرنے کے لیے قابل کرنے میں بظاہر ناکام دکھائی دیے۔ وہ انہیں اپنے بیرون ملک موجود سرمایہ کو بھی پاکستان واپس لانے کی کوششوں میں بھی کامیاب نہ ہو سکے۔ کیونکہ یہ ان کے ساتھی صنعت کار ہیں تو وہ نئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ماضی کی طرح ان سے سختی سے نمٹنے سے اجتناب کرتے رہے کیونکہ وزارت کے بعد تو ان کا حلقہ احباب یہی صنعت کار ہوتے۔
ایک کتابی ماہر اقتصادیات کی طرح وہ مارکیٹ میں جارحانہ مداخلت کے بھی خلاف رہے جس کی وجہ سے ڈالر عمودی پرواز پر روانہ رہا۔ ان کی نیت پر شک تو نہیں کیا جا سکتا مگر انہیں ڈالر کی اس اڑان سے عوام کی بڑھتی ہوئی مشکلات اور حکومت کے لیے اس کی سیاسی قیمت کا شاید اندازہ ہی نہیں ہوا۔ کیونکہ وہ ایک ٹیکنوکریٹ ہیں تو شاید انہیں حکومت کی سیاسی مشکلات سے غرض ہی نہیں تھی۔
وزارت خزانہ کے پاس کرنسی کی قدر کو مستحکم کرنے کے لیے بہت سارے راستے مہیا ہوتے ہیں مگر مفتاح اسماعیل نے روپے کو مارکیٹ کی طاقتوں کے مکمل رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ یہ شاید ایک اچھی کتابی پالیسی تو ہو سکتی ہے مگر پاکستان جیسی کمزور معیشت کے لیے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوئی۔ روپے کی قدر کو مضبوط کرنے کے لیے معتدل مداخلت ضروری ہے اور شاید اسی وجہ سے اسحاق ڈار کو یاد کیا جانے لگا جن کے خیال میں روپے کو مضبوط کرنے میں کم اقتصادی نقصان ہوتا ہے مگر اس کو مارکیٹ کی قوتوں کے مکمل رحم و کرم پر چھوڑنے سے بڑا معاشی نقصان وجود میں آتا ہے جو نہ صرف ملک کی معاشی بنیادوں پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ عوام کو غربت کی لکیر کے اور قریب لے آتا ہے۔
بہت سارے ماہرین اقتصادیات سمجھتے ہیں کہ معتدل حکومتی مداخلت سے روپے کو استحکام اور اعتماد مل سکتا تھا۔ وہ یہ مانتے ہیں کہ ہمارے پاس مارکیٹ میں مداخلت کے لیے زرمبادلہ کے مناسب ذخائر موجود نہیں تھے مگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے باوجود سمجھ داری سے محدود مداخلت کے ذریعے اس برق رفتار گراوٹ کو روکا جا سکتا تھا۔ محدود حکومتی مداخلت سے مارکیٹ کو یہ پیغام جانا تھا کہ حکومت روپے کی قدر کو برقرار رکھنے میں سنجیدہ ہے۔ مداخلت نہ کرنے کی پالیسی نے یہ واضح پیغام دیا کہ حکومت روپے کی مدد کو آگے نہیں آئے گی جس نے روپے کی قدر میں معاشی وجوہات کی وجہ سے کمی آنے کے علاوہ اس میں اعتماد کے فقدان کو بھی ہوا دی۔
مفتاح اسماعیل کی پالیسیوں کے جو نتائج آنے تھے وہ اب سب کے سامنے ہیں اور اس صورت حال کا مزید جاری رہنا ہماری معیشت کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ مارکیٹ میں اعتماد کی واپسی ضروری تھی اور درآمدات پر تقریباً مکمل پابندی نہ صرف ہماری صنعتوں کو نقصان پہنچا رہی تھی بلکہ مجموعی ترقی کی شرح کو بھی نقصان پہنچ سکتا تھا۔ صنعتوں کے بند ہونے سے بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو سکتا تھا جو موجودہ سیاسی عدم استحکام میں مزید اضافے کا باعث بنتا۔ مفتاح اسماعیل کی اسحاق ڈار سے تبدیلی سے مارکیٹ کو واضح پیغام ملا جس کی وجہ سے روپے کی قدر میں فوری طور پر بہتری آئی ہے اور معاشی اشاریوں میں مثبت تبدیلی متوقع ہے اور ساتھ ساتھ مارکیٹ میں اعتماد واپس آئے گا۔ جب اسحاق ڈار 2013 میں وزیر خزانہ بنے تھے تو اس وقت بھی معیشت زوال پذیر تھی اور روپے کی قدر میں تیزی سے کمی آ رہی تھی مگر ان کے اقدامات کے بعد نہ صرف مارکیٹ میں اعتماد واپس آیا بلکہ روپے بھی مستحکم ہوا۔ کاروبار میں بھی یقین کی فضا لوٹ آئی اور معیشت شدید سیاسی مشکلات بشمول 2014 دھرنا، ڈان لیک اور پاناما پیپرز کے باوجود 2017 تک پر اعتماد طریقے سے آگے بڑھی۔
مفتاح اسماعیل کے مقابلے میں اسحاق ڈار صنعت کاروں سے مفادات کا ٹکراؤ نہ ہونے کی وجہ سے بہتر طریقے سے گفت و شنید کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ خود صنعت کار نہیں تو یہ آسانی سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ معیشت کو آگے بڑھانے کے لیے اور اس میں اعتماد واپس لانے کے لیے سرمایہ کاروں سے بہتر طریقے سے معاملات طے کر سکیں گے۔ وہ روپے کی قیمت مستحکم کرنے کے لیے مارکیٹ میں مداخلت پر بھی یقین رکھتے ہیں اور توقع کی جا سکتی ہے کہ یقیناً ایسے اقدام اٹھائیں گے جس سے روپے کی قدر میں استحکام آئے گا۔