لانگ مارچ کے دعوے، سیاسی فریب کے سوا کچھ نہیں
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 03 / اکتوبر / 2022
تبدیل شدہ سیاسی ماحول کے باوجود تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان نے ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جلد ہی اپنے ورکرز کو کال دیں گے اور اس بار اپنے ’منصوبہ‘ سے حکومت کو حیران کردیں گے۔ عمران خان ایک ایسے وقت میں اشتعال انگیز سیاسی ماحول برقرار رکھنا چاہتے ہیں جبکہ آڈیو لیکس میں سامنے آنے والی گفتگو میں ان کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے اور انہیں متعدد سرکاری تحقیقات اور ان کے نتیجہ میں سنگین الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل بنچ نے جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے پر عمران خان کو دیا گیا توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا اس طرح فی الوقت ان کے خلاف ایک ایسی عدالتی کارروائی ختم ہوگئی ہے جس میں سزا ملنے پر وہ انتخاب لڑنے سے پانچ سال کے لئے نااہل ہوسکتے تھے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں عدالت کے پانچ رکنی بنچ نے عمران خان کی طرف سے تیسرا بیان حلفی جمع کروانے کے بعد توہین عدالت کے الزام میں انہیں جاری ہونے والا شو کاز نوٹس واپس لے لیا ۔ عدالتی معاون نے کارروائی کے دوران اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کروائی کہ تیسرے بیان حلفی میں بھی عمران خان نے غیر مشروط معافی نہیں مانگی بلکہ صرف لائن کراس کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگنے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم بنچ کے سربراہ جسٹس اطہر من اللہ نے اسے قابل غور نہیں سمجھا اور عدالتی معاون سے کہا کہ آپ اپنی معروضات عدالت میں جمع کروادیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے عمران خان کے بیان حلفی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملہ کو خارج کردیا۔
تاہم عدالت سے ملنے والی یہ غیر معمولی سہولت بھی عمران خان کی مشکلات کا خاتمہ نہیں کرسکتی۔ ان کی قانونی اور سیاسی مشکلات میں اضافہ ہؤا ہے۔ ایک طرف آڈیو لیکس سے ان کے سازشی نظریے، ان کی حکومت تبدیل کرنے کے لئے غیر ملکی سازش اور موجودہ حکومت کو ’امپورٹد‘ قرار دینے کے دعوؤں کی قلعی اتر گئی ہے تو دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ سے ہی ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو بری کرنے کے فیصلہ نے بعض سیاسی خاندانوں کی کرپشن کے بارے میں عمران خان کے دعوؤں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلہ سے واضح ہؤا ہے کہ نیب کے جس ریفرنس کی بنیاد پر ایک زیریں عدالت نے نواز شریف اور مریم نواز کو سخت ترین سزائیں دی تھیں، اسے بے بنیاد اور ناقص سمجھا گیا ہے۔ تفصیلی وجوہات کے بارے میں ہائی کورٹ کا فیصلہ سامنے آنے پر مزید معلومات حاصل ہوں گی تاہم مختصر حکم میں مریم نواز کی بریت سے یہ تو واضح ہوگیا ہے کہ نیب اس ہائی پروفائل ریفرنس میں چار سال کی طویل مدت میں بھی کوئی ایسے شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا تھا جس سے اعلیٰ عدالت کے جج متفق ہوسکتے۔
عمران خان اگر چہ نیب آرڈی ننس میں ترامیم اور ناقص عدالتی نظام کو مریم نواز کے بری ہونے کی وجہ قرار دے کر یہ مؤقف قائم رکھنا چاہتے ہیں کہ بدعنوانی کرنے والے سیاسی خاندانوں نے اقتدار میں واپس آکر حالات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا ہے، قوانین میں تبدیلی کی ہے اور اس طرح خود کو ہی ریلیف دینے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ یہ مؤقف بھی درحقیقت ناقص دلائل پر استوار ہے چونکہ نیب آرڈی ننس میں ترامیم کا ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلہ میں کوئی کردار نہیں ہے۔ اس کے باوجود عمران خان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد اسی بات کو درست مانے گی اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے کرپشن کو بدستور ایک سیاسی نعرے کے طور پر زندہ رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ کیوں کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ اسے سیاسی طور سے زندہ رہنے کے لئے انہی نعروں کا سہارا لینا پڑے گا جن کے غبارے سے اب پھونک نکلتی جارہی ہے۔
آڈیو لیکس اور ایون فیلڈ ریفرنس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ تاہم ملک کی عمومی سیاسی صورت حال کو ضرور متاثر کریں گے۔ عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت جو پہلے بدعنوانی کے اندھادھند الزامات کی وجہ سے اور بعد میں عمران خان کی حکومت کو امریکی سازش کے تحت ختم کرنے کے سازشی نعرے کی وجہ سے عمران خان کو سیاسی ’شہید‘ کا درجہ دے رہی تھی ، اب تصویر کا دوسرا رخ سامنے آنے کے بعد انہیں متوازن سیاسی رائے بنانے اور وسیع تر تناظر میں ملک کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا موقع ملے گا۔ ان حالات میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عمران خان کو فوری انتخابات کی کیوں جلدی رہی تھی۔ تمام تر بلند بانگ دعوؤں کے باوجود تحریک انصاف کی قیادت کو بھی بخوبی اندازہ تھا کہ عمران خان کی مقبولیت کا موجودہ رجحان تادیر قائم نہیں رہ سکے گا۔ بلکہ اس کی حیثیت ایک بلبلے کی سی تھی جسے بہر طور ختم ہونا تھا۔ اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ عمران خان ملک کے مقبول لیڈر نہیں ہیں اور انہیں عوام کی قابل ذکر تعداد کی حمایت حاصل نہیں ہے تاہم اب یہ تاثر عملی طور سے ختم ہوچکا ہے کہ نہ توعمران خان ملک کے واحد لیڈر ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی ایسا ٹھوس سیاسی و معاشی پروگرام ہے جس سے وہ ملک کی تقدیر تبدیل کرسکتے ہیں۔
متعدد دوسرے لیڈروں کی طرح عمران خان کا بھی ایک حلقہ اثر ہے اور انہیں انتخابات میں ضرور ووٹ ملیں گے اور تحریک انصاف ایک بڑی پارٹی کے طور پر اسمبلیوں میں واپس بھی آئے گی۔ تاہم ایک تو یہ دعویٰ بے بنیاد ثابت ہوچکا ہے کہ تحریک انصاف دو تہائی یاتین چوتھائی اکثریت لے کر اقتدار میں واپس آئے گی اور ملکی سیاست کا رخ تبدیل کردے گی۔ دوسرے باقی ماندہ سیاسی قوتوں کے بارے میں عمران کی غلط فہمی اب نقش بر آب ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے جھوٹے سیاسی نعروں اور سازشی نظریہ کی بنیاد پر عوام کی واحد امید ہونے کا جو دعویٰ کیا تھا ، اب اس میں کوئی دم نہیں رہا۔ انہیں ان تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر برابری کی بنیاد پر عوام سے ووٹ لینے کی کوشش کرنا ہوگی جن کے بارے میں انہیں امید تھی کہ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد انہوں ’خطرناک‘ ہوکر ان کی سیاسی بنیادوں کو ہلا دیا ہے۔ اور اب کوئی دوسری پارٹی یا لیڈر تحریک انصاف یا عمران خان کے مدمقابل کھڑا نہیں ہوسکتا۔
انہی دنوں میں اس تاثر کو بھی شدید ضعف پہنچا ہے کہ عمران خان واحد سچے اور ایماندار سیاست دان ہیں جن کے ہاتھ صاف ہیں اور انہیں اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے کسی درپردہ قوت سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ سائفر معاملہ میں سامنے والی آڈیوز سے واضح ہوچکا ہے کہ عمران خان سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر نہ صرف جھوٹ بولنا جائز سمجھتے ہیں بلکہ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے ملکی مفادات کو داؤ پر لگانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ ان آڈیو لیکس اور وزیر اعظم ہاؤس سے سائفر کی اصل نقل غائب ہونے کا معاملہ نہ جانے کون سا رخ اختیار کرے گا لیکن اس حوالے سے عمران خان کو بہر طور بعض سنجیدہ سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ اسی طرح مالی بدعنوانی کے حوالے سے بھی عمران خان کی حکومت سابقہ حکومتوں سے مختلف نہیں رہی۔ وہ خود بطور وزیر اعظم بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کم قیمت میں خرید کر مہنگے داموں فروخت کرکے نہ صرف ملک کی بدنامی کا سبب بنے بلکہ ریاست پاکستان کے وزیر اعظم کو دیے گئے اعزاز کی توہین کا موجب بھی بنے۔ یہ طرز عمل اگر قانونی لحاظ سے ’قابل قبول ‘ تھا بھی تو بھی اخلاقی طور سے اس طریقے کی کوئی دلیل نہیں دی جاسکتی۔ ایک طرف عمران خان کا دعویٰ رہاہے کہ ان کے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ تھا اور وہ دولت کے لئے سیاست نہیں کرتے لیکن موقع ملتے ہی کروڑوں روپے کے ایسے تحائف جو پاکستانی عوام کی امانت تھے، انہیں فروخت کرکے اس رقم کو ذاتی مصرف میں لانے سے دریغ نہیں کیا گیا۔ اب الیکشن کمیشن اور ملک کا عدالتی نظام اس بارے میں حتمی حکم جاری کرے گا۔ توشہ خانہ کیس کے علاوہ بدعنوانی اور خوردبرد کے متعدد معاملات پر بھی بات ہوتی رہتی ہے اور وقت کے ساتھ اس بارے میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات عام جلسوں میں دینا کافی نہیں ہوگا بلکہ مناسب لیگل فورمز کو بھی مطمئن کرنا پڑے گا۔
اس دوران اسحاق ڈار کی واپسی اور وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالنے کا وقوعہ بھی عمران خان کے پر جوش سیاسی سفر میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک تو اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سیاسی بازی گری میں سارے مہرے عمران خان کی سہولت اور فائدے کے لئے نہیں چلے جارہے بلکہ ان کے سیاسی مخالفین اب بازی پلٹنے کی پوزیشن میں آرہے ہیں۔ اسحاق ڈار کی واپسی سے ’خفیہ اشاروں‘ کےرجحان میں تبدیلی کا عندیہ ملتا ہے جو یقیناً عمران خان کے لئے اچھی خبر نہیں ہے کیوں کہ ان کی سیاسی مہم جوئی کا سب سے مضبوط کارڈ ’نیوٹرلز‘ کو کسی بھی طرح اپنی تائد پر آمادہ یا مجبور کرنا تھا۔ عمران خان سے یہاں اندازے کی یہ غلطی بھی ہوئی ہے کہ وہ عوامی دباؤ یا الزامات کے زور پر ’نیوٹرلز‘ کے طریقہ کار پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ان کی یہ امید بر نہیں آئی۔ اسحاق ڈار کی واپسی سے دوسری تبدیلی یہ محسوس کی جائےگی کہ معاشی منصوبہ بندی میں سیاسی ضرورتوں کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔ معاشی لحاظ سے ملکی عوام کو جتنی سہولت ملے گی اور مہنگائی کی شرح میں جتنی کمی ہوگی، اس کا مسلم لیگ (ن) کو فائدہ اور تحریک انصاف کو نقصان ہوگا۔
ان حالات میں لانگ مارچ پر اصرار ناقابل فہم سیاسی حکمت عملی ہے۔ یہ ایک سیاسی ڈھکوسلہ ہی ہوسکتا ہے تاکہ یکے بعد دیگرے انکشافات سے عمران خان کے حامیوں کو لگنے والے شدید جھٹکے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کو سنبھالا جاسکے۔ عمران خان کا یہ دعویٰ کہ وہ اپنی چال سے حکومت کو حیران کردیں گے، سیاسی فریب کے سوا کچھ نہیں ۔ حکومت کو گھٹنوں پر لانے کے لئے ایسے کسی منصوبہ کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کے برعکس اب یوں لگتا ہے کہ شہباز حکومت کمزور بنیاد پر کھڑی ہونے کے باوجود اب عمران خان اور تحریک انصاف کو حیران کرنے کی پوزیشن میں ہے۔