شہباز گِل کی ضمانت منسوخی کیلئے وفاقی حکومت کا سپریم کورٹ سے رجوع

  • سوموار 03 / اکتوبر / 2022

وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر شہباز گل کی ضمانت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے شہباز گل کی ضمانت منسوخی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ قانون کی نظر میں درست نہیں ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ ہائی کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا، لہٰذا شہباز گل کی ضمانت منسوخ کی جائے۔ خیال رہے کہ 15 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بغاوت کے مقدمے میں گرفتار شہباز گل کی ضمانت 5 لاکھ روپے کی مچلکوں کے عوض منظور کرلی تھی۔

شہباز گِل کو 9 اگست کو پاکستان پینل کوڈ کی متعدد دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے ایک روز بعد اسلام آباد کچہری نے انہیں 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔ دو دن بعد شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

پولیس نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرنے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کی تھی، اسے بھی ایڈیشنل سیشن جج محمد عدنان خان نے مسترد کر دیا تھا۔ سترہ اگست کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے مزید 2 روزہ جسمانی ریمانڈ کی نظرثانی درخواست منظور کرلی تھی اور شہباز گل کو مزید 48 گھنٹوں کے لیے پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا۔

15 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بغاوت کے مقدمے میں گرفتار شہباز گل کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ شہباز گل کا بیان لاپرواہی اور غیر ذمہ دارانہ تھا۔ سیاسی جماعت کے ترجمان اور ماہر تعلیم ہونے کے دعویدار سے لاپرواہ بیان کی امید نہیں تھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ افواج پاکستان کی جانب سے مقدمے میں کوئی شکایت نہیں کی گئی۔ افواج پاکستان کا نظم و ضبط اتنا کمزور نہیں کہ کسی سیاسی لیڈر کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے متاثر ہوجائے۔ پولیس کوئی شواہد نہیں دے سکی کہ شہباز گل نے بیان سے پہلے یا بعد میں کسی افسر یا سپاہی سے رابطہ کیا۔

شہباز گل سے تفتیش مکمل ہوچکی، مزید جیل میں نہیں رکھا جاسکتا، شہباز گل کو مزید جیل میں رکھنا بےسود ہوگا بلکہ ٹرائل سے پہلے سزا دینا ہوگا۔