لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر مریم نواز کو پاسپورٹ واپس مل گیا
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ انہیں پاسپورٹ واپس کر دیا گیا ہے۔
مریم نواز کا کہنا ہے کہ ان کا پاسپورٹ تین برس تک ضبط رہا اور جس کیس میں یہ ضبط رہا وہ کیس ان کے خلاف کبھی نہیں بنا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے جلسوں کے خوف سے مجھے 'تفتیش' کے لیے تین ماہ نیب میں حبسِ بے جا اور کوٹ لکھپت جیل میں ڈیتھ سیل میں رکھا مگر کیس آج تک فائل نہیں ہوا۔
لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کی پاسپورٹ واپس کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ انہیں پاسپورٹ واپس کیا جائے۔ مریم نواز کا پاسپورٹ چوہدری شوگر ملز کیس میں بعد از گرفتاری ضمانت منظور ہونے پر عدالت میں جمع کرایا گیا تھا۔ اکتوبر 2019 سے اب تک یہ پاسپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں جمع تھا۔
چند ہفتے قبل لاہور ہائی کورٹ میں مریم نواز نے اپنے وکیل امجد پرویز کی وساطت سے پاسپورٹ واپسی کی درخواست دائر کی تھی۔ پیر کو پاسپورٹ واپسی کی درخواست پر سماعت کے موقع پر مریم نواز کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کے خلاف اب تک کوئی ریفرنس فائل نہیں ہوا اس لیے کسی شہری کی نقل و حرکت روکنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کو اس پر کیا اعتراض ہے؟ اس پر قومی احتساب بیورو (نیب) اور حکومت کے وکیل نے پاسپورٹ واپسی کی مخالفت نہیں کی جس کے بعد عدالت نے مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست منظور کرلی۔