جنگ اور کرپشن سے نجات ضروری ہے
- تحریر فیضان عارف
- سوموار 03 / اکتوبر / 2022
موجودہ حالات میں مہنگائی نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کے کئی اور اسباب بھی ہیں لیکن بنیادی وجہ مختلف ملکوں کے درمیان ہونے والی جنگیں اور دفاعی محاذ آرائی ہے۔
معاشی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر دنیا بھر کے ممالک اسلحہ سازی اور اس کی خریدوفروخت کو بتدریج کم کر دیں اور ایک دوسرے پر جنگیں مسلط کرنے سے باز رہیں تو نہ صرف عالمی امن کو فروغ ملے گا بلکہ غریب اور پسماندہ ملکوں کے دفاعی اخراجات بھی کم ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اور یہی رقم ان ملکوں میں محروم لوگوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی پر صرف ہو سکے گی۔ بھارت اور سعودی عرب جیسے ملک جو اپنے دفاع کے نام پر اپنے وسائل کا بڑا حصہ اسلحہ خریدنے اور خطیر رقم فوج کے اخراجات کے لئے مختص کرتے ہیں، وہ رفتہ رفتہ مسائل اور مہنگائی کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ اگر یہ ممالک اپنے کھربوں روپے کے دفاعی بجٹ کو کم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ یورپی ممالک کی طرح اپنے ہمسایہ ملکوں سے خوشگوار دوستانہ تعلقات استوار کریں اور اسلحہ بیچنے والے ممالک کی مفاد پرستی اور سازشوں کا ادراک کریں۔
اسلحے کے تاجر ملک کبھی نہیں چاہیں گے کہ دنیا میں امن قائم ہو اور تیسری دنیا کے ممالک جنگی جنون سے چھٹکارہ حاصل کر لیں۔ آخر سعودی عرب کو کس ملک سے خطرہ ہے کہ وہ تیل کی خطیر آمدنی سے 56بلین ڈالرزکا اسلحہ اور دفاعی سامان خریدنے پر مجبور ہے۔ بھارت کا کون سا ہمسایہ ملک ایسا ہے جس کی وجہ سے اسے ہر سال 77بلین ڈالرز اپنی فوج اور دفاع پر خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ دنیا کی سپرپاور امریکہ کو اپنی عالمی بالادستی کے لئے سالانہ 801بلین ڈالرز کی رقم سے اپنی دفاعی ضرورتیں پوری کرنی پڑتی ہیں جبکہ ہر سال اسلحے کی ایکسپورٹ سے اسے 372ملین ڈالرز کی رقم حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح چین کا دفاعی بجٹ 293بلین ڈالرز ہے اور وہ صرف 760ملین ڈالرز کا اسلحہ ایکسپورٹ کرتا ہے۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی پر تشویش میں مبتلا ہونے سے پہلے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں ہر سال 2113بلین ڈالرز کی رقم فوج اور دفاعی ضرورتوں پر خرچ کی جاتی ہے۔ اتنی بڑی اور ناقابل شمار رقم سے پوری دنیا سے مہنگائی اور غربت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ فوج اور دفاع پر صرف کئے جانے والے سرمائے اور وسائل سے امن کی بجائے جنگی جنون کو فروغ ملتا ہے۔ دنیا بھر میں جن ملکوں نے اپنے ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات کو اپنی ترجیح بنایا وہاں رفتہ رفتہ فوج اور دفاعی بجٹ کی ضرورت کم ہوتی گئی۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم یعنی ورلڈ وارز کے بعد یورپ کے بیشتر ممالک اور خاص طور پر برطانیہ نے یہ سبق سیکھا کہ ترقی اور خوشحالی کی منزل تک پہنچنے کے لئے اپنے ہمسایہ اور خطے کے دوسرے ملکوں سے اچھے اور پرامن تعلقات ناگزیر ہیں۔
دو عالمی جنگوں کی ہولناکیوں کا انجام دیکھنے کے بعد یورپی ممالک نے ایک دوسرے کو فوجی جارحیت کا نشانہ بنانے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ معاشی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جس کے نتیجے میں آج کا یورپ دنیا کے دیگر براعظموں کے مقابلے میں زیادہ پرامن اور معاشی طور پر مستحکم ہے۔ یوکرین پر روسی حملے اور فوجی جارحیت کے نتیجے میں برطانیہ اور دوسرے ملکوں میں توانائی (گیس اور تیل) کے بحران کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ انرجی بلز میں 30سے 35فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ اس جنگ سے برطانوی معیشت کو 70بلین پاؤنڈز کے نقصان کا خدشہ ہے جس کے باعث پورے یونائیٹڈ کنگڈم اور بالخصوص برطانوی دارالحکومت میں مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پورا یورپ اسی تگ و دو میں ہے کہ یوکرین پر مسلط کی جانے والی جنگ کا جلد از جلد خاتمہ ہو۔ جنگیں بھوک اور تباہی و بربادی کا باعث بنتی ہیں جبکہ امن سے خوشحالی کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔
اگر ہم برصغیر کے پسماندہ ملکوں میں مہنگائی اور غربت کے اصل اسباب کا جائزہ لیں تو ان میں کرپشن، دولت کی غیر مساوی تقسیم اور دفاع کے لئے غیر ضروری پرخطیر اخراجات ہیں۔ خوشحال ملکوں میں بھی مہنگائی بڑھ رہی ہے لیکن حکومتوں کی ہر ممکن کوشش ہے کہ ہر شہری کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہے۔ اس سلسلے میں وہ اپنے بے روزگار لوگوں کی مالی مدد میں اضافہ کر رہی ہیں اور کم آمدنی والے طبقے اور پنشنرز کو انرجی بل کے لئے گرانٹ فراہم کر رہی ہیں۔ برطانیہ میں نئی وزیر اعظم لزٹرس نے اقتدار سنبھالتے ہی مہنگائی اور خاص طور پر انرجی بلز میں کمی کے لئے موثر حکمت عملی بنانے کا اعلان کیا اور اس معاملے کو انہوں نے اپنی ترجیحات میں اول نمبر پر رکھا ہے۔ عوام دوست حکومتیں ہمیشہ ان مسائل کے حل کو اپنی پہلی ترجیح بناتی ہیں جن کی وجہ سے ان کے عوام کی اکثریت کو مشکلات کا سامنا ہو۔
پاکستان میں ہمارے حکمران مجبور اور بے یاورومددگار عوام کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے۔ یقیناً مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ضرور ہے لیکن اس مسئلے کے حل کے لئے ہر ملک کے حکمران خلوص نیت سے موثر اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ بے روزگار اور کم آمدنی والے طبقے پر مہنگائی کے کم سے کم اثرات مرتب ہوں جبکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سیاستدان اور حکمران مہنگائی پر قابو پانے کے لئے کوئی منصوبہ بندی کرنے کی بجائے صرف آئی ایم ایف کے قرضوں اور امیر ملکوں کی طرف سے امداد پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں۔ پاکستان کے مفلوک الحال عوام پہلے ہی طرح طرح کی مصیبتوں اور اذیتوں کا شکار ہیں اس پر سیلاب کی ناگہانی آفت نے انہیں ہر طرح کے آسرے سے محروم کر دیا ہے۔ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر پوری دنیا افسردہ اور تشویش میں مبتلا ہے اور متاثرین کی مدد کے لئے ہر طرح کا سامان ان تک پہنچایا جا رہا ہے۔
زلزلہ ہو یا سیلاب جب بھی کسی قدرتی آفت کی وجہ سے وطن عزیز کو مدد کی ضرورت پیش آئی ہے اوورسیز پاکستانیوں سمیت بڑے بڑے خیراتی اداروں (چیرٹی آرگنائزیشنز) نے مشکل گھڑی میں پاکستان کے ضرورتمند لوگوں کی مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ حالیہ سیلاب کے بعد بھی اربوں روپے کی امداد اور ضروری سازوسامان پاکستان پہنچا ہے اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے مگر گڈ گورننس اور انتظامی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے یہ بیرونی امداد مستحقین تک نہیں پہنچ پا رہی۔ اعدادوشمار کے مطابق سیلاب کے متاثرین کے لئے اب تک دنیا بھر سے جتنی امداد پاکستان کو دی گئی ہے اس سے نہ صرف کروڑوں سیلاب متاثرین کی بحالی ممکن ہے بلکہ اس رقم اور امدادی وسائل سے آئندہ کے لئے بھی لوگوں کو سیلاب کی آفت سے بچانے کے لئے انتظامات کئے جا سکتے ہیں۔ تعلیم ہویا صحت یا پھر کوئی قدرتی آفت ان معاملات کے لئے جب کبھی پاکستان کو بیرونی امداد میسر آئی ہے اس کا بڑا حصہ مستحقین تک پہنچنے کی بجائے ان لوگوں کی تجوریوں میں چلا جاتا ہے، جنہیں اس امداد کی تقسیم کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ بلکہ اب تو بہت سے لوگ یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے کہ ہمارے ارباب اختیار سیلاب سے بچاؤ کے لئے اس لئے بھی منصوبہ بندی نہیں کرتے کہ جب بھی سیلاب سے تباہی پھیلتی ہے اور لاکھوں غریب لوگ بے گھر اور بے یارومددگار ہو جاتے ہیں تو اربوں روپے کی بیرونی امداد سے ہمارے ارباب اختیار کے ذاتی خزانے بھرتے ہیں اور ان کے وارے کے نیارے ہو جاتے ہیں۔
کرپشن ایسی دیمک ہے جو کسی بھی ملک اور معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے اور بدقسمتی سے یہ دیمک ہماری معاشرتی زندگی میں ایسے سرایت کر چکی ہے کہ اب اس سے چھٹکارہ پانا اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہو گیا ہے۔ کرپشن ایک ایسا عذاب ہے جو رفتہ رفتہ ملک کے عدالتی اور سیاسی نظام کو ہی نہیں بلکہ تعلیمی اور دفتری نظام کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ کرپشن قوموں کی زندگی کو برکت اور سکون سے محروم کر دیتی ہے۔ جن معاشروں کی رگوں میں کرپشن کا زہر پھیل جائے وہاں انصاف، رواداری، امن، مساوات، اصول پسندی اور قانون کی بالادستی کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ ایسے معاشروں میں بسے والے لوگوں کو افراتفری، حرص و ہوس، خودغرضی، مفادپرستی، اقرباپروری، منافقت اور ظلم کااندھیرا اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ ہمارا معاشرہ یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا معاشرتی نظام زوال کی جس سطح تک پہنچ گیا ہے کیا ہم اس سے نجات پا سکتے ہیں؟ سات سمندر پار بیٹھے اوورسیز پاکستانیوں کو اس پر بڑی تشویش ہے۔ معلوم نہیں پاکستان کے اندر رہنے والے ہم وطن اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ یا وہ یہ سب کچھ سہنے اور برداشت کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اور انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے ہر طرح کے ظلم اور زیادتی کو قسمت کا فیصلہ سمجھ کر اس کی جزاوسزا کو روز محشر پہ ٹال رکھا ہے۔
یہ اٹل حقیقت ہے کہ خدا نے اس قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلی جب تک اسے خود اپنی بدلنے کا خیال نہ آئے۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہماری کئی نسلیں ملک میں خوشحالی کے خواب دیکھتے دیکھتے رزق خاک ہو گئیں لیکن وطن عزیز کے حالات بہتر ہونے کی بجائے ابتر اور بد تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ کون ہے جو وسائل سے بھرپور ہمارے ملک کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے؟ گزرنے والے ستر پچھتر برسوں میں دنیا کے بہت سے بدحال ملک خوشحال ہو گئے۔ بہت سی مفلوک الحال اقوام ترقی یافتہ ہو گئیں۔ بہت سے زوال پذیر معاشرے مثالی معاشرے بن گئے۔ آخر ہمیں کس کی نظر لگ گئی ہے کہ ہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زوال کی دلدل میں دھنستے ہی چلے جا رہے ہیں۔ آئیے اس پر غور کریں۔ اپنے حالات کی تبدیلی کے لئے کسی دوسرے سے توقع لگانے کی بجائے خود اپنی تقدیر بدلنے کی جستجو کریں اور خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں۔