تاحیات نااہلی کا آرٹیکل 62 ون ایف کالا قانون ہے: چیف جسٹس

  • منگل 04 / اکتوبر / 2022

چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ تاحیات نااہلی کا آرٹیکل 62 ون ایف کالا قانون ہے۔ انہوں نے بات سابق سینیٹر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واڈا کی درخواست پر سماعت کے دوران دیے۔

فیصل واڈا نے جنوری میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نااہلی کے خلاف درخواست مسترد کرنے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ درخواست میں الیکشن کمیشن، قادر مندوخیل سمیت 5 افراد کو فریق بنایا گیا ہے۔ ‏عدالت عظمیٰ میں فیصل واڈا کی تاحیات نااہلی کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی رہنما فیصل واڈا کی تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو غلط بیان حلفی پر تحقیقات کا اختیار حاصل ہے، الیکشن کمیشن کے تاحیات نااہلی کے حکم کو کالعدم قرار دیں بھی تو حقائق تو وہی رہیں گے۔ الیکشن کمیشن نے فیصل واڈا کیس میں حقائق کا درست جائزہ لیا ہے۔ وکیل نثار کھوڑو نے مؤقف اپنایا کہ ‏اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں واضح کہا کہ فیصل واڈا نے دہری شہریت تسلیم کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ‏کیس میں سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن تاحیات نااہلی کا حکم دے سکتا ہے یا نہیں، ‏کیس کو تفصیل سے سنیں گے۔ تاحیات نااہلی کا آرٹیکل 62 ون ایف کالا قانون ہے، موجودہ کیس کو محتاط ہو کر تفصیل سے سنیں گے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وقت کی کمی کے باعث کیس کی سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ رواں سال 9 فروری کو الیکشن کمیشن نے سال 2018 کے انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہوئے جھوٹا حلف نامہ جمع کروانے پر فیصل واڈا کو آئین کے آرٹیکل 62 (ون) (ف) کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔ انہیں بطور رکن قومی اسمبلی حاصل کی گئی تنخواہ اور مراعات دو ماہ میں واپس کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ ای سی پی نے فیصل واڈا کے بطور سینیٹر منتخب ہونے کا نوٹی فکیشن بھی واپس لے لیا تھا جبکہ ان کی جانب سے بحیثیت رکن قومی اسمبلی، سینیٹ انتخابات میں ڈالے گئے ووٹ کو بھی غلط  قرار دیا گیا تھا۔