ٹرانس جینڈر ایکٹ: مذہبی یا انسانی حقوق کا معاملہ

ٹرانس جینڈر ( تحفظ حقوق ) ایکٹ مئی 2018 میں سوائے تین افراد کے پوری قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر پاس کیا۔ ہماری قوم میں کم ہی ایسے مواقع آئے ہیں جب اس نوع کا اتفاق رائے ہوا ہو۔

ورنہ بالعموم افتراق و انتشار ہی ہماری قسمت میں لکھ دیا گیا ہے۔ خوش قسمتی سے اگر پارلیمینٹ کسی ایشو پر یکسو یا متفق علیہ ہوئی تھی تو پارلیمینٹ کے باہر غیرمنتخب مذہبی فرقوں نے یہ سوچا کہ اس قوم میں کسی بھی ایشو پر افتراق کی بجائے اتحاد و اتفاق کیوں ہو۔ اگر پارلیمینٹ ایسے کر رہی ہے تو ہم کیوں نہ سٹریٹ پاور کے زور سے اسے تہس نہس کر دیں۔ اوراپنی طاقت منوائیں۔ ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ 2018 کے تمام اکیس کے اکیس پوائنٹ پڑھتے چلے جائیں، سوائے ایک مظلوم اور دھتکارے ہوئے طبقے کو تحفظ دینے کے کہیں کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے بنیاد بنا کر چائے کی پیالی میں طوفان اٹھایا جائے۔

پورے ایکٹ میں مرد کی مرد سے شادی کے حوالے سے کہیں کوئی ایک لفظ بھی نہیں ہے ۔ یہ قانون ٹرانس جینڈر افراد کو قانونی شناخت فراہم کرنے کے علاوہ ان کےساتھ روا رکھے گئے امتیازی سلوک اور ہراساں کئے جانے کے خلاف ایک نوع کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اور حکومت کو بھی کچھ ذمہ داریوں کے حوالے سے پابند کرتا ہے۔ مثلاً سرکاری دستاویزات، شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس یا پاسپورٹ وغیرہ میں تھرڈ چائس جیلوں یا حوالات میں مخصوص مقامات، پروٹیکشن سنٹرز، لوکل گورنمنٹ کی فلاحی ذمہ داری یا بھیک منگوانے میں رکاوٹ وغیرہ ۔  اسی طرح ایجوکیشن یا وراثت کے حصول کا حق، ملازمت کا حق، ووٹ اور پبلک اجتماع کا حق، صحت، پراپرٹی اور دیگر اس نوع کے بنیادی حقوق۔ دیکھا جائے تو یہ تمام وہ رسمی حقوق ہیں جو ہمارے آئین کے مطابق مملکت کے عام شہریوں کو بلاامتیاز حاصل ہیں۔ لیکن یہ ہمارے سماج کا ایسا دکھی طبقہ ہے جسے پیدائش سے لے کر مرنے تک مختلف النوع منافرتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے اس ایکٹ کی ضرورت قابل فہم ہے۔ یعنی بنیادی طور پر یہ کوئی مذہبی ایشو نہیں، بلکہ اول و آخر ایک پسے ہوئے طبقے کو انسان حقوق دلانے کی کاوش ہے ۔

شق 2کے مطابق ایشو ٹرانس جینڈر کی تشریح کا بنایا جا رہا ہے جس طرح ٹرانس جینڈر کا مطلب ہے جنس کی تبدیلی اسی طرح انٹرسیکس جینڈر پیدائشی طور پر وہ بچہ ہوتا ہے جو میل ہو نہ فی میل۔ بلکہ پیدائش کے وقت اس کی غیر واضح جنسی پہچان سے اسے مخنث یا ہیجڑا قرار دے دیا جاتا ہے۔ لیکن بڑے ہونے پر اس کی جسمانی ساخت میں کچھ تبدیلیاں آتی ہیں تو اس کے کروموسومز کی مطابقت میں ابنارمیلٹی کے جھکاؤ کا تعین کیا جاسکتا ہے ۔ جہاں تک ٹرانس جینڈر افراد کا معاملہ ہے یہ بظاہر یا بائیولوجیکلی ایک مرد یا ایک عورت کی طرح ہی ہوتے ہیں البتہ ان کے میلانات یا جنسی رجحانات مختلف النوع ہو سکتے ہیں۔ یہ بائیو سیکسل بھی ہوسکتے ہیں، گے اور لزبن بھی۔ زیادہ تر کیسز میں میڈیکل ٹیسٹ کے ذریعے ان کے جنسی میلان یا رجحان کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر ایک مرد نظر آنے والے شخص کا اگر میڈیکل کیا جائے تو وہ ایک مرد ہی ثابت ہوگا لیکن اس کے اندرونی احساسات عورت والے ہوں گے جو اسے عورت کی طرف نہیں مرد کی طرف راغب کریں گے۔ یا مثال کے طور پر کسی حادثے یا بیماری میں اس کے میل آرگن کٹ گئے ہیں یا ناکارہ ہو گئے ہیں یا جس طرح ہمارے دیہات میں جانو روں کو خصی بنا دیا جاتا ہے جس سے وہ جنسی عمل کے قابل نہیں رہتے۔ لیکن ایسی صورت میں بھی ان کے اندرونی رجحانات میل والے ہی رہیں گے۔ میل آرگنز ناکارہ ہونے کے باوجود ان کی کشش فی میل میں رہے گی۔ حالانکہ وہ میل کا رول کر نہیں سکتے۔ یا ایک عورت ہے میڈیکل ٹیسٹ میں بھی وہ عورت ہی ثابت ہوتی ہے مگر اس کے اندرونی میلانات فطری و جبلی ہارمونز کی بدولت مردوں والے ہیں۔ بظاہر عورت ہوتے ہوئے بھی اس کیلئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ مردوں میں کشش محسوس کرے۔

کسی کی کیا مجال ہے کہ وہ مدارس کے ماحول کا پوسٹ مارٹم کرے لیکن مسئلہ انسانی تخلیق میں کجی یا کوتاہی کا ہے جو کسی انسان کی جبلت میں پیوست ہے۔ کیا اس پیدائشی محرومی کی سزا تاحیات اسے ملنی چاہئے جس میں اس کا بال برابر قصور نہیں؟ کامل مرد اور کامل عورت کی طرح کیا یہ اس بدقسمت کا بنیادی انسانی حق نہیں ہے کہ وہ اپنی جبلت، جنسی و صنفی رجحان و میلان کی مطابقت میں نادرا کے دفتر جائے اور اپنا اندراج خواجہ سرا کے خانے میں کروائے۔ یہاں پورے ٹرانس جینڈر ایکٹ میں کہیں میرج کا کوئی ذکر ہے۔ یہ کون سا نشان امتیاز ہے جو اس غریب نے خود کو خواجہ سرا لکھوا کر حاصل کرلینا ہے؟ اپنی خوشی یا مرضی سے جینا ہر انسان کا بنیادی فطری حق ہے ۔ خدا کے بندو سوسائٹی کے ٹھکرائے ہوئے بیماری و محرومی کے شکار ان بدنصیب انسانوں کا یوں تمسخر نہ اڑاؤ، انہیں اسلامی اور غیر اسلامی کے روڑے اور پتھر نہ مارو۔ اگر ان دکھی لوگوں سے ہمدردی نہیں کر سکتے ہو تو یوں نشانہ تضحیک بناتے ہوئے انہیں ہرٹ بھی نہ کرو۔

یہاں معترض صاحبان کی خدمت میں سوال ہے کہ اگر کوئی شخص بظاہر جبے عمامے اور داڑھی کے ساتھ مساجد میں نمازیں پڑھ رہا ہو مگر وہ ملحد ہو یا اس کے سینے میں ایمان کی رتی نہ ہو تو محض ظاہری حلیے کی بنیاد پر تم اس کے صاحب ایمان ہونے کی قسم کھاؤ گے یا اسے منافق تسلیم کرتے ہوئے چاہو گے کہ وہ اس ظاہری دینی ریا کاری کی بجائے واپس اپنی قوم الکافرین میں چلا جائے ۔ لازم تو نہیں جو بظاہر جیسا دکھتا ہے حقیقت میں بھی ویسا ہی ہو۔ اگر کوئی شخص بظاہر عورت ہے لیکن اندرونی رجحان و میلان میں جبلی طور پر مردانہ کروموسومز کا حامل ہے اور مردوں جیسے کپڑے بھی پہننا پسند کرتا ہے تو تم کیوں جبری طور پر اسے مجبور کرنے پر مصر ہو کہ نہیں تم جعلی طور پر اپنے ظاہر کی مطابقت میں عورتوں کی طرح بن کر رہو۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہو کہ کوئی حقیقت میں مرد ہے اس کا اندرونی رجحان بھی مردوں والا ہے لیکن وہ دھوکہ دیتے ہوئے عورت بنا ہوا ہے تو ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچو کہ کسی بھی مرد کیلئے عورت کا روپ دھارنا کون سے فخر کی بات ہے؟ یا یہ کون سا کریڈٹ ہے؟

رہ گیا خدائی فیصلے پر ناخوش ہونے کا سوال ، آپ کی داڑھی اگر سفید ہو جاتی ہے تو اس خدائی فیصلے کو قبول کرنے کی بجائے اسے کیوں رنگتے ہو؟ تمہاری آنکھوں میں خدائی فیصلے کے مطابق موتیا اتر آتا ہے تو اسے قبول کرنے کی بجائے آپریشن کیوں کرواتے ہو؟ اس دنیا میں سینکڑوں ایشوز ہیں انسانوں کے کس قدر غم اور دکھ ہیں لوگ بھوکوں اور بیماریوں سے مر رہے ہیں۔ آپ اپنی سیاست کسی اور مسئلے میں چمکا لو، ٹرانس جینڈر کو اگر ایک معمولی نوعیت کا رائیٹ آف سیلف ڈیٹر مینیشن مل رہا ہے تو یہ اس کی زندگی یا بنیادی انسانی حق کا ایشو ہے، آپ کی نکسیر کیوں پھوٹ رہی ہے ؟ دوسروں کی راہوں میں کانٹے بچھانے کی بجائے جائیں اور اپنا کام کریں نظریاتی کونسل پروپیگنڈے کے زیر اثر یوٹرن نہ لے اور فیڈرل شریعت کورٹ کا حق نہیں کہ وہ منتخب پارلیمینٹ کے بالمقابل کھڑی ہو۔

 سچ تو یہ ہے کہ یہ دونوں لاحاصل ادارے ختم ہونے چاہئیں اگر ان کی آرا یا فیصلوں میں وزن ہے تو حکومت کرے۔ سود کا خاتمہ جو کہ ناممکن ہے لہٰذا ان معترضین کا سارا نزلہ سیلاب کی طرح ٹرانس جینڈر جیسے کمزور طبقات پر گرتا ہے۔